Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

کیا روس یوکرین تنازع عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے؟

By Akhtar Rasool
فروری 24, 2022 4 Min Read
0

کراچی – یوکرین روس تنازع بڑھتے بڑھتے جنگ کے دہانے پہنچ چکا ہے، ان حالات میں ہر ذہن میں یہی سوال ہے کہ کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی ابتدا دیکھ رہے ہیں؟

روس کی یوکرین میں حالیہ کارروائیاں، روسی رہنماؤں کے بیانات اور مغربی رہنماؤں کے جوابی بیانات اور روس پر پابندیوں کے اعلانات سے تو یہی تاثر ملتا ہے

لیکن اس کا جواب نفی میں ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان حالات خواہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں لیکن یہ براہ راست نیٹو اور روس کا جھگڑا نہیں ہے

درحقیقت جب امریکہ اور برطانیہ نے روس کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو یوکرین کی سرحد پر لانے کا عمل دیکھا تو اس پر مایوسی ظاہر کی اور دونوں ملکوں نے یوکرین میں موجود اپنے فوجی تربیت کاروں اور مشیروں کو فوراً وہاں سے نکال لیا

امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ماہ کے ابتد میں کہا تھا کہ ’عالمی جنگ تب ہو گی جب امریکی اور روسی فوجی ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے ہوں گے۔‘

صدر بائیڈن نے واضح طور پر کہا تھا کہ یوکرین میں صورتحال جیسی بھی ہو وہ امریکی فوجیوں کو یوکرین کی سرزمین پر تعینات نہیں کریں گے

ایسی صورت میں آپ کو کتنا پریشان ہونا چاہیے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کون ہیں، کہاں ہیں اور روس کا اگلا قدم کیا ہو گا؟

اگر آپ یوکرینی فوجی ہیں اور ملک کی مشرقی سرحد پر تعینات ہیں تو آپ یقیناً ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ اسی طرح لاکھوں یوکرینی باشندوں کو بھی پریشانی لاحق ہے کہ یہ بحران ان کی زندگیوں کو کیسے متاثر کر سکتا ہے

روس یوکرین میں کہاں تک اپنی افواج کو بھیجنا چاہتا ہے، اس کا علم تو صدر پوتن اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ہی ہو گا۔ لیکن نیٹو اور دوسرے مغربی ممالک کے لیے سرخ لکیر وہ ہو گی جب نیٹو ممالک کو روس سے خطرہ محسوس ہو گا

نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کے تحت اگر کسی رکن ریاست پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو نیٹو کے تمام ممالک کو اس کے دفاع کے لیے آنا ہوگا

اگرچہ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کا حصہ بننا چاہتا ہے لیکن وہ ابھی تک نیٹو اتحاد کا حصہ نہیں ہے اور صدر پوتن یوکرین کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کے سخت مخالف ہیں

البتہ چار ایسی ریاستیں نیٹو اتحاد میں شامل ہو چکی ہیں جو ماضی میں سوویت یونین کے وقت ماسکو کے دائرہ اثر میں تھیں۔ ان میں پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھونیا شامل ہیں

ماضی میں ماسکو کے دائرہ اثر میں رہنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین تک محدود نہیں رہے گا اور وہ ان ممالک میں بسنے والے روسی نسل کے باشندوں کی مدد کے بہانے ان پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے

اسی وجہ سے نیٹو نے حالیہ دنوں میں بالٹک ریاستوں میں اضافی فوجی تعینات کیے ہیں

جب تک روس اور نیٹو اتحاد کا براہ راست ٹکراؤ نہیں ہوتا تب تک پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، خواہ یوکرین میں حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، عالمی جنگ کا کوئی خطرہ نہیں

لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ روس اور امریکہ کے پاس آٹھ ہزار قابلِ استعمال جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے۔ لہٰذا خطرات بہت زیادہ ہیں۔

سرد جنگ کے زمانے میں استعمال ہونے والا لفظ ‘میڈ’ (Mutually Assured Destruction) یعنی جوہری ہتھیار کو پہلے استعمال کرنے والا اور جس پر جوہری ہتھیار استعمال ہوا ہو، دونوں کی مکمل تباہی یقینی ہے، کا اصول آج بھی لاگو ہوتا ہے

برطانوی فوج کے سینیئر ذرائع کے مطابق صدر پوتن نیٹو پر حملہ نہیں کریں گے اور یہ کہ وہ صرف یوکرین کو بیلاروس کی طرح ایک اطاعت گزار ریاست بنانا چاہتے ہیں

لیکن اس تناظر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ صدر پوتن کیا سوچ رہے ہیں؟

عام طور پر صدر پوتن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ والے شطرنج اور جوڈو کے کھلاڑی ہیں لیکن سوموار کے روز کی تقریر سے وہ ایک شاطر منصوبہ ساز سے زیادہ ایک بپھرے ہوئے ڈکٹیٹر محسوس ہوئے ہیں

صدر پوتن نے نیٹو کو ایک ’برائی‘ قرار دیتے ہوئے دراصل یوکرین کو بتایا ہے کہ اس کے پاس روس سے علیحدہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے وجود کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ سوچ پریشان کُن ہے

برطانیہ وہ واحد ملک نہیں ہے جو روس کو سزا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اور جرمنی اس سے ایک قدم آگے نکل گئے ہیں

جرمنی نے روس سے آنے والی نارڈ سٹریم 2 گیس پائپ لائن منصوبے کی منظوری کے عمل کو التوا میں ڈال دیا ہے۔ لیکن برطانیہ روس پر پابندیاں لگانے پر زور دینے میں پیش پیش ہے

روس بھی کسی نہ کسی انداز میں یقیناً جواب دے گا۔ روس میں مغربی ممالک کے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں لیکن اگر صدر پوتن فیصلہ کریں تو روس اس سے بہت آگے جا سکتا ہے

نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر ’انتقامی‘ سائبر حملوں کے خطرے سے خبردار کر چکا ہے

یہ حملے جن کا کسی کو مورد الزام ٹھہرانا مشکل ہوتا ہے، ان میں بینکوں، کاروبار، افراد اور اہم انفراسٹرکیچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے برطانیہ اور روس کے تعلقات برسوں سے خراب چلے آ رہے ہیں جس کی وجوہات میں برطانوی سرزمین پر روس سے منحرف ہونے والے روسی شہریوں کو زہر دینا شامل ہے۔ اب روس اور برطانیہ میں اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے

اور اس پس منظر میں کھلے عام ایسے الزامات کہ یوکرین کے بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ ایک ایسا عمل ہے، جسے انتہائی خطرناک کہا جا سکتا ہے.

Tags:

RussiaUkraineWorld War 3
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارتی سپریم کورٹ کا "گنگو بائی کاٹھیا واڑی”کا نام تبدیل کرنے کا مشورہ

Next

نور مقدم قتل کیس: والدین بری، ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی گئی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme