Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

”یہ سو پودے میرے بچوں جیسے ہیں، قتل نہیں ہونے دوں گا“

By Akhtar Rasool
مئی 15, 2022 3 Min Read
0

کراچی کے رہائشی ارشد نے دو سال قبل سو سے زائد درخت لگائے تھے، جنہیں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے اب کاٹ دیے جانے کا خطرہ ہے تاہم ارشد کی کوشش ہے کہ کسی طرح سے ان کے درخت بچ جائیں

ڈاکٹر ارشد حسین ماحولیاتی کارکن ہیں اور گلشن اقبال بلاک ون میں واقع حرمین رائل ریزیڈنسی میں رہتے ہیں

ڈاکٹر ارشد کا کہنا ہے ’میں نے دو سال پہلے یہاں سو درخت لگائے تھے جن کو یہاں کی انتظامیہ نکالنا چاہتی ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں ہونے دینا چاہتا۔ یہ درخت بالکل میرے بچوں کی طرح ہیں میں ان کو کبھی بھی نکالنے کی اجازت نہیں دے سکتا‘

انہوں نے کہا ’میں پودوں کی اہمیت کو جانتا ہوں۔ ہم نے جب دو سال پہلے پودے لگائے تھے تو بلڈر نے لگانے دیے تھے۔ اس کے بعد سے ہم پودوں کا خیال کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ”یہاں انار، چیکو، ناریل اور ان کے علاوہ کئی اقسام کے درخت ہیں، جن میں سے کچھ میں پھل بھی نکل آئے ہیں۔ ہمارے پودے پوری طرح سے اصلی ہیں، ہم نے ان میں کوئی کیمیکل یا کیڑے مار ادویات وغیرہ شامل نہیں کی۔ یہ پودے اور ان کے پھل سوسائٹی کے لوگوں کے لیے ہیں میں انہیں صرف اپنے لیے نہیں رکھنا چاہتا“

ان کے بقول سوسائٹی کے بلڈر کا کہنا ہے کہ وہ ان پودوں کو نکالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یہاں روڈ بنا سکیں

ڈاکٹر ارشد حسین نے کہا ”ہمیں روڈ بنانے پر اعتراض نہیں ہے، وہ بالکل روڈ بنائیں لیکن ہمیشہ پائیدار ترقی کی جاتی ہے یہ نہیں کہ آپ نے ایک سو سے زائد پودے اکھاڑے اور روڈ بنا دی“

اس بارے میں سوسائٹی کے مالک یا ان کے ترجمان محمد مزمل کا موقف سامنے نہیں آیا

سوسائٹی کا اگلا داخلی دروازہ برابر میں بنی ہوئی ایک سوسائٹی کے ساتھ بہت تنگ جگہ میں موجود ہے۔ ڈاکٹر ارشد نے بتایا ’دو سال قبل جب یہ پراجیکٹ بنا تو بلڈر نے کہا تھا کہ وہ اس عمارت کا پچھلا دروازہ جو کہ لیاری ایکسپریس وے سے متصل ہے، اسے ہی مین گیٹ یا اگلا داخلی دروازہ بنا دیں گے‘

’تاہم ابھی امتیاز سپر مارکیٹ سے یاسین آباد تک جانے والی لیاری ایکسپریس وے سے متصل تین کلومیٹر لمبی سڑک پوری طرح سے کچی ہے۔ اس سڑک کے مختلف مقامات پر کچرا، پتھر اور ملبہ پڑے ہونے کے باعث یہاں سے موٹر سائیکل بھی بہت مشکل سے گزرتی ہے۔ دو سال پہلے میں نے بلڈر اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی اجازت سے یہاں پر سو پودے لگائے تھے۔ اس وقت میرے اس ماحول دوست اقدام کا خیر مقدم کیا گیا تھا مگر اب معاملہ بالکل الگ ہے‘

انہوں نے بتایا ’میں نے یہاں پودوں کی دیکھ بھال کے لیے دو مالی رکھے ہوئے ہیں۔ میرے مالیوں کو عمارت کے موجودہ اگلے دروازے سے پودوں کے پاس جانے نہیں دیا جاتا۔ بلڈرز نے وہ گیٹ بند کر کے تالا لگا دیا ہے جس سے ہم عمارت کے اندر سے پودوں کے پاس باآسانی جاسکتے تھے۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ ہورہا ہے کہ میرے مالی کو ڈیڑھ کلومیٹر آگے سے گھوم کر کچے راستے سے آنا پڑتا ہے جس میں اسے ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے جب کہ یہ دس منٹ کا کام ہے‘

اس حوالے سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے رابطہ کیا گیا تو ڈپٹی ڈائریکٹر مرتضی فواد کا کہنا تھا ’لیاری ایکسپریس وے سے متصل یہ سڑک این ایچ اے کی ملکیت ہے کسی بلڈر کی نہیں۔ اگر بلڈر یہاں روڈ بنانا چاہتا ہے تو اسے پہلے ہم سے این او سی حاصل کرنا ہوگا جس کے بعد ہی وہ وہاں روڈ بنا سکے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ حرمین رائل ریزیڈنسی کے بلڈرز کے پاس فی الحال این او سی نہیں ہے، جس کے باعث ان کے پاس روڈ بنانے کی اجازت نہیں.

Tags:

DestructionsEnvironmentKarachiUrban Forest
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مٹھی: پولیس نے حاملہ خاتون کو اسپتال لے جانے والی گاڑی کو آدھا گھنٹہ روک لیا، حمل ضائع

Next

”آلودگی میں کمی سمندری طوفانوں میں اضافے کا سبب“ امریکی ادارے کی تحقیق میں انوکھا دعویٰ!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme