Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

کسی مجبور وزیرِ اعظم نے کبھی استعفیٰ دیا؟

By Akhtar Rasool
اکتوبر 16, 2022 3 Min Read
0

پچھتر برس سے سنتے سنتے کان جھڑ گئے کہ پاکستان میں اب تک کوئی بھی وزیرِاعظم اپنی آئینی مدتِ اقتدار پوری نہیں کر پایا۔ ہر وزیرِاعظم انتحابی یا نامزدگیانہ رسم سے گزر کے جب پہلے دن کرسی پر بیٹھتا ہے تو اس سے زیادہ اہل، جانفشاں، زیرک، ذہین اور ملک کو بیک بینی و دو گوش مسائل کی دلدل سے نکالنے کی صلاحیت رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

اور جب اسے کسی بھی آئینی یا بالائے آئین حربے سے چلتا کیا جاتا ہے تو اس سے زیادہ نااہل، کرپٹ اور معیشت و نظام کی لٹیا ڈبونے والا کوئی اور نہیں ہوتا۔

ریاست کا وہی پبلسٹی اور مارکیٹنگ ونگ جو ہر نئے وزیراعظم کو ارسطوِ سے بھی سوا درجے اوپر کا ثابت کرتا ہے۔ تین سے چار برس بعد اسی ارسطوِ کی قانونی و غیر قانونی معزولی کے سمے اسے شیطان کا خالو قرار دینے میں لمحے بھر کی دیر نہیں لگاتا۔

اکیسویں صدی کی سائنس بھی اس سوال کے جواب میں بغلیں جھانک رہی ہے کہ ’آئن سٹائن کے لیول کا دماغ‘ صرف تین سے چار برس وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھے بیٹھے کیسے چغد قرار پا جاتا ہے؟ اس کا بظاہر مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ یا تو اسے کرسی پر بٹھاتے ہوئے جھوٹ بولا گیا یا پھر ہٹاتے ہوئے سچ نہیں بتایا گیا۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ دونوں بار سچ ہی بولا گیا تو ایسا کیوں ہے کہ جسے پہلی بار کرپٹ، نااہل اور کامن سینس سے عاری قرار دے کر معزول کیا گیا اسے چند برس کے وقفے کے بعد دوبارہ اسی کرسی پر بٹھا دیا گیا اور پھر نااہل و سازشی وغیرہ وغیرہ قرار دے کر ہٹا دیا گیا اور پھر ایمان دار فرض کر کے تیسری بار اقتدار تھما دیا گیا اور پھر چھین لیا گیا اور پھر بلاواسطہ انداز میں سونپ دیا گیا۔

نااہل سے اہل پھر نااہل پھر اہل پھر۔۔۔ یہ تو گنیز بُک میں درج ورلڈ ریکارڈز سے بھی اوپر کا معجزہ ہو گیا۔ اتنی بار تو غریب حسرت موہانی کو بھی جنوں کا نام خرد اور خرد کا نام جنوں رکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔

اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ اقتدار دینے اور لینے والا کوئی اور ہے اور عام انتخابات کی مشق اور عوامی طاقت کا احترام تیسرے درجے کے ڈرامے میں ڈالے گئے بے جان مناظر کے سوا عملاً کچھ نہیں۔

م یہ مرثیہ تو سنتے ہیں کہ مجھے کرسی پر بٹھایا تو گیا مگر میرے ہاتھ پاؤں بندھے تھے اور جب میں نے انھیں ڈھیلا کرنے کی کوشش کی تو مجھے ڈنڈا ڈولی کر دیا گیا مگر یہ بات تب ہی کیوں پتا چلتی ہے جب اٹھا کے باہر کر دیا جائے۔

ہر وزیراعظم ناطاقتی و بے اختیاری کا اتیاچار مسلسل سہنے کے باوجود آخری گھنٹے تک آخر کس امید پر اپنی لولی کرسی کے ہتھے پکڑے رہتا ہے؟ اسے کیوں یقین ہوتا ہے کہ جو پچھلوں کے ساتھ ہوا وہ اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ کرسی سمیت محل کے باہر فٹ پاتھ پر نہ رکھ دیا جائے۔

یا تو وہ اس ادھاری عرصے میں اپنی تصوراتی بااختیار جنت میں مست رہتا ہے۔ عین ممکن ہے دماغ مسلسل کچکوکے لگاتا رہتا ہو کہ عہدے کا چپکا ہوا ٹیگ بھی اتار پھینک مگر دل کمینہ احتجاجاً استعفیٰ دے کر باہر نکلنے سے روکے رکھتا ہے۔ یا پھر اس کرسی گیر کو لگتا ہو گا کہ اگر جراتِ رندانہ سے کام لینے کا خطرہ مول لے لیا تو آگے کا ایک فیصد چانس بھی کہیں مارا نہ جائے۔

اسی لیے ہم نے آج تک سابق وزرائے اعظم کا رونا گانا تو خوب سنا مگر پچھلی ساڑھے سات دہائیوں میں ایک بھی مثال ایسی نہیں کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی لاچار کرسی کو لات مارتے ہوئے نعرہِ مستانہ بلند کیا ہو کہ جہنم میں جائے تمھاری خیراتی سرپرستی۔ میں اب تب ہی لوٹوں گا جب عوام اپنے کندھے پر بٹھا کے خود اس محل کی چوکھٹ پر اتاریں گے۔

اب تو مجھے اکثر لگنے لگا ہے کہ کسی بھی سیاستدان کو عوام اور جمہوری طاقت پر اتنا بھی یقین نہیں رہا جتنا عہدِ حاضر کے مولوی کو خدا پر ہے۔ عوامی طاقت آج محض تاش کا وہ اکا ہے جسے دکھا کے پاور کیسینو میں اپنی سودے باز حیثیت جتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

چنانچہ کسی کو بھی اب کسی کا دیوانہ بننے یا زیادہ سنجیدہ لینے یا منھ سے جھاگ نکالنے یا ایک ٹانگ پر ناچنے کی ضرورت نہیں۔

یہ پالٹیکس نہیں پالیٹینمنٹ ہے۔ بس مفت کا سرکس دیکھیے اور ’انجوائز ‘ لیجیے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

 

Tags:

CircusPakistanPakistani PoliticsPoliticians
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

حکومت کرنے والی درجن بھر جماعتیں ووٹ اور نمائندگی سے منہ کیوں موڑ رہی ہیں؟

Next

ضمنی انتخابات: عمران خان کی ریکارڈ جیت، انہیں صرف عبدالحکیم بلوچ ہی ہرا سکے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme