Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے خلاف کریک ڈاؤن، حسین واڈیلا سمیت بیس سے زائد گرفتار

By Akhtar Rasool
دسمبر 26, 2022 4 Min Read
0

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پولیس نے ’حق دو تحریک‘ کے بیس سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کو گرفتار کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی

گوادر میں پولیس نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد اتوار اور پیر کی درمیانی شب اچانک ’حق دو تحریک‘ کے احتجاجی دھرنے کے مقام پر پہنچ کر ٹینٹ اُکھاڑ دیے اور مرکزی رہنماء حسین واڈیلہ سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا

پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں

’حق دو تحریک‘ کی جانب سے اگرچہ گذشتہ دو ماہ سے احتجاج کیا جا رہا ہے تاہم حکومت پر دباؤ اُس وقت بڑھا، جب مظاہرین نے گوادر پورٹ کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے

حکومت نے کارروائی سے قبل مذاکرات کے ذریعے احتجاج ختم کرانے کوششیں بھی کیں جو بے سود رہیں

گوادر کے صحافی صداقت بلوچ کے مطابق ’رات گئے پولیس کی کارروائی کے بعد صبح ہوتے ہی ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جن میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی تھی۔ مظاہرین نے میرین ڈرائیو پر مارچ کیا، سربندن کراس کے مقام پر خواتین نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دھرنا دے کر سڑک بند کر دی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ مظاہرین نے ڈی آئی جی پولیس کے دفتر پر پتھراؤ کیا اور گیٹ کو نذرِ آتش کر دیا ہے

کوئٹہ میں موجود پولیس اور محکمہ داخلہ کے سینیئر حکام نے بتایا کہ گوادر کے مرکزی شہر کے ساتھ ساتھ اورماڑہ، پسنی، سربندن سمیت گوادرکے دوسرے علاقوں میں بھی مظاہرین نے دُکانیں اور شاہراہیں بند کر دی ہیں

اورماڑہ میں زیروپوائنٹ کے مقام پر گوادر کو کراچی سے ملانے والی مکران کوسٹل ہائی وے اورپسنی کے مقام پر بھی مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے

گزشتہ روز وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو کی سربراہی میں حکومتی وفد مذاکرات کے لیے گوادر پہنچا تھا تاہم مولانا ہدایت الرحمان نے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا۔ مظاہرین اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد پولیس اور نیوی نے مل کر رات گئے اچانک کارروائی کی۔
’قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے: ترجمان بلوچستان حکومت
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’مظاہرین کی گوادر پورٹ کی جانب پیش قدمی کو روکنے کے لیے مجبوراً پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔‘

ترجمان کے مطابق ’صوبائی حکومت نے شروع سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعلیٰ نے بھی چند ماہ قبل خود جا کر مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کرایا اور حق دو تحریک کے بیشتر مطالبات تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد شروع کیا گیا۔‘
ترجمان نے بتایا کہ ’صوبائی وزیر داخلہ اور صوبائی ویز رپی ایچ ایچ کی سربراہی میں حکومتی ٹیم نے طویل مذاکرات کیے لیکن یہ امر باعث افسوس ہے کہ تحریک کی جانب سے صوبائی حکومت کی مخلصانہ کوششوں اور بات چیت کی خواہش کو کمزوری سمجھا گیا۔‘

بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ کسی کو حکومتی رِٹ چیلنج کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں ’حق دو تحریک‘ کی جانب سے گوادر کے پورٹ روڈ پر گزشتہ دو ماہ سے مسلسل دھرنا جاری تھا

مظاہرین بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بڑی کشتیوں اور ممنوعہ جالوں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام ، غیر ضروری چیک پوسٹوں، منشیات کے اڈّوں کے خاتمے اورسرحدی تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے

گزشتہ ہفتے احتجاج میں شدت لاتے ہوئے مظاہرین شرکاء نے ایکسپریس وے پر دھرنا دے کر گوادر پورٹ جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے پورٹ میں رہائش پذیر چینی انجینئرز اور ماہرین کی سی پیک منصوبوں تک رسائی معطل ہوگئی

18 دسمبر کو گوادر کے علاقے اورماڑہ کی پولیس نے مولانا ہدایت الرحمان سمیت ’حق دو تحریک‘ کے بارہ کارکنوں کے خلاف اسلحے کی نمائش کرنے پر مقدمہ درج کیا تھا۔
گزشتہ سال بھی مظاہرین نے بتیس دنوں تک گوادر میں اسی طرز کا احتجاجی دھرنا دیا تھا، جو وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ معاہدے کے پر دستخط ہونے کے بعد بعد ختم کردیا گیا تھا

مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاہدے اور مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا اس لیے انہوں نے دوبارہ احتجاجی دھرنا دیا۔

Tags:

#balochistanprotest#gwadarcpecprotest#gwadarport#gwadarportpakistanBalochistanbalochistan documentary bbcbalochistan liberation armybalochistan newsBalochistan Policebalochistan police constable solved paperbalochistan police jobsbalochistan police past paperbalochistan protestBaluchistanGwadargwadar cpec protestgwadar deep sea portGwadar Portgwadar port pakistanGwadar Protestgwadar protestsgwadar residents protestprotest in gwadarprotests in gwadarwomen stage protest in balochistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک خواب

Next

امریکہ میں برفانی طوفان: اموات میں اضافہ، امدادی کارکن خود پھنس گئے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme