اب اصل مدعے پہ آ جائیں!
یا اللہ ترا شکر کہ سیاسی ہلچل کو کچھ قرار آیا۔ گذشتہ دو ماہ سے قوم نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پہ سانس روکے ایک ٹانگ پہ کھڑی تھی، لگ بھگ عام انتخابات جیسا ہی ماحول بن گیا تھا۔ بہرحال خوبی یہ ہوئی کہ 2022 کے ختم ہونے سے پہلے پہلے یہ تعیناتی…
غیر سیاسی ہونا بچوں کا کھیل نہیں
فوج نے خود کو صرف سیاسی معاملات میں ہی نہیں بلکہ اقتصادی، داخلہ اور خارجہ معاملات میں بھی خاصا ملوث کر لیا ہے۔ ان کانٹوں سے مرحلہ وار احتیاط کے ساتھ ہی دامن چھڑانا پڑے گا۔ ورنہ دامن پھٹ بھی سکتا ہے ”میں کافی سالوں سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ دنیا…
پاکستان کے آرمی چیفس کے دلچسپ حقائق: کوئی فقط ڈھائی ماہ عہدے پر رہا تو کوئی فوجی سربراہ بنتے ہی گرفتار ہوا
پاکستان میں بری فوج کے سربراہ کی تعیناتی کتنی اہمیت رکھتی ہے، اس کا اندازہ اس معاملے سے جڑی بحث اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے جو تقریباً گذشتہ ایک سال سے دیے جا رہے ہیں بری فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے متبادل کی تعیناتی…
اپنے سمدھی کو گورنر بنانے پر مولانا فضل الرحمان تنقید کی زد میں
پاکستان میں موروثی سیاست کو فروغ دینے پر نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی تو ہمیشہ سے ہی تنقید کی زد میں رہی ہیں لیکن اب حکومت میں ان جماعتوں کی اتحادی جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی اقربا پروری کے الزامات کا سامنا ہے واضح رہے…
اگلا کون ہے بھئیا؟
قمر جاوید باجوہ کو تو سب جانتے ہیں مگر کتنے عام پاکستانی شہری فضائیہ اور بحریہ کے موجودہ سربراہوں یا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے فور اسٹار چیئرمین یا چیف آف آرمی اسٹاف کے باس سیکریٹری دفاع یا سیکریٹری دفاع کے باس وزیرِ دفاع کا نام جانتے ہیں؟ کون کون…
ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟
پاکستان میں کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ لڑائی میں پیپلز پارٹی کا ’غیر معمولی محتاط طرز عمل‘ بہت نمایاں ہے واضح رہے کہ پاکستان میں کثیرالجماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو…
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔۔
سیاست کہنے کو تو یونانی زبان کے سادہ سے لفظ "پولیٹکا” لغوی معنی "شہری معاملات” سے ماخوذ ہے لیکن ذرا تفصیل میں جائیں تو سیاسیات کا تعلق اجتماعی فیصلہ سازی اور معاشرے میں طاقت و اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اختیارات کی اس تقسیم میں…
بات اگر واوڈا تک آ گئی ہے تو پھر صلح کر لیں
فوج کے مؤقف، خیالات و جذبات کی ترجمانی کے لیے شعبہِ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) سنہ 1949 سے موجود ہے جس شعبے کو ماضی میں ایک کرنل یا بریگیڈیئر باآسانی سنبھال لیتا تھا، اسے اب ایک تھری اسٹار لیفٹیننٹ جنرل کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ آئی ایس پی آر اب ایک…