Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

nations-need-to-know-about-the-past-Dr-Mubarak-Ali
کالماہم ترینتازہ ترین

کیا قوموں کو ماضی کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 14, 2024 4 Min Read
0

یہ بحث بھی تاریخی ہے کہ آیا قوموں کو اپنی تاریخ کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ بعض مورخین کے خیال میں چونکہ ماضی کو بدلا نہیں جا سکتا، اس لیے اس پر غور وفکر کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

مورخین میں یہ بحث عرصہ دراز سے موجود ہے کہ آیا تاریخ قوموں کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ اس کا فیصلہ تو نہیں ہو سکا مگر اس استدالال کے دونوں فریقین اپنے موقف کو ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتے رہے ہیں۔ عام طور سے تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ اگر کوئی اس سے سبق سیکھنا چاہے تو وہ ماضی کی غلطیوں کو بار بار نہ دہرائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا یہ سبق حکمراں اور صاحب اقتدار طبقے کے لیے ہے کیونکہ وہی اہم فیصلے کرتے ہیں۔ اس کا تعلق عوام سے نہیں ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ عوام کے لیے کسی تاریخی سبق کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن حکمراں طبقوں کے لیے بھی اس وارننگ کے باوجود وہ تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے ہیں اور بار بار ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہتے ہیں۔ مثلاً سویڈن نے زار پیٹر کے زمانے میں روس پر حملہ کیا تھا، جو برفباری کی وجہ سے ناکام ہوا۔ 1812 عیسوی میں نپولین نے روس پر حملہ کیا اور یہ بھی اس لیے ناکام ہوا کہ روس کی برفباری نے اسے فتح یاب نہیں ہونے دیا۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی نے بھی روس میں اپنی فوجیں بھیجیں مگر جرمن افواج بھی روسی برفباری میں شکست کا شکار ہوئیں۔ لہٰذا تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ جن سے قوموں نے سبق نہیں سیکھا اور انہیں بار بار دہرایا جاتا رہا۔

حکمراں طبقے اکثر تاریخ میں ہیروز سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسکندر نے کیونکہ نوجوانی میں فتوحات حاصل کیں تھیں، اس لیے ہر جنرل خود کو اسکندر کی شکل میں ڈھالنا چاہتا تھا۔ جولیس سیزر کہا کرتا تھا کہ اس کی عمر بڑھتی جا رہی ہے اور اس نے اب تک اسکندر کی طرح کوئی کارنامہ نہیں کیا ہے۔ جب سیزر نے اسکندریہ فتح کیا تو وہ خاص طور سے اسکندر کی قبر پر زیارت کے لیے گیا تھا۔ ہندوستان میں علاؤالدین خلجی نے خود کو اسکندر ثانی کہلوا کر اپنا رشتہ اسکندر سے ملانے کی کوشش کی تھی۔ ایرانی تاریخ می نوشیرواں عادل بڑا ہیرو رہا ہے۔ اس کی تقلید میں بہت سے مسلمان حکمرانوں نے عادل کا خطاب اختیار کر لیا تھا۔

تاریخ میں ایسے بہت سے حکمراں بھی گزرے ہیں، جو اپنے ظلم و ستم اور بدعنوانیوں کی وجہ سے بدنام تھے۔ جیسے رومی شہنشاہ کلی گُلا اور نیرو۔ لہٰذا تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی مذمت کی جاتی ہے اور ان کا نام برائی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ یورپ کے عہدے وسطیٰ میں جب چرچ طاقتور ہوا تو تاریخ کو مذہب کی روشنی میں دیکھا جانے لگا۔ اب بادشاہوں کی جگہ مسیحی اولیا نے لے لی۔ ولی فرانسیسی اور اگناشیس لوٹے لا کی تقلید کی جانے لگی۔ تاریخ حکمراں طبقوں کے لیے ان نصیحتیوں کا ایک اہم ذریہ ہو گئی، جن میں کہا گیا کہ حکمرانوں کو نیک اور پرہیزگار ہونا چاہیے۔ رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے اصلاحات کرنی چاہیے تا کہ آخرت میں انہیں اس کا اجر ملے۔

