ایک آسان سی ورزش اور فائدے بے شمار

نیوز ڈیسک

بڑھاپے کا سہارا، چوٹ لگنے کا کم خطرہ، چال ڈھال میں سدھار، اعتماد اور زندگی میں واضح بہتری.. اگر آپ یہ اور ایسے کئی فائدے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک بہت آسان طریقہ ہے۔ بس تیس سیکنڈ کے لیے ایک پیر پر کھڑے ہو جائیے اور اس کے بعد یہی ورزش دوسرے پیر کے ساتھ بھی کریں

آپ دیکھں گے کہ آپ آہستہ آہستہ توازن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایسا کرتے رہنے سے آپ کی چال میں تبدیلی نظر آئے گی اور گرنے کے امکان بھی کم ہو جائیں گے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ایکسیڈنٹ کے بعد سب سے زیادہ لوگ حادثاتی طور پر گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ ماضی کے مقابلے اب ہم انسانوں کی جسمانی توازن قائم کرنے صلاحیت کم ہو گئی ہے

ماضی میں ہوتا یہ تھا کہ لوگ دن کا بیشتر حصہ چل پھر کر گزارا کرتے تھے، لیکن اب ہم میں سے بہت سے لوگ بیٹھے بیٹھے کام کرتے ہیں۔ ہم کبھی موبائل تو کبھی ٹی وی سکرین پر نظریں گاڑے رہتے ہیں۔ مسلسل بیٹھے رہنے والے اس طرز زندگی کے سبب ہماری توازن کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے اور ہمیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے

اچھی بات یہ ہے کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جنھیں زندگی میں شامل کر کے آپ بہتری لا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک پیر پر کھڑا ہونا۔ سائنسی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک پیر پر کھڑے ہونے سے جسمانی اور قلبی دونوں قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں

زندگی میں کامیابی کے ساتھ توازن کو شامل کر لینا زبردست بات ہے۔ اصل میں سیدھا چلنے، دوڑنے، کودنے جیسے مشکل کاموں کے دوران آپ کے ذہن کو جسم کے ساتھ توازن بنا کر چلنا ہوتا ہے۔ اور یہی ہمیں واپس اپنی زندگی میں شامل کرنا ہے

اس عمل کے دوران ہمارے کان اور آنکھیں دماغ کو پیغام بھیجنے لگتے ہیں۔ یہاں تک پٹھے اور جوڑ بھی آپ کو آپ کے جسم کی حرکت کے بارے میں مطلع کرنے لگتے ہیں

جسمانی توازن ہونا انسان کو بہت سے مشکل کام کرنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر باسکٹ بال کھیلتے ہوئے آپ بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ آپ سے بال چھن سکتی ہے، دوڑتے رہتے ہیں

گلاسگو کی کیلیڈونین یونیورسٹی کے فیزیولاجسٹ ڈان سکیلیٹن کہتے ہیں ’افسوس کی بات ہے کہ ہم پینتیس سے چالیس برس کی عمر کے دوران ہی سیدھے کھڑے ہونے کی صلاحیت کو گنوانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور کبھی کبھی تو اس سے بھی پہلے۔’

وہ کہتے ہیں’ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ہمارے پٹھے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ ہمارا ذہن بھی ماضی کی طرح تیز نہیں رہ جاتا۔ جسم کے مختلف اعضاء سے بھیجے جانے والے پیغامات کو سمجھنے کا کام دماغ کرتا ہے۔’

دراصل جسم توازن قائم کرنے کے لیے ان پیغامات کی بنیاد پر طے کرتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے یا کس قسم کی تبدیلی لانی چاہیے اور یہ سب سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں ہوتا ہے۔ ایک عمر میں تو یہ سب بغیر زیادہ کوشش کے بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے۔ لیکن عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکلیں بڑھتی جاتی ہیں

جیسے جیسے دیگر جسمانی صلاحیتیں ماند پڑنے لگتی ہیں، جسم کی توازن کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے اور انسان لڑکھڑانے لگتا ہے۔ اس کے کئی اور بھی نتائج ہوتے ہیں۔ ہم خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں

ڈاکٹر ڈان سکیلیٹن کہتے ہیں ’گرنے کے ڈر سے ہمیں چلنے پھرنے میں بھی ڈر لگنے لگتا ہے۔ اس سے سماجی اعتبار سے الگ تھلگ پڑ جانے کا خدشہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ہماری ذہنی صحت کے لیے بھی یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘

اور اگر آپ پھر بھی یہ سوچتے ہیں کہ اس بارے میں فکرمند ہونے کے لیے ابھی آپ کے پاس بہت وقت ہے، تو ممکنہ طور پر آپ غلط ہیں

ڈاکٹر سکیلیٹن نے بتایا کہ ’ہر گزرتی نسل کے ساتھ انسان کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات سننے میں عجیب لگتی ہے۔ لیکن جسمانی حرکات اور طرز زندگی پر غور کر کے یہ باتیں سامنے آئی ہیں۔ اصل میں توازن کے لیے آپ کو صرف کھڑے ہونے اور اپنے آس پاس کے ماحول سے تال میل قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

وہ کہتے ہیں کہ ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی عمر کیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم ٹی وی، کمپیوٹر اور موبائل سکرین کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں۔ یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ ہر گزرتی نسل کے ساتھ جسمانی توازن میں کمزوری بڑھتی جا رہی ہے۔‘

لیکن کچھ اقدامات ہیں جو آپ اس سے بچنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ اور خود کو بدلنے میں کوئی دیر نہیں ہوتی۔ انسان کبھی بھی اپنے طرز زندگی کو بدل سکتا ہے اور اپنا کھویا ہوا جسمانی توازن حاصل کر سکتا ہے

روزمرہ زندگی میں ہمیں کچھ ایسے لمحات کا انتخاب کرنا ہوگا جب ہم اس ورزش کو دوہرا سکیں۔ ایسی ورزش جو ہمارے جسمانی نظام کو چیلنج کرتی ہو۔ مثال کے طور پر ایک پیر پر کھڑا ہونا۔ لڑکھڑاہٹ ہو گی، لیکن اس سے گھبرائیں نہیں

توازن کے لیے ہمارے جسم میں جو نظام کام کرتا ہے وہ اعصابی نظام کے ذریعے نئے روابط قائم کرنے میں ماہر ہوتا ہے۔ یہ ہمارے ذہن کا ہی کام ہے کہ ہمیں سیدھا کھڑا ہونا سکھائے اور جب ہم لڑکھڑاتے ہیں تو ہمیں توازن میں مدد کرتا ہے

تو ایسا کیجیے کہ لڑکھڑاتے رہیے۔ جب بھی کبھی ایک پیر پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے تو ذہن کو نئے سرے سے توازن پر غور کرنے کا موقع ملے گا اور وہ کان، آنکھ، جوڑ اور پٹھوں کے درمیان مراسلات کے ذریعے توازن قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ہمارے سبھی جوڑ اور پٹھے ذہن کو مسلسل پیغام بھیجتے رہتے ہیں

اگر آپ کوشش کریں گے تو بہت جلد توازن قائم کرنے کی صلاحیت کو بہتر ہوتا پائیں گے۔ اور اس کا آپ کی زندگی پر مثبت اثر پڑے گا۔

اندر سے مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے چلنے کے انداز میں سدھار ہوگا۔ ممکن ہے کہ آپ جھک کر چلنے کے بجائے سیدھی پیٹھ کر کے چلنے لگیں۔ اس کے علاوہ اس سے آپ کم عمر لگنے لگیں گے اور موڈ بھی اچھا رہے گا

توازن کی پریکٹس چال ڈھال کے علاوہ جسمانی مضبوطی کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ اگر آپ بھی ان دنوں گھر سے ہی دفتر کا کام کر رہے ہیں تو بیٹھے رہنے کے سبب پیدا ہونے والی مشکلات سے لڑنے میں یہ طریقہ کارگر ثابت ہوگا۔ سیدھے کھڑے رہنے سے جسمانی صحت کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ اور بھی کوشش کرتے ہیں تو فائدہ دو گنا ہو جاتا ہے۔

کیا آپ نے کوشش کی؟ اور کیا آپ بغیر زیادہ مشکل کے ایک پیر پر کھڑے ہونے میں کامیاب رہے؟ اب آنکھیں بند کر لیجیے۔ آنکھوں سے جو پیغامات ذہن تک بھیجے جاتے ہیں ان کا توازن میں بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے ایک پیر پر کھڑے رہنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے

اگر آپ بغیر گرے دس سیکنڈ تک ایک پیر پر کھڑے رہ گئے تو سمجھ لیجیے کہ یہ اچھی شروعات ہے۔ ڈاکٹڑ سکیلیٹن نے بتایا کہ اگر آپ پریکٹس کرتے رہیں تو کچھ عرصے بعد آپ آنکھیں بند کر کے بھی ایک منٹ تک ایک پیر پر کھڑے رہنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں

ایک پیر پر کھڑے رہنے کے مشق کو آپ اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ آپ برش کرتے وقت یا ٹی وی دیکھتے وقت بھی ایسا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ اس کے فائدے بھی محسوس کریں گے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close