این ایف ٹی: جس سے آپ بھی پیسے کما سکتے ہیں

ویب ڈیسک

کراچی – ان دنوں این ایف ٹی کی اصطلاح خاصی سننے میں آ رہی ہے. خاص طور پر یہ تب ہمارے تجسس کی حس کو چھو کر ہمیں اپنی جانب زیادہ متوجہ کرتی ہے، جب اس کے ذریعے ہزاروں لاکھوں ڈالر کمانے کی خبریں ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں. تب ہمارے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ آخر یہ این ایف ٹی ہے کیا؟

جون 2021ع میں پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے اعلان کیا کہ وہ پہلی کرکٹ این ایف ٹی متعارف کروانے جا رہے ہیں۔ اور اُسی ماہ وسیم اکرم نے اپنی این ایف ٹی نیلامی کے لیے پیش کی جو 950 ڈالر میں فروخت ہوئی۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب یہ ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ کرکٹ فینز بھی ایسے یادگار لمحات کو ڈجیٹل آرٹ کی شکل میں محفوظ کر لیں اور ان کے ذریعے پیسے کمائیں. لیکن یہ یہیں تک محدود نہیں، آپ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، حتیٰ کہ آپ غیر معروف ہی کیوں نہ ہوں، امکانات کی ایک وسیع دنیا یہاں موجود ہے

گزشتہ کچھ برسوں کے دوران بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی جیسے الفاظ زبان زد عام ہو گئے ہیں۔ دنیا بھر کے لاکھوں لوگ اس ابھرتی ہوئی صنعت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ دراصل کرپٹو نے ہی ڈجیٹل اثاثوں کے بارے میں سوچنے کا نیا انداز لوگوں میں عام کیا ہے۔ مگر زیرِ نظر سطور میں ہم کرپٹو کرنسی کی تفصیل میں جانے کے بجائے این ایف ٹی یا ‘نان فنجیبل ٹوکن‘ کے بارے میں بات کریں گے۔ کیونکہ این ایف ٹی کی خرید و فروخت کافی مقبول ہو رہی ہے اور ان کی قمیت اکثر ہزاروں، لاکھوں ڈالرز سے بھی تجاوز کر جاتی ہے

این ایف ٹی کیا ہے؟

این ایف ٹی در اصل ”نان فنجیبل ٹوکن“ کا مختصر نام ہے۔ فنجیبل معاشیات کی زبان میں ایسے اثاثے کو کہتے ہیں، جس کے کسی ایک حصے کو یا اسے مکمل طور پر کسی اور چیز سے بدلا جا سکے، یعنی جو قابلِ تبادلہ یا قابلِ تقسیم ہو اور اس کے بدلے اسی قیمت کے برابر کچھ حاصل کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر سو روپے کے نوٹ کے بدلے ہم دو پچاس روپے کے نوٹ یا پانچ بیس روپے کے نوٹ تبدیل کروا سکتے ہیں۔ بٹ کوائن بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ایک کوائن کے بدلے ہم اس کی مالیت کے پیسے یا کوئی اور کرنسی حاصل کر سکتے ہیں۔

البتہ”نان فنجیبل“ وہ چیز کہلاتی ہے، جو منفرد ہو اور جسے کسی اور چیز سے تبدیل کرنا ممکن نہ ہو۔ اس اعتبار سے ”نان فنجیبل ٹوکن“ یعنی این ایف ٹی کی اصطلاح ایسے ڈجیٹل اثاثوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو صرف اور صرف آپ کی ملکیت ہوں۔ ایک این ایف ٹی کوئی وڈیو بھی ہو سکتا ہے اور اور کوئی موسیقی بھی۔ کسی وڈیو گیم کا کوئی حصہ بھی اور کوئی اینیمیٹڈ تصویر یا کردار بھی یا محض کوئی تصویر بھی.. آپ اپنی تیار کردہ یا اپنی ملکیتی ڈجیٹل چیزوں کا این ایف ٹی یا ڈجیٹل سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہیں، جس سے آپ اس کا حقِ ملکیت حاصل کرتے ہیں۔ آپ پھر اس این ایف ٹی کو آن لائن فروخت بھی کر سکتے ہیں اور اسی طرح دوسروں کے ملکیتی این ایف ٹی خرید بھی سکتے ہیں

