Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

”ہیلو دنیا!“ : لکھنے کے بجائے، صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

By Akhtar Rasool
دسمبر 26, 2021 2 Min Read
0

سڈنی – آسٹریلیا کی برین کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) کمپنی سنکرون (Synchron) نے امیوٹروفک لیٹرل اسکلیروسیس کی بیماری میں مبتلا ایک باسٹھ سالہ شخص کو اپنے دماغ میں نصب ڈیوائس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خیالات کو براہ راست ٹویٹس میں تبدیل کرنے میں مدد دی ہے

واضح رہے کہ امیوٹروفک لیٹرل اسکلیروسیس (اے ایل ایس) اعصابی نظام کی بیماری ہے، جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے عصبی خلیوں کو متاثر کرتی ہے. اے ایل ایس کو Lou Gehrig’s disease بھی کہا جاتا ہے

فیوچر ازم ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ میں کمپنی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ کوئی شخص بی سی آئی کے ذریعے براہ راست سوشل میڈیا پر پیغامات لکھنے میں کامیاب ہوا ہے

یہ بی سی آئی ٹیکنالوجی کا علامتی طور پر ایک اہم لمحہ ہے، جو فالج کے شکار لوگوں کے لیے دنیا کے ساتھ رابطے میں رہنے کا دروازہ کھول سکتا ہے

اے ایل ایس عارضے کی وجہ سے بتدریج بڑھتے ہوئے فالج کے شکار فلپ او کیف نے سنکرون کے سی ای او تھامس آکسلے کے اکاؤنٹ سے ”ہیلو، دنیا!“ ٹویٹ کیا۔ اس کے بعد اس اکاؤنٹ سے مزید کہا گیا ”مختصر ٹویٹ مگر تاریخی پیش رفت۔“

تھامس آکسلے نے مزید کہا ”مجھے امید ہے کہ میں لوگوں کے لیے خیالات کے ذریعے ٹویٹ کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہوں۔“

اے ایل ایس بیماری کی وجہ سے باسٹھ سالہ فلپ او کیف رفتہ رفتہ کام کرنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں

اپریل 2020 میں، انہوں نے سٹینٹروڈ بی سی آئی حاصل کیا جس میں ایک چھوٹا سٹینٹ ماؤنٹڈ الیکٹروڈ سرنی دماغ میں لگایا گیا تھا

فلپ او کیف نے کہا کہ ”جب میں نے پہلی بار اس ٹیکنالوجی کے بارے میں سنا تو مجھے معلوم تھا کہ یہ مجھے کتنی آزادی دے سکتی ہے“

انہوں نے کہا ”یہ حیران کن نظام ہے۔ یہ موٹر سائیکل چلانا سیکھنے جیسا ہے، جس کے لیے مشق کی ضرورت ہے، لیکن ایک بار جب آپ اسے کرنا شروع کر دیں تو یہ آسان ہو جاتا ہے۔“

”اب میں صرف یہ سوچتا ہوں کہ میں کمپیوٹر پر کہاں کلک کرنا چاہتا ہوں، اور میں ای میل، بنک، خریداری اور ٹوئٹر کے ذریعے دنیا کو پیغام بھیج سکتا ہوں۔“

جولائی میں ایف ڈی اے نے نیوروٹیک اسٹارٹ اپ سنکرون کو رضاکاروں پر ڈیوائس کے ٹیسٹ شروع کرنے کے لیے ریگولیٹری منظوری دی تھی

اپنے بیان میں آکسلے کا کہنا تھا کہ تفریحی چھٹیوں میں یہ ٹویٹس دراصل دماغ کے کمپیوٹر انٹرفیس کے قابل اطلاق کے شعبے کے لیے ایک اہم لمحہ ہیں.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

وزیراعظم اور خپلو کا نایاب تیندوا، ”اس کے پیچھے تو اربوں ڈالرز کی سیاحت آنی تھی“

Next

لندن کے نوٹری نے رانا شمیم ​کے حلف نامے کا بھانڈا پھوڑ دیا، اہم انکشاف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme