Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

کراچی شہر میں نصب تاریخی مجسمے اس وقت کہاں ہیں؟

By Akhtar Rasool
جولائی 12, 2022 4 Min Read
0

یہ کہانی سمندر کنارے آباد ایک شہر کے ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس شہر کو مچھیروں کی بستی سے خطے کی ایک اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز میں تبدیل کیا

یہ لوگ کئی صدیوں کے باسی تھے۔ جس صدی اور جس دہائی میں اس شہر سے محبت کرنے والا کوئی درد مند آیا اس نے اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالا اور اس کو آج کا ایک جدید شہر بنایا۔ آج کا جدید شہر کراچی۔
یہ اور بات ہے کہ ان کے بعد آنے والوں نے نہ صرف اس شہر سے ایسی ستم آرائی برتی کہ اس کی جدیدت دھندلا گئی اور یہ پسماندگی کی مثال پیش کرنے لگا، بلکہ انہوں نے ان لوگوں کو بھی بھلا دیا جنہوں نے اس بستی کو کراچی شہر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا

وقت گزرنے کے ساتھ جہاں شہر کا نقشہ بدلا، حالات بدلے، وہیں جذبات بھی بدل گیے۔ اس شہر کو بنانے والوں کی قدر کرنا تو ایک طرف یہاں موجود ان کی باقیات کو بھی مٹا دیا گیا

تقسیم ہند سے پہلے والے کراچی کے اہم مقامات پر شہر کی ترقی میں کردار ادا کرنے والوں کی متعدد یادگاریں موجود تھیں۔ کہیں ان کے نام سے شاہراہیں تھی تو کہیں مجسمے نصب تھے، کہیں چوک، کہیں چوراہے اور کہیں پارک۔ لیکن اب ان میں سے بہت سارے غائب ہو گئے ہیں

کراچی کےسابق ایڈمنسٹریٹر فیہم الزماں صدیقی پرانے دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’کراچی کے فریئر ہال میں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ نصب تھا، کانگریس کے مشہور رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کا مجسمہ کبوتر چوک پر نصب تھا، شہر میں پہلی بار بجلی لانے والے سیٹھ ہر چند رائے وشن داس کی یاد میں کراچی میونسپلٹی کمپاؤنڈ میں ان کا مجسمہ لگایا گیا تھا۔ حقانی چوک کبھی گاندھی چوک ہوا کرتا تھا، کراچی میں صحت و تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کرنے والے ایڈلجی ڈنشا اور ان کے بیٹے نادر شاہ ایڈلجی ڈنشا کی یادگاریں بھی ہوا کرتی تھیں‘

لیکن شہر میں اب صرف دو شخصیات کے مجسمے رہ گئے ہیں، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے مجسمے

کراچی کی تاریخ پر کئی کتابیں لکھنے والے اختر بلوچ بتاتے ہیں کہ یہ مجسمے، جو شہر کی خوبصورتی میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے، مختلف وجوہات کی بنا پر اکھاڑ کر مختلف عمارتوں کے گوداموں میں رکھ دیے گئے ہیں۔
’ملکہ برطانیہ کا یادگاری مجسمہ جو کبھی فریئر ہال پر نصب تھا اب ایک ٹوٹے ہاتھ اور ناک کے ساتھ موہٹا پیلس کے زیر تعمیر حصے میں رکھا ہوا ہے، ایڈلجی ڈنشا اور ان کے بیٹے نادر شاہ ایڈلجی ڈنشا کا مجسمہ آج کی مشہور سڑک شاہراہ فیصل میٹرپول پر ہوا کرتا تھا۔ وہ سڑک تقسیم ہند سے قبل وکٹوریہ روڈ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اب اس سڑک کا نام عبداللہ ہارون روڈ ہے۔ نادر شاہ ایڈلجی ڈنشا کا مجسمہ جہاں تھا، اس مقام پر ایک مینار بنایا گیا ہے جس پر ایک گھڑیال نصب ہے۔ جبکہ ان کے مجسمے اب پارسی کلب کراچی میں نصب ہیں جو کچھ بہتر حالت میں ہیں‘

اختر بلوچ بتاتے ہیں کہ ’گاندھی چوک پر لگے گاندھی جی کے مجسمے کا کسی کو علم نہیں، اس کے علاوہ ہرچند رائے وشن داس کے مجسمے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ٹوٹی گردن کے ساتھ ان کا مجسمہ موہٹا پیلس میں موجود ہے‘

اختر بلوچ کی نشاندہی پر اردو نیوز نے موہٹا پیلس بورڈ سے رابطہ کیا اور کراچی کے اس تاریخی ورثے کی حالت جاننے کی کوشش کی۔ تاہم بورڈ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا

موہٹا پیلس کی ذمہ دار فریحہ ننجیانی نے اردو نیوز کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملکہ وکٹوریہ سمیت دیگر نامور شخصیات کے مجسمے موہٹا پیلس میں موجود ہیں لیکن وہ دکھائے نہیں جاسکتے۔ ان مجسموں کو احتیاط سے رکھا گیا ہے

فہیم الزماں کا کہنا ہے کہ سال 1958 سے 1961 کے درمیان شہر میں مذہبی ہنگامے ہوئے اور شہر میں نصب مجسموں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے میونسپل انتظامیہ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ان خراب حال مجسموں کو کے ایم سی کی لارنس روڈ پر واقع ایک ورکشاپ میں چھپا دیا تھا

’میں نے اپنے دور میں ان مجسموں کو نکلوا کر موہٹا پیلس میں رکھا۔ سٹی حکومت کی مانگ پر کچھ مجسمے واپس کیے گئے ہیں۔ مجسمے اصل حالت میں نہیں تھے ان میں ٹوٹ پھوٹ ہو گئی تھی۔ اسی حالت میں یہ وہاں رکھے گئے ہیں۔‘

اختر بلوچ کا کہنا ہے کہ کراچی کے تاریخی مقامات کی اگر دیکھ بھال کی جاتی اور ان مجسموں کو محفوظ کیا جاتا تو آج دنیا بھر میں یہ پاکستان کے مثبت چہرے کے طور پر پیش کیے جا سکتے تھے

بشکریہ: اردو نیوز (سعودی ریسرچ اینڈ پبلشنگ کمپنی)

Tags:

British PeriodBritish Rajhistorical statuesKarachi
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

دوست کو بھی اپنی زندگی جینے دیں

Next

’ائیر لفٹ‘ کا پاکستان میں سروس بند کرنے کا اعلان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme