فیصل آباد میں رکشہ ڈرائیور کو ’جلانے‘ کا واقعہ، معاملہ کیا ہے؟

ویب ڈیسک

صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں مبینہ طور پر ایک رکشہ ڈرائیور کو جھگڑے کے دوران آگ لگا کر قتل کیا گیا ہے۔ واضح رہے یہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا آبائی شہر بھی ہے

تھانہ سٹی میں درج ایف آئی آر کے مطابق رکشہ ڈرائیور عبدالجبار جب سلینڈر میں ایل پی جی بھروانے کے لیے ایک دکان پر رکے تو وہاں ان کی تکرار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دکانداروں نے انہیں آگ لگا دی۔ عبدالجبار کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی جان کی بازی ہار گئے

وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو کاروائی کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد اس کیس کی تحقیقات کے لیے پولیس متحرک ہے

فیصل آباد کے پولیس چیف عمر سعید ملک نے بتایا کہ مقدمہ مقتول کے والد کی مدعیت میں درج ہوا ہے، جن کا یہی ماننا ہے کہ جبار کو آگ لگا کر ہلاک کیا گیا ہے

پولیس چیف عمر سعید نے بتایا کہ کیس کی تفتیش ایف آئی آر میں درج حقائق کے مطابق کر رہے ہیں

ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 19 اگست کی رات گیارہ بجے کے قریب پیش آیا، جب مقتول جبار اپنے بیٹے امن کے ساتھ واپس گھر آرہے تھے۔ انہوں نے جب رکشہ میں گیس بھروائی تو اس وقت جھگڑا ہو گیا

مقتول کے بیٹے امن کے مطابق ان کے والد کے چہرے پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی

مقامی میڈیا کو دیے گئے اپنے بیان میں امن نے کہا “میرے سامنے میرے والد کو آگ لگائی گئی۔ جس کے بعد بازار میں بھگدڑ مچ گئی اور کچھ لوگوں نے مل کر پانی پھینک کر آگ بجھائی“

امن نے مزید بتایا ”بازار میں موجود ایک شخص نے میرا ساتھ دیا اور میں اپنے والد کو لے کر ہسپتال پہنچا۔ جب ہم رکشے میں والد کو لے کر جا رہے تھے تو ایک دفعہ پھر ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن جب ہم ہسپتال پہنچے تو تب تک میرے والد انتقال کر چکے تھے“

اس واقعے کے عینی شاہدین کے بیان میں خاصا تضاد دکھائی دیتا ہے تاہم ایک بات مشترک ہے کہ یہ جھگڑا کل ایک سو بیس روپے کا تھا

واقعے کے ایک عینی شاہد محمد رضوان کے مطابق ”عبدالجبار پہلے بھی اس دکان سے ایل پی جی بھروانے آتے تھے لیکن اس بار اچانک پیسوں کا تنازع شروع ہو گیا۔ دکاندار ان سے مزید ایک سو بیس روپے مانگ رہا تھا اور وہ نہ دینے پر بضد تھے۔ اسی دوارن بات گالی گلوچ تک پہنچ گئی اور اردگرد کے لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا کے معاملہ رفع دفع کروا دیا“

ایک اور عینی شاہد کاشف علی کے بقول ”ایک دفعہ جھگڑا ختم ہوا تو اس کے بعد جبار اپنا رکشہ لے کر وہاں سے چلے گئے۔ کوئی لگ بھگ پینتالیس سے پچاس منٹ کے بعد وہ دوبارہ آئے لیکن کسی نے نوٹس نہیں کیا۔ ایک مرتبہ پھر شور اٹھا جب دیکھا تو ایک شخص کو آگ لگی ہوئی تھی اور کچھ لوگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ ریسیکو کو بھی فون کیا جا رہا تھا۔ لوگ اپنے طور پر بھی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ شدید زخمی ہو چکے تھے“

اس حوالے سے ایس ایس پی انویسٹیگیشن فیصل آباد محمد اجمل کا کہنا ہے کہ ابھی تفتیش ابتدائی مرحلے پر ہے لہٰذا زیادہ معلومات نہیں دی جا سکتیں

انہوں نے کہا ”اس موقع پر دیا گیا کوئی بھی بیان مقدمے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ابھی زیادہ تفصیل نہیں بتائی جا سکتی نہ ہی ملزمان کے بیانات تک رسائی دینا ممکن ہے“

ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے بتایا کہ دو ملزمان شاہد اور عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تیسرا ملزم عابد ابھی تک مفرور ہے

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص عبدالجبار کے والد اس مقدمے میں مدعی ہیں اور انہوں نے تین افراد کو ہی مقدمے میں نامزد کیا تھا

انہوں نے کہا ’آگ کیسے لگی پولیس اس بات کی تحقیق انتہائی احتیاط سے کر رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف کہانیاں ضرور ہیں لیکن پولیس ان کہانیوں کی بجائے فرانزک شہادتوں پر فوکس کر رہی ہے۔ ‘

محمد اجمل نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے بہت سی شہادتیں اکٹھی کر لی گئی ہیں، جن کو لیب میں بھجوایا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ بہت جلد پولیس اس بات کی تہہ تک پہنچ جائے گی کہ عبدالجبار دوبارہ واپس کیوں آئے اور ان کو آگ لگنے کا واقعہ کیسے پیش آیا جس میں ان کی جان ہی چلی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close