این ایف ٹی بنانے کا طریقہ کیا ہے؟

یہاں اس بات سے جُڑا یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا این ایف ٹی صرف ڈجیٹل اشیا ہی ہو سکتی ہیں؟ یا پھر یہ حقیقی دنیا کے فن پارے بھی ہو سکتے ہیں؟ اگرچہ این ایف ٹی اتنا عام نہیں، لیکن یہ کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے ڈجیٹل آرٹ ورک یا پھر حقیقی زندگی سے متعلق بھی

اگر آپ کے دل میں بھی اپنی این ایف ٹی بنانے کا خیال آ رہا ہے، تو سب سے پہلے آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آپ بنانا کیا چاہتے ہیں؟

یوں سمجھ لیں کہ یہ بالکل ایک کارڈ پر ڈرائینگ کرنے جیسا ہے، جس کے ہم پہلے سوچتے ہیں کہ ہم بنانا کیا چاہ رہے ہیں؟

تو جب آپ یہ فیصلہ کر چکیں کہ کیا بنانا ہے، تو اس کے بعد آپ بلاک چین کا انتخاب کریں۔ اس کے لیے عام طور سے اتھیریم بلاک چین استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پولکا ڈاٹ، ٹورن، ٹیزو نامی بلاک چینز کو بھی منتخب کیا جا سکتا ہے

اگلا مرحلہ ہے اس کو کرپٹو والٹ سے لنک کرنے کا.. ہر بلاک چین کا اپنا والٹ ہوتا ہے۔ ایتھیریم عام طور سے بائنانس کا والٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس والٹ میں مطلوبہ فیس ڈالیں اور اس کے بعد اپنی این ایف ٹی کے حساب سے مارکیٹ کا انتخاب کریں

این ایف ٹی کو بیچا یا خریدا کہاں جا سکتا ہے؟

اس کو خریدنے یا بیچنے کے کئی پلیٹ فارم ہیں، جن میں سے ایک ایتھیریم بلاک چین ہے، جو آپ کو بنا کسی ادائیگی کے این ایف ٹی بنانے اور فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ قابل ذکر پلیٹ فارم ”راریبل‘‘ اور ”اوپن سی‘‘ ہیں۔ یہ دونوں سائٹس آپ کو لیزی منٹنگ کی اجازت دیتی ہیں اور اس کو ایتھریم کے علاوہ کسی مخصوص بلاک چین سے بھی نہیں جوڑتیں۔ اس لیے آپ ہر طرح کی اضافی فیس سے بچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی درجنوں پیلٹ فارم ہیں، جن میں سے بائنانس آج کل بہت مقبول مانا جاتا ہے اور اس کی بلاک چین بھی ایتھریم ہی ہے

اب ذکر ہو جائے این ایف ٹی کی چند مثالوں کا

اب تک کی مقبول ترین این ایف ٹیز میں ٹویٹر کے سی ای او کی طرف سے کی گئی دنیا کی اولین ٹوئیٹ ہے، جو کہ قریباً تین ملین ڈالر میں فروخت ہوئی!

”نیان کیٹ“ ، جو ایک اینمیٹڈ بلی ہے، اس کی این ایف ٹی پانچ لاکھ نوے ہزار ڈالر میں نیلام ہوئی

اب تک کی سب سے مہنگی بکنے والی این ایف ٹی کا نام Beeple’s "Everydays: The First 5000 Days ہے، جو کہ 69 ملین ڈالر کی رکارڈ رقم میں فروخت ہوئی!

پاکستان میں این ایف ٹی کی قانونی

اگر دیکھا جائے تو این ایف ٹی کی تجارت کا معاملہ ابھی تک گرے ایریا میں ہے، یعنی غیر واضح ہے۔ گرے ایریا عموماً وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں قانونی طور پر مکمل خاموشی ہو۔ پاکستان میں اس معاملے پر کسی قسم کی قانون سازی تو دور کی بات، ابھی تک کسی بھی قسم کی کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوئی

ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں رہے کہ صورتحال غیر واضح ہونے کا مطلب ممانعت نہیں ہے، اس لیے این ایف ٹی کی خرید و فروخت پر مرکزی بینک کی جانب سے کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہے جیسا کہ بٹ کوائن کے سلسلے میں دیکھنے میں آیا ہے۔ اس لیے شاید اب وہ بہترین وقت ہے جب اس منافع بخش کاروبار کے بارے میں قانون سازی کرکے اس کو مزید محفوظ بنایا جائے. لیکن یہ تو بہرحال اربابِ اختیار ہی کر سکتے ہیں، لیکن آپ وہ سوچیں، جو آپ کر سکتے ہیں!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close