آزاد بھارت کے پہلے ووٹر 106 سال کی عمر میں چل بسے۔۔

ویب ڈیسک

برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد آزاد بھارت کے پہلے ووٹر شیام سرن نیگی کا جمعے کو شمالی ریاست ہماچل پردیش میں ایک سو چھ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا

انہوں نے رواں ہفتے دو نومبر کو ریاست میں چودہویں اسمبلی انتخابات میں اپنا آخری ووٹ ڈالا تھا

اگست 1947ع میں ملک کی آزادی کے بعد بھارت میں ہونے والے پہلے انتخابات میں وہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے 23 اکتوبر 1951ع کو ہماچل پردیش کے کلپا پولنگ اسٹیشن میں سب سے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا

1951 میں، نیگی پولنگ ٹیم کے رکن تھے اور انہیں واضح طور پر یاد ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا ووٹ شونتھونگ پولنگ اسٹیشن میں ڈالا تھا اور ان کی پولنگ پارٹی کو دس دنوں کی مدت میں پوروانی – ربا – موارنگ – نیسونگ میں پولنگ کرانے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑا تھا

مقامی رپورٹس کے مطابق شیام نے اپنی زندگی میں چونتیسویں بار 2 نومبر کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالا، جو ان کا آخری ووٹ بھی ثابت ہوا

انہوں نے 2 نومبر کو پوسٹل ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد کہا تھا کہ ’’نوجوانوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کے لیے آگے آنا چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف ہمارا حق ہے بلکہ ہمارا فرض بھی ہے کہ ہم اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیں۔‘‘

شیام کے اس کارنامے کا اعتراف ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کیا۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ”یہ قابل ستائش اور نوجوان ووٹروں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے اور ہماری جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے ایک تحریک ہے“

پرینکا گاندھی نے کہا کہ نیگی نے ہر الیکشن میں ووٹ دے کر جمہوریت کے تئیں اپنے فرض کی انوکھی مثال پیش کی

جمعے کو ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر نے بھی شیام کی موت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ”آزاد بھارت کے پہلے ووٹر اور کنور سے تعلق رکھنے والے شیام سرن نیگی جی کے انتقال کی خبر سن کر دکھ ہوا۔ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے انہوں نے دو نومبر کو چونتیسویں مرتبہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنا پوسٹل ووٹ کاسٹ کیا۔ ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی“

چیف الیکٹورل آفیسر منیش گرگ نے شیام کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”انہوں نے جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ووٹروں کی کئی نسلوں کو حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی ترغیب دی“

شیام جولائی 1917 میں ریاست کے کنور ضلع میں پیدا ہوئے تھے

2014ع میں شیام کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ تمام عمر نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے ایک وڈیو میں بھی اداکاری کی

شیام نیگی نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی الیکشن نہیں چھوڑا اور ووٹ ڈالنے کے لیے ہمیشہ پولنگ اسٹیشن گئے، انہوں نے صحت کی خرابی کی وجہ سے گھر سے ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 2 نومبر 2022 کو سہ پہر 3 بجے اپنے گھر سے ووٹ ڈالا۔ جیسا کہ معمول رہا ہے

نیگی نے الیکشن کمیشن کی 12-D سہولت لینے سے انکار کر دیا تھا جو 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ووٹروں کو گھر سے ووٹ ڈالنے کی اجازت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ 12 نومبر کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ بوتھ کا سفر کریں گے۔ اس نے 12-D فارم ریاستی الیکشن ڈپارٹمنٹ کو یہ کہتے ہوئے واپس کر دیا کہ وہ پولنگ بوتھ کا دورہ کرنے کے قابل ہیں، جو کچھ وہ آزادی کے بعد ہر بار کرتے رہے ہیں جب بھی انتخابات ہوئے تھے

الیکشن ڈپارٹمنٹ نے نیگی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا اور 12 نومبر کو ووٹنگ کے دن نیگی کے لیے سرخ قالین پر استقبال کا اہتمام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر خود نیگی کے گھر جا کر انہیں لینے جانے والے تھے، لیکن شیام نیگی کو یہ ووٹ پوسٹل کے ذریعے ہی کاسٹ کرنا پڑا، جو ان کا آخری ووٹ ثابت ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close