Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﻻﻧﮓ ﻣﺎﺭﭺ ﮨﻮﮔﺎ، ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ ﺷﺮﻁ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ

By Akhtar Rasool
مارچ 14, 2021 3 Min Read
0

”ﺟﯿﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﺩﮬﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺩﮬﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ“ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﺳﺒﮭﯽ ﭘﺘﮯ ﮐﮭﯿﻠﮯ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻄﺮﻧﺞ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺮ ﺩﮬﮍ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﯼ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ 2018ع ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮨﻮﺋﮯ، ﭘﯽ ﭨﯽ ﺁﺋﯽ  ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ حاصل کی ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﻥ ﻟﯿﮓ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺩﺑﺎﺋﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻭ ﺷﺸﺪﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ

ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺒﺎﻧﮓ ﺩﮨﻞ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮍﯼ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﭘﺎﺭﭨﯿﻮﮞ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﻥ ﻟﯿﮓ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﻨﺮﻝ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭ کریں

لیکن دھاندلی دھاندلی کی تمام تر چیخ پکار کے باود ن لیگ اور پی پی نے”مولانا صاحب، تھوڑا صبر“  کہہ کر ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ کر لی

بعد ازاں ﺁﻝ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺴﺰ ﮨﻮئیں، کرتے کرتے ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺩﮬﺮﻧﮯ ﺗﮏ جا پہنچے، لیکن ہر بار وزیر اعظم کو دی گئی استعفے کی مہلت کو بھی مہلت دی جاتی رہی.. مولانا فضل الرحمٰن صاحب "ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار” کے ماجرے پر ہی سوچتے رہ گئے.

ﺗﺎﮨﻢ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺑﺮﺱ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ حکومت مخالف گیارہ جماعتی اتحاد پی ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ

ﺍﺏ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺗﻮ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ کہنے والے کہتے ہیں کہ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﮏ کو ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﮨﺎﺋﯽ ﺟﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﯿﮟ۔ اگرچہ انہوں نے کافی فوائد بھی سمیٹے ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮔﯿﻢ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﻭﮦ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﺳﯿﻨﯿﭧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺑﮭﯽ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﺗﺤﺎﺩﯼ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﮯ ﺗﯿﺮ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﭘﺮ ﺑﺮﺳﺎ ﺩﯾﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ

کہا گیا، بلاول صاحب ہور لو نیوٹرل کے مزے

ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺏ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﺎ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﺍﺟﻼﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ موقر ذرائع کا کہنا ہے ﮐﮧ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﺏ ﺟﺎﺭﺣﺎﻧﮧ ﺳﯿﺎﺳﺖ مصر دکھائی دے رہے ہیں، حتیٰ کہ ﻣﻮﻻﻧﺎ صاحب کہہ چکے ہیں ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍؤ گے، تب ہی ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺎﺭﭺ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ گا۔ ان کے بقول ﺍﮔﺮ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺍﯾﺸﻮ ﭘﺮ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﻣﯿﭩﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﻣﯿﻮ ﭘﯿﺘﮭﮏ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﭽﮭﻮﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﻝ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ ﺍﻧﻨﮕﺰ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍ ٓﺟﺎﺋﮯ گی.

ویسے کچھ ظالموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاست کی تھالی میں حکومت اور اپوزیشن کے بینگن اِدہر اُدہر ہونا سب کچھ طے شدہ ہے، سب کو اپنا اپنا کردار لکھ کر دیا جا چکا ہے، سب اپنے اپنے لکھے ہوئے ڈائلاگ بول رہے اور طے شدہ کردار نبھا رہے ہیں، کوئی بھی ڈائریکٹر کی غصے سے کہی گئی "کٹ” کی آواز سننے کے لیے تیار نہیں ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ﻟﻮﮒ ﺭﯾﻠﯿﻒ کے لیے ﻣﺮﺿﯽ ﮐﯽ ﻋﺪﺍﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻋﺘﺰﺍﺯ ﺍﺣﺴﻦ

Next

فیس بک کا  صارفین کی عوامی وڈیوز کی مونیٹائزیشن کے لیے آرٹیفشل ٹیکنالوجی کا استعمال

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme