
میں فقیر حقیر تمہیں اپنے بول کیسے سمجھاؤں؟ میں تو سننے والوں کو صرف اس لیے سننے کی تلقین کرتا رہتا ہوں کہ وہی مجھے میرے بول سمجھا دیا کریں۔ ہاں، تمہارا اعتراض غیر معقول نہیں کہ کوئی اپنے ٹخنوں میں کیوں کر بود و باش اختیار کر سکتا ہے، مگر جو ہو گیا، ہوا تو وہی۔۔۔
ہاں، بھائی، مجھ کھوسٹ کو سنانا نہیں آتا پر تمہیں سننا تو آتا ہے۔ آگے، سنو۔ میری جوانی کے دن میرے بائیں ٹخنے میں ایک گرد آلود بستی میں بسر ہوئے۔ نہیں، بہت بڑی بستی تھی اور بیسیوں میل کی بالائی مسافت میں میرے گھٹنوں کے آس پاس تک پھیلی ہوئی تھی۔۔ اور اس ساری بستی میں ایک میں ہی میں آباد تھا۔ نہیں، ٹھہرو۔۔ میرے علاوہ میرے دادا میاں چوہدری سلامت اللہ خان بھی تھے، جن کی پاؤ پاؤ بھر سفید مونچوں کا تاؤ دونوں جانب اتنا اٹھا ہوتا کہ ان کی آنکھیں چبھنے لگتیں۔ دادا میاں کو بھی کوئی اور نہ دِکھتا تھا۔۔۔ میں۔۔۔؟ میری اور بات ہے۔ میں تو ہر لحظہ ان کے سامنے ہوتا۔۔۔ ہاں اس وقت بھی، جب سامنے نہ ہوتا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہا کرتے، دیکھو، میں ابھی تک جوں کا توں جوان ہوں۔ ہاں، اسی لیے مجھے دادا میاں کی بجائے اپنا آپ ہی اپنا دادا معلوم ہوتا۔ ابا میاں؟ میرا مولا مجھے معاف کرے۔ ابا میاں کا پدرانہ تحکم محسوس کر کر کے میرا خون کھولنے لگتا کہ کوئی فرمانبردار بیٹا بھلا اس مانند اپنے باپ سے پیش آتا ہے۔۔۔ سن رہے ہو۔۔۔؟ اپنی جوانی میں ساری دنیا بس ایک میرے لیے تھی اور میں، ایک بس اپنے لیے، میرے نزدیک میرے اپنے سوا ہر کوئی ہیچ تھا۔
ارے، سو گئے۔۔۔؟ اٹھو! نہیں سوتے رہو، جب تک سورج کی روشنی آنکھیں کھانے کو دوڑتی ہے، سوئے پڑے رہو۔ ہاں، صبح دم تو ہوا سولہ سنگار کرکے نکلی تھی مگر حکمراں اسے اپنے محلوں میں اڑا لے جاتے ہیں اور دن بھر اس کی آبرو ریزی کرتے رہتے ہیں اور پھر شام ہوتے ہی اسے تاریکیوں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ ارے بھائی میرے، میں کوئی سنی سنائی نہیں سنا رہا، اپنے ہی کیے کا اعتراف کر رہا ہوں۔ میری ساری جوانی اسی طور تو بیتی ہے اپنے بائیں ٹخنے کی بستی میں، میں جس لڑکی کو بھی چاہتا، سبھوں کے سامنے دن دہاڑے اسے چٹکیوں میں غائب کر دیتا۔۔۔ قاعدہ قانون۔۔۔؟ قاعدہ قانون تو حکمرانوں کی سواری ہوتا ہے، جدھر وہ چاہتے ہیں، ادھر ہی اس کی لگام موڑ کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ دادا میاں نے میری مہم جوئی پر خوش ہوکر میرے چچا چوہدری انعام اللہ خاں کی بیٹی مہرالنساء کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دینے کا ٹھہرا لیا۔ مہرالنساء واقعی بڑی خوبصورت نکلی تھی۔ محبت۔۔۔؟ جس کے نزدیک اپنے سوا کوئی بھی قابلِ اعتنا نہ ہو وہ محبت کیا کرے گا؟ نہیں میں شادی وادی کے چکر میں بھی نہیں پڑنا چاہتا تھا، مگر ہوا یہ کہ مہرالنساء نے مجھے قبول کرنے سے دوٹوک نہ کہہ دی۔ اب میں اَڑ گیا کہ ہماری شادی ہو کر رہے گی۔ پھر۔۔۔؟ پھر یہ ہوا کہ مہرالنساء نے چپکے سے ہمارے پڑوس کے مرزا قطب الدین کے لڑکے سےنکاح پڑھوا لیا اور دونوں کہیں رفوچکر ہو گئے۔
سن رہے ہو۔۔۔؟ ارے بھائی، ہنکارا بھرتے بھرتے اچانک اونگھنے لگتے ہو۔۔۔ ہاں، بوڑھے تو ہو لیے ہو، پر اتنے ہی جتنا میں۔۔۔ ہاں، تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں تو جاگتے میں بھی سویا پڑا رہتا ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ میں کوئی کام اپنی مرضی سے ہاتھ میں لیتا ہوں، نہ اسے انجام دیتا ہوں، مانو اسے کوئی اور ہی انجام دے رہا ہو اور مجھ فقیر حقیر کا بس یہی کام ہے کہ میری نیک دعاؤں کے عوض میرا بھیک کا کاسہ خالی نہ رہے، بس میرا پیٹ بھرتا رہے، مگر پیٹ بھر جانے پر ذرا آنکھ لگ جاتی ہے تو اپنے خوابوں کی دنیا میں قدم دھرتے ہی میں خودمختار ہو جاتا ہوں۔۔۔ سن رہے ہو؟ کوئی مضائقہ نہیں، سوئے پڑے رہو۔ خوابوں میں داخل ہوئے بغیر احساس نہیں ہوتا کہ کائنات کتنی بڑی ہے اور ہم کتنے کارگر ہیں۔ باہر۔۔۔؟ باہر تو ہم صرف یہاں سے وہاں تک ہوتے ہیں، صرف وہیں، جہاں جا پائیں۔ اپنے بھیتر ہی بھیتر تو ہم چشم زدن میں کہیں سے کہیں جا پہنچتے ہیں۔۔۔ اور کیا؟ میں اور کس لیے یہ دعویٰ کرتا پھرتا ہوں کہ کہاں ہے جہاں میں نہ گیا ہوں۔ یہی تو ہے۔ ہماری ساری مسافتیں ہمارے اندر ہی واقع ہوتی ہیں۔
مہرالنساء؟ میں دانت پیستا رہ گیا اور مہرالنساء اپنے دولہا کے ساتھ فرار ہو گئی۔ دادا میاں۔۔۔؟ دادا میاں بھی آگ بگولا ہو گئے اور حویلی کے آنگن میں نصب خاندانی توپ کا منہ مرزا قطب الدین کی دیوار کی طرف موڑ دیا، مگر توپ میں کچھ بارود بھی بچا کھچا رہ گیا ہوتا، تب نا، نوے سال سے بھی اوپر ہولیے تھے۔ حویلی میں اپنی کوٹھری سے برآمد ہو رہے ہوتے تو مانو سیدھا عدم آباد کا رخ کیے ہوتے۔ ایک دن غصے میں بڑبڑاتے ہوئے واقعی ادھر ہی نکل کھڑے ہوئے۔
’’دادا میاں۔۔۔؟‘‘
’’نہیں، مجھے روکو مت۔‘‘
’’پر جا کہاں رہے ہیں۔۔۔؟‘‘
’’اور کہاں؟ مہرالنساء کی گوشمالی کے لیے۔‘‘
’’مگر۔۔۔‘‘
’’نہیں، وہ مرکھپ چکی ہوگی۔ جو اپنے والدین کے گھر سے بھاگ نکلی، اس میں اتنی شرافت کہاں، کہ وہ ابھی تک اپنے شوہر کے یہاں پڑی ہو۔‘‘
دادا میاں کی روانگی کےبعد میں نے بھی رخصتِ سفر باندھا اور اپنے بائیں ٹخنے کی گرد آلود بستی سے گھٹنوں کی سرحد پار کر کے یہاں پیٹ کے نیچے دونوں ٹانگوں کے بالائی درمیان آن پہنچا اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔ ہاں، فرنگستان کا یہ نقشہ بغور دیکھ لو تاکہ بھولے سے بھی ادھر کا رخ نہ کرو۔ میرا مولا مجھے بخشے، شیطان سے میری ملاقات یہیں ہوئی۔۔۔ دیکھنے میں وہ اتنا خوب رو اور باکمال تھا کہ کسے معلوم، مولا نے ہمیں اسی سے بچنے کی ہدایت کر رکھی ہے؟
جاگ رہے ہو؟ اس تاریک خطے میں مصنوعی روشنیوں کی یلغار کا عالم تھا۔ کہیں کوئی چھوٹا سا کونہ بھی نہ تھا، جہاں بھلے لوگ فطری اندھیرے کی خنک حدت میں چین سے لمبی تان لیں۔ نہیں، مجھے کیا پڑی ہے کہ غلط بیانی سے کام لوں؟ ہر شخص کھڑے کھڑے جوں کا توں آنکھوں پر عینک جمائے ہوئے ہوتا تھا گویا خوف زدہ ہوکر ایک بار آنکھیں مند گئیں تو قبر میں اتار دیا جائے گا، یعنی جو ذرا واقعی سو گیا، وہ اسی دم مرا۔ ہاں، اور کیا؟ میری آنکھیں وہاں جاگ جاگ کر اتنی چوڑی ہو گئی ہیں کہ نظر دھندلا کر رہ گئی ہے۔ یہاں کا کوئی واقعہ سناؤں۔۔۔؟ وہیں کا یہ سانحہ تو سنا رہا ہوں۔ لوگ جب روشنیوں کی یلغار میں کھڑے کھڑے اپنی دانست میں سو رہے ہوتے تو ہر کسی کے یہاں دفعتاً کوئی جہنمی پری وارد ہوتی اور اس کی طلسمی خوشبوؤں سے اس شخص کی آنکھیں آپ ہی آپ مند جاتیں اور پھر وہ اس کی آبرو ریزی میں جٹ جاتی اور جب اس کاجی بھر جاتا تو اپنی راہ لیتی۔
مولا کی رحمت کاحساب نہیں کہ اسی زندگی میں میری سزا کی تدبیر ہو گئی، ورنہ قبر میں بے تاب ہو ہو کر پہلو بدلتا رہتا اور مر کے بھی مرنا نصیب نہ ہوتا۔۔۔ ہاں، بھائی، یہی بتانے تو جا رہا ہوں۔ مجھے سنانا نہیں آتا، پر تم تو سن پانے کے دعوے دار ہو۔ سنو اور محسوس کرو کہ ستمگرانہ سابقوں میں بھی کیوں کر اللہ کی رحمتیں مضمر ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ اسی جہنمی خطے کی ایک بے دل پری کو لگا کہ اس کے افسوں سے میرا دم نکل گیا ہے۔ اس نے مجھے بے پروائی سے میرے پیٹ کی بالائی سرحد پر گندے خون کی خلیج میں پھینک دیا۔ رضائےحق کا یہ کرشمہ تھا کہ میں بچ گیا اور بہتے بہتے دل کے جزیرے پر آ لگا۔ یہیں مہرالنساء نے مجھے میرے دل کی بستی کے کناروں پر پڑا پایا۔ مجھے قبول کرنے سے انکار کر کے وہ دراصل میرے دل میں آ بسی تھی۔ اس نے میرے جسم اور روح کی تیمار داری میں دن رات ایک کر دیے اور یوں میری جان میں جان آئی۔
سن رہے ہو۔۔۔؟ میری جان میں جان تو آ گئی مگر جسے میں مہرالنساء سمجھ رہا تھا، وہ میرے سنبھلتے ہی نامعلوم کیوں کر یکبارگی معدوم ہو گئی۔ وہ نہایت غمگین تھی مگر اپنے غم میں بیکل ہونے کی بجائے دردمند متانت اور ٹھہراؤ سے میری تیمارداری میں مگن تھی۔ اس کاچہرہ کسی پاک دامن بیوہ کے چہرے کے مانند بے خواہش تھا اور میری صحت کے سوا اس پر اور کسی خواہش کا سراغ نہ ملتا تھا۔ ہاں، مجھے یہی خیال گزرا کہ اس کا شوہر انتقال کر چکا ہے اور اگرچہ وہ اپنی خواہش سے بے خبر ہے تاہم بہرحال میری خواہشمند ہے۔ اس سے پیشتر مجھے بھی کیا خبر تھی کہ وہ میرے ہی دل میں جاگزیں ہے؟ مگر جاگزیں تھی تو پھر اچانک غائب کہاں ہو گئی؟ ایسے غائب ہوئی مانو وہ وہاں تھی ہی نہیں۔
ہاں، یوں ہی ہوگا۔ وہ وہاں تھی ہی کہاں؟ دل کی بستی تو ہجر کی قیام گاہ ہوتی ہے۔ میں تو جی ہی جی میں اس سے یہاں سرجوڑے بیٹھا تھا اور وہ اس وقت بڑے مزے سے اپنے شوہر اور بچوں ک ساتھ کہیں بسر کر رہی تھی۔ میں نے اپنی خواہش کو ہی اس کی خواہش پر محمول کرکے باور کر لیا کہ وہ بیوہ ہوکر میرے پاس لوٹ آئی ہے اور ہم دونوں نے فوراً شادی کرلی ہے اور۔۔۔ اور بتاؤں، کیا؟ مجھے کوئی خونخوار جنگلی جانور سمجھ لو جسے جو بھی شے یا جان دار نظر آتا ہے، وہ اسے کھانے کی شے سمجھ کر جھٹ منھ میں ڈال لیتا ہے اور جب اس کی مادہ اس کے پاس آتی ہے تو وہ اپنی چاروں ٹانگیں اوپر کر کے اس کے سامنے لیٹ جاتا ہے اور اس کے دانتوں میں کٹکٹ کر اسے بڑا مزہ آتا ہے۔۔۔ کھا جاؤ یا خوراک بن جاؤ۔۔۔ مجھے اپنی جانوریت سے گھن آنے لگی اور میں اپنے آپ کو سمجھانے لگا، خدا کا شکر ادا کرو کہ اس بائیں ٹخنے، گھٹنے اور ٹانگوں کے بالائی درمیان سے دل تک آن پہنچے ہو، اپنی بخشش کی دعا مانگو اور اپنی محبوبہ کو فی الحقیقت چاہتے ہو تو اس کی اور اس کے شوہر کی اور ان دونوں کےبچوں کی باہمی خوشحالی چاہو۔۔۔ میں سجدے میں گر گیا اور صدق ِدل سے دعا مانگنے لگا مگر میرا مولا مجھے معاف کرے، دعا مانگتے ہوئے بھی میں چاہ رہا تھا کہ میری مہرالنساء لٹ پٹ جائے اور بیوگی سے تار تار ہو کر مجھے دربدر ڈھونڈتی پھرے۔۔۔ میں اپنے آپ پر لعنت بھیجتا رہا، اور آخر دل برداشتہ ہوکر میں نے کان کھدوالیے اور سبز چوغا پہن کر گلے میں بڑے بڑے منکوں کی مالا لٹکالی اور ہاتھ میں کاسہ لے لیا اور فقیر ہو گیا۔
ارے میں فقیر بولے جا رہا ہوں اور تم گہری نیند سو رہے ہو۔ اٹھو شام سر پر آ کھڑی ہوئی ہے۔۔۔ اچھا، ذرا اور سولو۔ ذرا اور سولو گے تو شاید ذرا اور بہتر انسان بن جاؤ گے اور پچھتاوے کے اہل ہو جاؤ گے۔۔۔ نہیں، بھائی، نیک جینا پچھتاوے کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا ان گناہوں پر بھی پچھتا لو جو ابھی تم سے سرزد نہیں ہوئے۔ کیوں۔۔۔؟ کیسے بتاؤں، کیوں؟ یوں کہہ لو کہ جو کچھ ابھی ہونا ہوتا ہے، وہ ہم اپنے گمان میں کر چکے ہوتے ہیں۔ کیسے؟ کیسے بتاؤں کیسے۔۔۔؟ یا پھر ایسے، کہ جو کچھ ہو لیتا ہے، ہو لینے کے بعد وہ بھی گمان میں ہی ہوتے ہوئے محسوس ہو تو ہو۔ پھر۔۔۔؟پھر کیا؟ جو ہو گیا وہ بھی ہو گیا اور جسے ابھی ہونا ہے، وہ بھی۔۔۔ پھر۔۔۔؟ پھر صرف یہ کہ کچھ کرنے سے پہلے ہی متاسف ہو لو۔۔۔ ہاں جیسے کیے پر۔
سمجھ میں نہیں آ رہا۔۔۔؟ میری سمجھ میں کبھی کہاں آ رہا ہے؟ مجھے خیالوں میں ہی اتنا کچھ پیش آ جاتا ہے کہ میں اپنے سننے والوں کا منہ تکتا رہ جاتا ہوں اور میرے سننے والے، میرا۔
لو تمہیں ایک چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں۔ یہی دل کی بستی میں مجھ فقیر حقیر کا بھوک و پیاس سے دم خشک ہو رہا تھا۔ مولا پاک کاحکم ہے کہ خوامخواہ موت کو نہ روکنا گناہ کبیرہ ہے، پس میں نے ایک پھل فروش کی دکان سے خیال ہی خیال میں انگور کے گچھے اڑا کر بھوک و پیاس مٹا لی، اور پھر چوری کا پچھتاوا محسوس ہوتے ہی چپ چاپ پھل فروش کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کر لیا۔ اس نے مجھ سے انگور کے گچھوں کی قیمت طلب کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی سے مجھے پانچ کوڑوں کی سزا ملی۔ کوڑے کھا کے مجھے اذیت تو ہوئی پر اس سے بھی بڑھ کے اس وقت راحت ہوئی جب نیند میں مہرالنساء نیم گرم پانی کی پیٹیوں سے تا دیر میرے زخم ٹکورتی رہی۔
سنا؟ مہرالنساء میرے زخم ٹکورتی رہی۔۔۔ پچھتاوے کے کوڑے کھا کے بھی میں نے یہی کیا کہ ایک اور اعتراف کا حیلہ ہو جائے۔۔۔ نہیں، بھائی، دل کی بستی میں جو بھی کر لو اس پر بالآخر پچھتانا ہی پڑتا ہے۔ میں نے دل کی بستی سے بھی مہاجرت کا طے کر لیا اور موقع پاتے ہی سفر پر چڑھ نکلا۔۔۔ نہیں، بلندیوں میں قدم جمانے کی جگہ کہاں ہوتی ہے؟ پھر بھی میں نے ہمت کی اور کندھوں پرسوار ہو کر پاؤں لٹکا لیے۔۔۔ اپنے کندھوں پر سوار آدمی کتنا مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے مگر لوگ باگ میری سواری کی سچ دھج سے مرعوب ہو کر تالیاں پیٹنے لگے تو میں بھی جھٹ ان میں شامل ہو گیا اور ان ہی کے مانند اپنے گن گاتا رہا اور آگے کا سفر میرے ذہن سے محو ہو گیا۔۔۔ پھر۔۔۔؟ پھر لوگ جب گھروں کو لوٹ گئے تو مجھے پتہ چلا کہ میں نے تو راہ کی گرد میں ہی مقام رکھا ہے۔ وہاں سے اٹھ کر کسی طرح میں یہاں آنکھوں میں آ نکلا۔ زندگی کے اس آخری کنارے پر واقع اس شہرِ افسوس میں، جہاں سے ہم اپنے سارے ماضی کو پلکوں میں دیکھ اور پرکھ سکتے ہیں اور زندگی رائیگاں معلوم ہونے لگتی ہے، یعنی سب ڈھونگ تھا۔ مجھے جو بھی پیش آیا، اس سے محض میری مصروفیت کا سامان ہو گیا۔ ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوتا ہے۔ نفرت یا محبت یا جو بھی۔۔۔ ہاں، جیسے پیش آیا، ویسے ہی کر لیا۔ مہرالنساء۔۔۔؟ ہاں مجھے مہرالنساء پیش آ گئی۔ ہاں، بھائی اور کیا؟ اگر وہ انکار نہ کرتی تو میں، بڑی سرگرمی سے بچے اور مونچھیں پالنے میں مصروف رہتا۔
ارے، شام کتنی گہری ہولی ہے۔ اٹھو اندھیرا ہوتے ہی ہمیں آسیب زدہ مقامات سے باہر نکل جانا ہے۔۔۔ نہیں، اٹھو! اس شہرِ افسوس میں اس طرح چت پڑے رہ گئے تو وہاں کیسے پہنچو گے؟ ہمیں پہنچنا ہے۔ آؤ، میں تمہیں بتاتا ہوں، کہاں؟
سنو، ہمیں اپنی آنکھوں کے اوپر سیدھا اپنی پیشانی پر پہنچنا ہے، جہاں ہم دیکھ نہیں پاتے، صرف نظر آتے ہیں، اور جسے نظر آ جائیں، وہ ہمیں اپنی سانسوں میں بھر لیتا ہے۔ ہاں جسے بھی نظر آ جائیں۔ یہ اور وہ اور تم۔ اور تم۔ اور تم۔ اور۔۔۔
آؤ، ڈرتے کیوں ہو، اپنی پیشانی۔۔۔ اپنے مقدر تک رسائی حاصل نہ کرو گے؟