یمن کے حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

سنگت ڈیسک

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ان کے گروپ نے جنوبی اسرائیل میں “اہم اور حساس فوجی اہداف” کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ان کے بقول “جارحیت کا خاتمہ” نہیں ہو جاتا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیل کے جنوبی شہر بیرشیبا اور اس کے اطراف میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب ایران اور لبنان میں موجود حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔

جنگ کے نئے مرحلے کا خدشہ

حوثی گروپ 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کنٹرول رکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع میں براہِ راست شامل نہیں تھے، تاہم حالیہ بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ اس تنازع میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حوثیوں کے ایک سینیئر عہدیدار محمد منصور نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ “مرحلہ وار جنگ” ہے اور بحیرہ احمر میں اہم آبی گزرگاہ باب المندب کو بند کرنا بھی ان کے ممکنہ آپشنز میں شامل ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف اسرائیل بلکہ عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب میں قائم ایک اہم امریکی فوجی اڈے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں

سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

عالمی تجارت کے لیے خطرہ

باب المندب کی آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ اندازوں کے مطابق اسرائیل کی تقریباً 30 فیصد درآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ ماضی میں بھی حوثیوں نے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے عالمی شپنگ انڈسٹری کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


یہ بھی پڑھیں:

سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں میں بیک وقت رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے کسی اقدام سے تیل کی ترسیل، تجارتی سامان کی نقل و حرکت اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کے لیے چیلنجز

مغربی کنارے سے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مطابق اسرائیل پہلے ہی ایران اور حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی میں مصروف ہے۔ ایسے میں یمن کی جانب سے ایک نیا محاذ کھلنا اسرائیلی حکومت اور فوج کے لیے ایک اضافی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر اس حملے کا جواب دے سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں غزہ کی جنگ کے دوران یمن سے ہونے والی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔

لبنان سے بھی حملے

اسی دوران اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق جنوبی لبنان سے کیے گئے دو راکٹ حملوں میں نو اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں تنازع کئی محاذوں پر پھیل چکا ہے۔

مجموعی طور پر موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں تیز نہ کی گئیں تو خدشہ ہے کہ یہ تنازع وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔


یہ بھی پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بیانات اور دعوؤں کا تبادلہ تیزی اختیار کر گیا ہے

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button