ریناساں کے عہد میں تاریخ کے بارے میں مورخوں اور سیاست دانوں کا نقطہ نظر بدلا۔ مثلاً میکیاولی نے تاریخ کو اخلاقی قدروں سے آذاد کر دیا اور تاریخ میں ان افراد کو ہیرو بنا کر پیش کیا، جنھوں نے اپنی کامیابی کے لیے مذہبی اور اخلاقی قدروں کو پامال کیا۔ روشن خیالی کے دور میں دانشوروں نے چرچ کی طاقت اور تسلط کو توڑا اور تاریخ کو مذہب سے نکال کر سیکولر بنایا۔ جس کی وجہ سے تاریخ کا استعمال حکمراں طبقوں کے علاوہ عام لوگ بھی کرنے لگے۔ ایک اہم سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا قوموں کو ماضی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ مورخوں کے ایک گروپ کا کہنا تھا کہ ماضی ختم ہو چکا ہے اب نہ اس میں کوئی اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی نئی فکر آ سکتی ہے۔ اس لیے قوموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کو بھول جائیں کیونکہ وہ بیکار ہو چکا ہے۔ اب انہیں اپنی توجہ موجودہ عہد اور مستقبل پر رکھنی چاہیے۔ اس نقطہء نظر کی مخالفت کرتے ہوئے دوسرے مورخوں کا کہنا تھا کہ ماضی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تاریخی عمل ایک تسلسل کے ساتھ جاری ھے۔ اس کے بغیر حال کو بھی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس کی جڑیں بھی ماضی میں پیوست ہیں۔

موجودہ عہد میں جب نئے نظریات پیدا ہوئے تو تاریخ کو بھی ان میں ڈھالا جانے لگا۔ مثلاً یورپی کلونیل ازم نے ایشیا اور افریقہ کی تاریخ کو رد کرتے ہوئے ان کی تاریخ کو اپنے نقطۂ نظر سے لکھا۔ یہ ایک مسخ شدہ تاریخ تھی۔ جس میں یورپ کی برتری کو ثابت کیا گیا۔ ایشیا اور افریقہ کی تہذیب و تاریخ کو کم تر قرار دے کر ان میں یہ احساس پیدا کیا کہ وہ آذاد رہ کر کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ ان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ یورپ کی تاریخ و تہذیب کا حصہ بنیں۔ وقت کے ساتھ اس نقطۂ نظر کے جواب میں ایشیا اور افریقہ کی قوموں میں قوم پرستی کے جذبات پیدا ہوئے اور انہوں نے نئے سرے سے اپنی تاریخ کی تشکیل کی۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ کے فائدے اور نقصانات ہیں۔ مگر تاریخ قوموں میں شعور پیدا کر کے ان میں یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ اپنے مسائل کا حل خود سے تلاش کریں۔ موجودہ دور میں تاریخ کا بیانیہ بدل گیا ھے اور اب عام لوگ نہ صرف تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ تاریخ بنانے والے بھی ہیں۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

africa and niger juntaafrica and niger junta latestafrica and niger junta updatesAnimationautumn nations seriesbrics nationscongress and dmkdestinations ]freedom and unityisrael and iran conflictkey nations in ww3modi on one nation one electionnations uniesone nation one electionone nation one election kya haione nation one pollsb nationtransformationtribal nations summitUnited Nationswhat is one nation one election
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Sixty-percent-of-children-going-to-school-today-will-eventually-work-in-jobs-that-dont-even-exist-today-A-surprising-future-scenario
Previous

آج اسکول جانے والے 60 فیصد بچے بالآخر ایسی نوکریاں کریں گے، جو آج موجود بھی نہیں ہیں! مستقبل کا حیران کن منظر نامہ

Seydnaya-Prison-Syria-A-Soul-Stirring-Story-of-Torture-Coercion-and-Atrocities
Next

صیدنایا جیل: تشدد، جبر اور مظالم کی، روح کو لرزہ دینے والی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme