’وَرتھر ایفیکٹ‘ کو سمجھیں اور خودکشی کو رومانوی مت بنائیں!

امر گل

خودکشی ایک ناقابلِ تلافی المیہ ہے، مگر اس سے جڑا ایک المیہ یہ ہے کہ اس پر ہونے والی بحث اکثر غلط سمت اختیار کر لیتی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر، جہاں کسی نوجوان کی خودکشی کو رومانوی (Romantic) رنگ دے دیا جاتا ہے۔۔ غمگین تحریریں، درد بھری شاعری، جذباتی وڈیوز اور بلیک اینڈ وائٹ تصویریں اس واقعے کو ایسا روپ دیتی ہیں کہ کم جذباتی ذہانت رکھنے والے نوجوان، جو خودنمائی کے ٹھاٹھیں مارتے جبلی تقاضے کے زیرِ اثر ہوتے ہیں، وہ اسے ’خود کو ثابت کرنے‘ کا ایک طریقہ سمجھنے لگتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے دور میں ’ٹریجک رومانس‘ ایک نیا رجحان بن چکا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی کا خاتمہ کرتا ہے، تو لوگ اس کے آخری الفاظ، تصویریں، اور یادیں اس انداز میں شیئر کرتے ہیں کہ ان کا دوسرے نوجوانوں میں اندوہناک اقدام کے لیے بطور محرک خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں یہ رویہ دراصل سوشل میڈیا کی غیر محتاط جذباتیت کا مظہر ہے، جو ان افراد کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جو پہلے ہی ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا شکار ہیں یا جذباتی طور پر خودنمائی کے تقاضے کی شدت سے مغلوب ہیں۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خودنمائی کے اس جبلی تقاضے کی وجہ سے توجہ، انسان کی جذباتی بھوک کی تسکین کے لیے تر نوالے کی طرح ہوتی ہے، جو کبھی کبھی زندگی کی قیمت پر بھی حاصل کی جاتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایک جذباتی ردِعمل تک محدود نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، ادب، اور سوشل میڈیا کے غیر محتاط اظہار سے بھی جڑا ہوا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، ہر سال تقریباً 7 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں، اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ٹین ایجرز اور نوجوانوں میں یہ رجحان تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔

یوں تو اس رجحان کی کئی وجوہات ہیں، جن پر اکثر اوقات بات ہوتی رہتی ہے لیکن ایک اہم عامل پر شاذ ہی گفتگو کی جاتی ہے، جسے اصطلاحاً ورتھر یا وردھر افیکٹ Werther Effect کہا جاتا ہے، جو موت کی رومانویت سے منسلک ہے۔

جب خودکشی کو ایک ’خوبصورت المیہ‘ یا ’شاعرانہ انجام‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو جذباتی اور ناپختہ ذہنیت رکھنے والے افراد اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہم نے ابتدائی پیراگراف میں جو بات کی ہے، اس کے تناظر میں بدقسمتی یہ ہے کہ یہ صورتحال کچے ذہنوں پر اپنے گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ادب میں بھی خودکشی کو ایک ’حساس اور گہرا‘ موضوع بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ کئی افسانوں، ناولوں اور شاعری میں خودکشی کو محبت کی انتہا یا دنیا سے بغاوت کے علامتی اظہار کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ شاعری میں ’خودکشی‘ کو کئی بار رومانوی اور المیہ انداز میں لکھا گیا، جو نوجوان قارئین کو منفی طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

یہ تخلیقی اظہار ایک فنکارانہ رویہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کا عملی اثر خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں پر جو ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خودکشی کی رومانی تصویر کشی کے شدید نقصانات ہیں۔ جب ایک نوجوان سوشل میڈیا پر کسی کی خودکشی کی ’رومانوی داستان‘ دیکھتا ہے، لوگوں میں ہمدردی کے جذبات امڈتے دیکھتا ہے تو وہ بھی خود کو اسی کہانی میں دیکھنے لگتا ہے۔

آپ نے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو بیمار ظاہر کرنے والے نفسیاتی رویے کے بارے میں ضرور پڑھا ہوگا۔۔ یہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، بس بیمار ظاہر کرنے کی بجائے، یہاں اس کی جگہ خودکشی جیسا انتہائی قدم لے لیتا ہے!

اس ضمن میں معاشرتی ذمہ داری سے انحراف ایک المیہ ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم خودکشی کے اصل اسباب پر بات کریں اور ان کے حل تلاش کریں، ہم جذباتی تحریروں، وڈیوز، اور شاعری میں الجھ جاتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق، کسی کی خودکشی کی زیادہ تشہیر کرنے سے دوسرے لوگ بھی اس کی نقالی کرنے لگتے ہیں۔ اسی رجحان کو ’وَرتھر ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جب میڈیا میں کسی کی خودکشی کو نمایاں کیا جاتا ہے تو یہ عمل دوسروں کے لیے محرک بن سکتا ہے۔

آئیے سمجھنے کی کوشش کریں کہ وردھر افیکٹ کیا ہے؟

خودکشی کے حوالے سے ایک اہم ویب سائٹ سوسائیڈ بیریویمنٹ یوکے کے مطابق ورتھر اثر ایک معروف عالمی نفسیاتی رجحان ہے، جو اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب مشہور شخصیات یا دیگر معروف شخصیات کی خودکشی کی خبریں میڈیا میں نمایاں طور پر شائع ہونے کے بعد خودکشی کی شرح میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

یہ اصطلاح جرمن مصنف جوہان وولفگانگ فان گوئٹے کے ناول دی سارووز آف ینگ ورتھر (The Sorrows of Young Werther) کی اشاعت کے بعد سامنے آئی۔ یہ کہانی ایک جذباتی محبت کی داستان ہے، جو خودکشی پر منتج ہوتی ہے۔ اس ناول نے جرمن ادب کو عالمی سطح پر متعارف کروایا اور جلد ہی اس کے فرانسیسی اور انگریزی تراجم بھی شائع ہوئے۔

ورتھر کا مخصوص لباس، لمبے جوتے، پتلون، پیلا جیکٹ اور نیلا کوٹ، اس قدر مشہور ہوا کہ فیشن کا حصہ بن گیا، اور ناول سے متاثرہ مختلف اشیاء جیسے کہ سجاوٹی چینی کے برتن، پنکھے، خوشبوئیں اور تصویری خاکے تیار کیے جانے لگے۔

اٹھارہویں صدی میں ناول ایک انتہائی جذباتی ذریعہ اظہار تھا، اور اس کتاب کے اثرات کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ امکان ہے کہ اس ناول کو پڑھنے والے وہ افراد، جو اس کے مرکزی کردار سے مماثلت رکھتے تھے، خودکشی کے رجحان میں مبتلا ہو گئے۔

معروف طبی جریدہ لانسٹ گوئٹے کا یہ بیان نقل کرتا ہے:
”میرے دوستوں نے محسوس کیا کہ انہیں شاعری کو حقیقت میں بدلنا ہوگا، ایسے ناول کی تقلید کرنی ہوگی اور حقیقت میں خود کو گولی مارنی ہوگی۔ جو پہلے چند افراد میں دیکھا گیا، وہ بعد میں عام عوام میں بھی پھیل گیا۔“

یہ رجحان اس حد تک نمایاں ہو چکا ہے کہ اس نے میڈیا کے لیے نئی ہدایات متعارف کروا دی ہیں، تاکہ خودکشی سے متعلق خبروں کی رپورٹنگ ذمہ داری سے کی جائے۔ ان ہدایات میں نہ صرف الفاظ اور جملے کے انتخاب بلکہ تصاویر اور تفصیلات کے حوالے سے بھی رہنمائی شامل ہے، تاکہ ان خبروں کا نفسیاتی طور پر نازک افراد پر منفی اثر کم سے کم ہو۔

یہ اصطلاح پہلی بار 1974 میں محقق ڈیوڈ فلپس نے اپنے ابتدائی تحقیقی مطالعے میں استعمال کی، جس میں انہوں نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ خودکشی پر مبنی خبروں کا لوگوں پر کیا اثر ہوتا ہے۔

یہ تحقیق سامنے آئی کہ 1947 سے 1968 کے درمیان برطانیہ اور امریکہ میں جیسے ہی کسی خودکشی کی خبر اخبار میں شائع ہوتی، اس کے فوراً بعد خودکشی کی شرح میں اضافہ دیکھا جاتا۔ اس پر مستزاد یہ، کہ یہ اضافہ زیادہ تر ان علاقوں تک محدود ہوتا، جہاں یہ خبر گردش کر رہی ہوتی۔

اکیسویں صدی میں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی موجودگی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب محققین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ٹوئٹر، فیس بک اور اس طرح کے دیگر پلیٹ فارمز کس حد تک خودکشی کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیا میں خودکشی کی خبروں کو پیش کرنے کے طریقے میں تبدیلی درحقیقت خودکشی کی شرح کو کم بھی کر سکتی ہے، یہ رجحان پاپاگینو اثر (Papageno Effect) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگر میڈیا میں ایسے افراد کی کہانیاں پیش کی جائیں جو خودکشی کے خیالات سے کامیابی سے باہر نکلے، یا ذہنی صحت کی خدمات کا ذکر کیا جائے، تو یہ شرح کم ہو سکتی ہے۔

ورتھر اثر کے بارے میں بہتر فہم خودکشی کی روک تھام پر کام کرنے والے ماہرینِ صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو خودکشی کے متاثرین کے قریبی افراد سے واسطہ رکھتے ہیں۔

اپنی حساسیت کے پیش نظر یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہمیں جذباتی، عامیانہ اور سطحی سوچ کی بجائے انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر خودکشی کی خبروں کی نوعیت براہ راست اس کے اثرات کو متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کسی بھی خودکشی کی خبر میں طریقہ کار، تصاویر، یا زیادہ ذاتی تفصیلات شامل نہ کی جائیں کیونکہ یہ دوسرے لوگوں کے لیے ’نقشہ‘ فراہم کر سکتی اور محرک بن سکتی ہیں۔

کسی کی موت پر غمگین ہونا فطری ہے، لیکن اسے خوبصورت یا شاعرانہ بنا کر پیش کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کسی کی خودکشی کی خبر دیکھیں، تو غیر ضروری شیئرنگ سے گریز کریں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے روکیں۔ ہمدردی ضرور کریں لیکن اس انداز میں کہ یہ دوسروں کے لیے خطرہ نہ بنے۔

لہٰذا میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے اصول متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ خودکشی کی خبریں رپورٹ کرتے وقت احتیاط سے کام لیں اور غیر ضروری جذباتیت سے بچیں۔ خودکشی سے متعلق مواد کو ’مدد حاصل کرنے‘ کے پیغام کے ساتھ جوڑیں تاکہ لوگ خود کو اکیلا محسوس نہ کریں۔

اگر ورتھر ایفیکٹ یہ بتاتا ہے کہ خودکشی کی خبریں دوسرے لوگوں کو خودکشی پر مائل کر سکتی ہیں، تو پاپاگینو ایفیکٹ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم ایسے افراد کی کہانیاں سنائیں جو خودکشی کے خیالات سے نکل کر زندگی کی طرف لوٹ آئے، تو یہ دوسروں کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہیں۔

ایسے لوگوں کی کہانیاں شیئر کریں جو ڈپریشن کے باوجود زندگی میں کامیاب ہوئے۔ ذہنی صحت کے حوالے سے مثبت گفتگو کو فروغ دیں۔ لوگوں کو سکھائیں کہ مشکلات کا سامنا ہمت اور مدد کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، نہ کہ خود کو ختم کر کے۔

سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، جو یا تو کسی کی جان بچا سکتا ہے یا کسی کو موت کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس سمت جانا چاہتے ہیں۔ خودکشی کسی بھی حال میں ایک ’خوبصورت انجام‘ نہیں، بلکہ ایک المناک حقیقت ہے۔

یہ ضروری ہے کہ ہم نوجوانوں کو جذباتی طور پر مضبوط بنائیں، انہیں سکھائیں کہ ناکامی زندگی کا حصہ ہے، اور سب سے بڑھ کر، یہ کہ مدد مانگنا کمزوری نہیں بلکہ بہادری ہے۔

سو خدارا ، اس موت کو رومانی مت بنائیں۔ خودکشی کسی بھی حال میں ’خوبصورت‘ یا ’رومانوی‘ نہیں ہے، بلکہ ایک اندوہناک حقیقت ہے، جس کا سدِباب ضروری ہے۔ ادب، میڈیا، اور سوشل میڈیا کو اس حساس معاملے پر ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ والدین، اساتذہ اور معاشرہ سب مل کر نوجوانوں کی جذباتی صحت بہتر بنا سکتے ہیں تاکہ وہ زندگی کی مشکلات کا سامنا حوصلے سے کر سکیں، نہ کہ مایوسی میں خود کو ختم کر دیں۔

یہ ضروری ہے کہ ہم خودکشی کو رومانوی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کے حقیقی اور المناک پہلوؤں پر بات کریں۔ جذباتی تحریریں، درد بھری شاعری اور فلمی مناظر وقتی طور پر کسی کے دل کو چھو سکتے ہیں، مگر ان کا اثر بعض ذہنوں پر تباہ کن بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں خودکشی کو کسی ’خوبصورت المیے‘ کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کے اسباب پر غور کرنا چاہیے اور ان کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ذہنی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کریں، جذباتی طور پر کمزور افراد کی مدد کریں اور ایسا معاشرتی ماحول پیدا کریں جہاں لوگ اپنی مشکلات کا کھل کر اظہار کر سکیں، بجائے اس کے کہ وہ خاموشی سے ایک ناقابلِ واپسی راستہ اختیار کر لیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close