’ڈینگی وائرس‘ کی ویکسین کے کامیاب نتائج کے بعد یورپ میں اس کے استعمال کی اجازت

ویب ڈیسک

جاپانی کمپنی ’ٹکیڈا‘ نے چند ماہ قبل اپنی ویکسین ’کیو ڈینگا‘ کے نتائج کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد رواں برس اگست میں سب سے پہلے انڈونیشیا نے ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

اب یورپین یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے بھی اسے محفوظ قرار دیتے ہوئے 4 سال سے زائد عمر کے افراد میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق یورپین یونین کے میڈیسن ریگولیٹری ادارے نے ’کیو ڈینگا‘ کے استعمال کی اجازت دے دی

ادارے نے ویکسین کے استعمال کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اسے 4 سال سے زائد عمر کے تمام افراد پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ ویکسین چار طرح کے ڈینگی وائرسز پر اثر دکھاتی ہے۔

ادارے کے مطابق مذکورہ ویکسین کے 19 ٹرائلز کیے گئے، جس دوران 15 ماہ سے 60 سال کی عمر کے 27 ہزار افراد کو ویکسین لگاکر ان میں اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ادارے نے بتایا کہ ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ’کیو ڈینگا‘ لگوانے کے بعد ڈینگی کے شکار مریضوں کو اسپتال داخل کرانے کے امکانات 84 فیصد کم ہوجاتے ہیں جب کہ اس سے اگلے چار سال تک ڈینگی کی علامات نظر نہ آنے کے امکانات بھی 60 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں، یعنی ویکسینیشن کے بعد ڈینگی کے مریض میں چار سال تک 60 فیصد کوئی علامات نظر نہیں آئیں گی۔

ڈینگی وائرس دنیا بھر میں ملیریا کے بعد دوسرا وائرل مرض ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، اس سے دنیا بھرمیں سالانہ 40 کروڑ افراد متاثر ہوتے ہیں جب کہ اس سے سالانہ 25 ہزار تک اموات ہوتی ہیں اور مرنے والے میں زیادہ تر نوعمر افراد ہوتے ہیں۔

ڈینگی وائرس کا اس وقت کوئی مستند علاج موجود نہیں ہے لیکن بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے دیگر متبادل ادویات کے ذریعے اس کا کامیاب علاج کیا جاتا ہے۔

ڈینگی سے تحفظ کے لیے جاپانی کمپنی سے قبل امریکی کمپنی فائزز، سنوفی اور جی ایس کے نے بھی اس کی ویکسینز بنائی ہیں، تاہم تمام کمپنیز کی ویکسینز کو تاحال دنیا بھر میں عام استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔

یورپین یونین کی جانب سے ڈینگی وائرس کی ویکسین کے استعمال کی اجازت دیے جانے کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے دنیا کے دیگر ممالک بھی استعمال کرنے کی اجازت دیں گے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close