Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتاریختازہ ترینخبریں

265 برس بعد کھولے گئے فرانسیسی خطوط کی کہانی۔۔ ان میں کیا لکھا ہے؟

By Akhtar Rasool
نومبر 7, 2023 3 Min Read
0

برطانیہ اور فرانس کے درمیان اٹھارہویں صدی کی جنگ کے دوران فرانسیسی فوجیوں کو لکھے گئے خطوط کو دو سو پینسٹھ برس بعد کھولا گیا اور ان کا مطالعہ کیا گیا

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان خطوط نے 1760ع کی دہائی میں نیوی سیلرز اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کے بارے میں نادر معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ خطوط ایک سینیئر نیول افسر کی بیوی سے لے کر ایک بوڑھی ماں نے لکھے، جو اپنے بیٹے کی طرف سے جواب نہ دینے پر شکایت کر رہی تھیں

رائل نیوی نے پیغامات کو سات سالہ جنگ کے دوران اپنے قبضے میں لے لیا۔ ایک عالمی تنازعہ جو 1763 میں ختم ہوا

1758 میں ایک فرانسیسی جنگی جہاز کے لیفٹیننٹ لوئس چیمبرلین کی بیوی میری ڈوبوسک نے اپنے شوہر لوئس کو لکھا ”میں آپ کو لکھتے ہوئے پوری رات گزار سکتی ہوں، میں آپ کی ہمیشہ کے لیے وفادار بیوی ہوں۔ شب بخیر۔ یہ آدھی رات ہے۔ میرے خیال میں اب میرے آرام کرنے کا وقت ہے“

کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کو معلوم ہوا کہ میری کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے شوہر کے جہاز کو انگریزوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ لوئس کو کبھی بھی یہ خط موصول نہیں ہوا اور اگلے سال ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا

27 جنوری 1758 کی ایک اور یادداشت میں نارمنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ملاح نکولس کوئسنل کی اکسٹھ سالہ ماں مارگریٹ ان سے رابطے کی کمی کی شکایت کر رہی تھیں

انہوں نے لکھا ”میں اپنے آپ سے زیادہ آپ کے بارے میں سوچتی ہوں۔ جو بھی صورتحال ہے، میں آپ کو خدا کی برکتوں سے بھرے نئے سال کی مبارک دیتی ہوں“

ماں نے بیٹے کے نام لکھا ”مجھے لگتا ہے کہ میں قبر میں جانے والی ہوں، میں تین ہفتوں سے بیمار ہوں۔ میری نیک تمنائیں ورین (ایک جہاز کے ساتھی) کو پہنچاؤ، یہ صرف اس کی بیوی ہے، جو مجھے تمہاری خبریں پہنچاتی ہے“

اُس وقت جن خطوط کی فوجی اہمیت نہیں تھی، انہیں برطانوی حکام نے محفوظ شدہ دستاویزات میں رکھ دیا۔ پھر کیمبرج یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر ریناؤڈ موریکس کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی

پروفیسر ریناؤڈ موریکس کہتے ہیں ”میں نے تجسس کی وجہ سے خطوط سے بھرا ڈبّا منگوایا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں ان ذاتی پیغامات کو پڑھنے والا پہلا شخص ہوں۔ ان کے وصول کنندگان کو یہ موقع نہیں ملا۔ یہ بہت جذباتی لمحہ تھا“

1758 میں فرانس کے ایک تہائی نیوی سیلرز کو انگریزوں نے پکڑ لیا تھا۔ سات سالہ جنگ کے پورے عرصے میں تقریباً پینسٹھ ہزار انگریزوں کے ہاتھوں قید ہوئے۔ کچھ بیماری اور غذائی قلت سے مر گئے، جبکہ دوسروں کو رہا کر دیا گیا تھا

ریناؤڈ موریوکس کا کہنا ہے ”خطوط واحد ذریعہ ہوتے تھے، جن سے اہلِ خانہ ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ خطوط ظاہر کرتے ہیں کہ ہم سب زندگی کے بڑے چیلنجوں سے کیسے نمٹتے ہیں“

وہ کہتے ہیں ”آج ہمارے پاس زوم اور واٹس ایپ ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں لوگوں کے پاس صرف خطوط ہوتے تھے، لیکن وہ جو لکھتے تھے وہ بہت مانوس محسوس ہوتا ہے۔“

Tags:

265 yearsall popes in historyall popes in order with picturesall popes of the catholic churchall the popes in historyancient historydichotomy of leadershipeinstein's theories of relativity explained simplefall of the soviet unionfrench artistsFrench Literaturefrench writersHistoryhow to split text into two columns in microsoft wordletters of noteletters writtenpopes in historypopes of the catholic churchwheel of fortune answers
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

غزہ کا پیاسا کتا اور آخری گھونٹ

Next

بلیوں کے چہرے کا تاثرات کے بارے میں سائنسدانوں کی تحقیق ہمیں کیا بتاتی ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme