Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

کووڈ ویکسین بنانے والی کمپنیاں فی سیکنڈ ایک ہزار ڈالر کما رہی ہیں!

By Akhtar Rasool
نومبر 18, 2021 3 Min Read
0

امیر ملکوں کو کووڈ ویکسین فروخت کرنے سے صرف تین کمپنیوں کو یومیہ 93.5 ملین ڈالر کی آمدن ہو رہی ہے، جبکہ دوسری طرف غریب ملکوں میں صرف دو فیصد لوگوں کو ہی ویکسین کی دونوں خوراکیں مل سکی ہیں

کووڈ ویکسین کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے مہم چلانے والی تنظیموں کے اتحاد پیپلز ویکسین الائنس (پی وی اے) نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں بتایا ہے کہ کووڈ-19 کی ویکسین تیار کرنے والی صرف تین کمپنیاں فائزر، بایو این ٹیک اورموڈرنا اپنی ویکسین امیر ملکوں کو فروخت کرکے مجموعی طور پر فی منٹ 65 ہزار ڈالر کے حساب سے دولت سمیٹ رہی ہیں، جبکہ دنیا کے غریب ترین ملکوں میں بیشتر افراد اب تک ویکسین سے محروم ہیں

پی وی اے کے مطابق یہ تجزیہ خود ان کمپنیوں کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹوں پر مبنی ہے

پی وی اے کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو اربوں ڈالر کی سرکاری فنڈنگ بھی ملی ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ویکسین تیار کرنے کا فارمولہ، تکنیک اور دیگر معلومات غریب ملکوں کی کمپنیوں کو دینے سے انکار کر دیا ہے

پی وی اے کے اندازے کے مطابق مذکورہ تینوں کمپنیاں اس سال 34 ارب ڈالر کا بھاری منافع کمائیں گی، جو کہ فی سیکنڈ ایک ہزار ڈالر، فی منٹ پینسٹھ ہزار ڈالر اور یومیہ 93.5 ملین ڈالر کے قریب بنتا ہے

پی وی اے افریقہ اور افریقن الائنس کی کوآرڈینیٹر مازا صیوم کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ صرف چند ایک کمپنیاں ہر گھنٹے لاکھوں ڈالر منافع کما رہی ہیں، جبکہ کم آمدن والے ملکوں کے صرف دو فیصد لوگوں کو ہی پوری طرح ویکسین میسر ہوسکی ہے

انہوں نے کہا فائزر، بایو این ٹیک اور موڈرنا نے اپنی اجارہ داری کا استعمال کرتے ہوئے دولت مند حکومتوں سے انتہائی منفعت بخش معاہدے کیے اور کم آمدنی والے ملکوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا

پی وی اے کا کہنا ہے کہ فائزر اور بایو این ٹیک نے اپنی مجموعی سپلائی کے ایک فیصد سے بھی کم جبکہ موڈرنا نے صرف 0.2 فیصد ویکسین کم آمدن والے ملکوں کو سپلائی کیا

کم آمدن والے 98 فیصد افراد کو ابھی تک ویکسین کے دونوں ڈوز نہیں لگائے جاسکے ہیں

اطلاعات ہیں کہ ان کمپنیوں کی دولت سمیٹنے کی ہوس کی دیکھا دیکھی، اب دو دیگر کمپنیاں آسٹرازینکا اور جانسن اینڈ جانسن بھی غیر منافع کی بنیاد پر ویکسین فروخت کرنے کی پالیسی ترک کر کے بہتی گنگا میں غوطہ لگانے کی تیاری کر رہی ہیں

پی وی اے کا کہنا ہے کہ آٹھ ارب ڈالر سے بھی زیادہ سرکاری فنڈ حاصل کرنے کے باوجود فائزر، بایو این ٹیک اور موڈرنا نے ویکسین ٹیکنالوجی کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں کو منتقل کرنے کی عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی درخواست ٹھکرا دی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے سے عالمی سپلائی میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی ہوسکتی تھی جس سے لاکھوں زندگیوں کو بچایا جا سکتا تھا

واضح رہے کہ ایشیا اور افریقہ کے سو سے زیادہ ترقی پذیر اور غریب ملکوں نے مطالبہ کیا تھا کہ کووڈ ویکسین کو پیٹنٹ ضابطوں سے آزاد کیا جائے، تاکہ تمام ملک اپنی ضرورت کے لحاظ سے ویکسین تیار کرسکیں۔ اس مطالبے کی سب سے شدید مخالفت جرمنی اور برطانیہ نے کی

پی وی اے ایک طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ویکسین کو پیٹنٹ سے آزاد ہونا چاہئے۔ اس اتحاد میں آکسفیم، یو این ایڈس اور افریقن الائنس سمیت تقریباً اَسی اراکین شامل ہیں

دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں کورونا کے جتنے مریض ہیں ان میں سے 99.5 فیصد ڈیلٹا ویرینٹ سے متاثر ہیں

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے اس قسم نے بقیہ تمام اقسام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جنوبی امریکا ہی ایسا خطہ ہے جہاں گاما، لیمڈا اور مو ویرینٹ کے زیادہ کیسز موجود ہیں

عالمی صحت تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا میں اگلے برس فروری تک پانچ لاکھ لوگوں کی موت ہوسکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے یورپی ڈائریکٹر نے کہا کہ یورپ اور وسطی ایشیا ایک بار پھر کووڈ-19 کا مرکز بن گئے ہیں اور یکم فروری تک مزید لاکھوں افراد کی موت ہوسکتی ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

امریکا میں منشیات کے ‘اوور ڈوز’ سے سال بھر میں ایک لاکھ سے زائد اموات

Next

ناظم جوکھیو قتل کیس میں نیا موڑ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme