Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کیا فری ٹوئٹر ختم ہونے والا ہے؟ ایلون مسک کیا ارادے رکھتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
مئی 3, 2022 5 Min Read
0

ایلون مسک کے الفاظ میں ٹوئٹر ‘حقیقی عوامی ٹاؤن اسکوائر ہے’۔ تو کیا ٹوئٹر صارفین کو اب اس بارے میں گھبرانے کی اجازت ہے کہ یہ عوامی ٹاؤن اسکوائر دنیا کے امیر ترین شخص کی ملکیت ہوگیا ہے

ٹوئٹر کی فروخت کے آزادی اظہار سے متعلق لوگوں کے خیالات، مباحث اور اشاعتی پلیٹ فارمز کی طاقتور مالکان سے آزادی پر اہم اثرات مرتب ہوں گے

اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اخبار مالکان کو ادارتی آزادی کو کنٹرول نہیں کرنا چاہیے۔ ٹوئٹر کے معاملے میں دیکھا جائے تو یہاں کوئی ادارتی بورڈ نہیں ہے اور ہر کوئی اپنی رائے رکھتا ہے۔ ایلون مسک کے آٹھ کروڑ فالورز ہیں اور وہ بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں

مختلف حلقوں کا خیال ہے کہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر خریدے جانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اب سنسر نہیں کیا جائے گا۔ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی نظریے کی ترویج یا تضحیک کرسکتے ہیں۔ یہ ساکھ کا مسئلہ ہے اور اگر ٹوئٹر کی پالیسیوں کو مشکوک انداز میں نافذ کیا جائے تو سچائی کے ساتھ ایلون مسک کے اعلان کردہ ‘پیتھالوجیکل’ جنون پر اعتبار کرنا مشکل ہوجاتا ہے

اعتدال پسند حلقوں کی سوچ یہ ہے کہ ایلون مسک کو جانچ پڑتال کا سامنا کرتے رہنا چاہیے اور ان کی جانب سے ٹوئٹر خریدے جانے سے یہ مفروضہ جنم نہیں لینا چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کریں گے۔ ان کی جانب سے ٹوئٹر کے کچھ ملازمین کو نشانہ بنانا ان کے بُرے رویے کے بارے میں خدشات کو دُور نہیں کرتا، بشمول ٹوئٹر کے قانونی شعبے کی سربراہی کرنے والی خاتون کے ساتھ۔ اس کے علاوہ کسی پلیٹ فارم کو خریدنے کے بعد اسے نقصان پہنچانا کاروباری اور اسٹریٹجک لحاظ سے کوئی عقل مندی پر مبنی طرزِ عمل نہیں ہے

ایلون مسک مواد سے متعلق ٹوئٹر کے ضابطوں پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔ انہیں خود کو ‘فری اسپیچ ایبسلوٹسٹ’ کہلانے جانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ویسے آج تک کوئی بھی اس اصطلاح کی جامع وضاحت پیش نہیں کرسکا ہے۔ مواد کے حوالے سے ان کا نظریہ (کہ اگر کسی ٹوئیٹ پر شبہ ہے تو اس ٹوئیٹ کو موجود رہنے دیا جائے) بھی بہت کمزور ہے

پسماندہ گروہوں اور شہریوں کو ٹوئٹر پر شدید بدسلوکی، ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ مواد کے کنٹرول میں نرمی سے بہت سے لوگوں کو دیوار سے لگائے جانے کا خطرہ بھی سامنے آ سکتا ہے

ایلون مسک نے حال ہی میں کہا کہ ‘آزادی گفتار’ کا مطلب ان باتوں کو کہنے کی آزادی ہے جس کی قانون میں اجازت ہے۔ یہاں قانون سے مراد امریکی آئین کی پہلی ترمیم ہے جو آزادی گفتار میں مداخلت کرنے والے ریاستی اقدامات کا تعین کرتی ہے۔ تاہم ایک نجی کمپنی مختلف معیارات اپنانے کے لیے آزاد ہے۔ خیالات کی منڈی (مارکیٹ پلیس آف آئیڈیاز) کے وجود کے لیے ایلون مسک کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ لوگ اس منڈی میں آنا پسند کریں۔ مواد سے متعلق ضابطے ایک ایسی چیز ہے جس میں ایلون مسک کو ماہرین کی آرا اور شراکتی عمل کو مؤخر کرتے رہنا پڑے گا

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسپیم بوٹس (spam bots) کا مقابلہ کریں گے۔ اس سے آزادی اظہار میں مدد ملے گی اور ٹوئٹر پر تمام انسانوں کی تصدیق کرنے سے پلیٹ فارم کی ساکھ میں اضافہ ہوگا

ایلون مسک کا خیال ہے کہ ٹوئٹر کے الگوریتھم اوپن سورس ہونے چاہئیں تاکہ لوگ ان سے سیکھ سکیں اور بہتری کے لیے مشورے دے سکیں۔ یوں مختلف صارفین مختلف الگوریتھم استعمال کرسکیں گے۔ کچھ لوگ تو اسے ایک انقلابی قدم کے طور پر دیکھیں گے تاہم یہ ان لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوگا جو عام صارف کے لیے الگوریتھم کے محدود انتخاب، دانشورانہ املاک (انٹیلیکچوئل پراپرٹی) کے تحفظ سے متعلق مسائل اور ذرائع آمدن پر پڑنے والے اثرات سے متعلق فکرمند ہوں گے۔ بہرحال یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ پھر ایلون مسک نے ایک اور بات بھی کہی ہے اور وہ یہ کہ اگر ٹوئٹر آپ کی ٹوئیٹ پروموٹ یا ڈیموٹ کرتا ہے تو آپ کو اس بارے میں معلوم ہونا چاہیے

ایلون مسک کا خیال ہے کہ ٹوئٹر پر کسی شخص پر مستقل پابندی لگانے کے بجائے عارضی پابندی لگانا زیادہ مؤثر رہے گا۔ یعنی اگر کوئی شخص، یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اگر اپنا رویہ درست کرلے تو اسے واپسی کی اجازت ہو

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اگر ٹوئٹر کا مقصد حکومتوں اور عوام کے درمیان مزید اعتماد پیدا کرنا ہے تو ٹوئٹر میں شفافیت کے ذریعے عوام کے اعتماد کو بڑھانا بھی ضروری ہے

آزادی گفتار کی حمایت کرتے ہوئے ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کو بھی ان ممالک کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے جہاں جہاں یہ کام کرتا ہے۔ تو کیا یہ تضاد نہیں ہے؟ ٹوئٹر کی قدر ہی اس وجہ سے ہے کہ یہ جن ممالک میں کام کرتا ہے وہاں موجود آزادی گفتار پر پابندی لگانے والے قوانین کو چیلنج اور بعض اوقات ان کی خلاف ورزی کرنے والی آوازوں کو فروغ دیتا ہے۔ ان ممالک کے قوانین کا احترام کرنے کا تو مطلب یہ ہوگا کہ منحرف آوازوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو خاموش کروا دیا جائے گا۔ یوں یہ کئی حکومتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ قوانین کی تعمیل اچھی چیز ہے لیکن جب ایلون مسک آزادی گفتار کی بات کررہے ہوں تو انہیں کمزوروں کی حفاظت کے لیے جرأت مند بننا ہوگا

ان تمام نکات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بینک آزادی گفتار کے نام پر اربوں کا قرض نہیں دیتے۔ یعنی ٹوئٹر میں کئی تبدیلیاں آئیں گی۔ ہوسکتا ہے کہ ایلون مسک اسے اشتہارات کی بنیاد پر قائم مالی ماڈل سے ہٹا کر رقم کے عوض سبسکرپشن پر لے جائیں جس سے ‘بِلو ٹک’ بھی مل جائے۔ پھر ایلون مسک نے ‘ایڈٹ بٹن’ کی بھی بات کی ہے جس کی ضرورت سے بھلا کون انکار کرے گا؟ انہوں نے ٹوئٹر پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن لانے اور ایک مواصلاتی ذریعے کے طور پر اس میں بہتری لانے کی بھی بات کی ہے

ٹوئٹر کی خریداری دراصل کارپوریشنز بلکہ صرف ایک امیر آدمی کو حاصل طاقت کی یاددہانی ہے۔ لیکن یہاں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر کوئی واقعی آزادی گفتار کی فکر رکھتا ہے تو اسے اپنی سیاست اور مباحث میں اسے ترجیح دینی ہوگی۔ ایک کارپوریشن یا اسے کنٹرول کرنے والوں کو حکومت کی طرح ہمیشہ جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ لیکن ہماری اجتماعی آواز حکومتوں اور بالآخر کارپوریشنز کے کام کرنے کے طریقے کو بدل سکتی ہے اور بدلے گی.

Tags:

Elon MuskTown SquareTwitter
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

روسی وزیر خارجہ کا ہٹلر کو یہودی قرار دینے پر اسرائیل کا معافی کا مطالبہ

Next

سعودی امریکہ سے مایوس نظر آتے ہیں: سابق سعودی انٹیلیجنس سربراہ کا انٹرویو

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme