
جب انوپ اپنے دو سالہ بیٹے کا گلک توڑ کر پیسے نکال رہا تھا، تو اس کی بیوی بچے کے پیسوں پر ہاتھ صاف کرنے کی حرکت پر غصہ کر رہی تھی
لیکن انوپ نے بیوی کے غصے کو نظرانداز کر دیا اور گلک سے پچاس روپے لے کر ’اونم بمپر‘ لاٹری کا ٹکٹ خریدا۔۔ اس نے جو ٹکٹ خریدا، اس ٹکٹ نے اسے پچیس کروڑ کا انعام جتوا دیا
انوپ کا کہنا ہے ’میری بیوی غصے سے کہہ رہی تھی کہ لاٹری ٹکٹ کے لیے گلک توڑنا ٹھیک نہیں ہے۔۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ لاٹری نکل آئی ہے تو مجھے یقین نہیں آیا۔ پہلے تو میری بیوی کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا لیکن بعد میں وہ بہت خوش ہوئی“
انوپ کو یہ لاٹری ٹکٹ خریدنے کے لیے پانچ سو روپوں کی ضرورت تھی لیکن اس کے پاس ساڑھے چار سو روپے تھے اور پچاس روپے کی کمی اس نے اپنے بیٹے کے گلک کو توڑ کر پوری کی
اس کے مطابق ”اگلے ہی دن لاٹری کی قرعہ اندازی ہونے والی تھی اس لیے میرے پاس کوئی اور طریقہ نہیں تھا لیکن میری یہ کوشش میرے خاندان کے لیے قسمت کا دروازہ کھولنے کے مترادف ثابت ہوئی“
کیرالہ کے دارالحکومت تروننتاپورم کے رہنے والے انوپ پر کئی لاکھ کا قرض ہے، جو وہ اب اس انعامی رقم سے اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے
یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ پچھلے سال اونم بمپر لاٹری کا سب سے بڑا انعام ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کے نام نکلا تھا اور انوپ بھی آٹو رکشہ چلاتا رہا ہے
انتیس سالہ انوپ کا کہنا ہے ’میں ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا۔ کچھ عرصہ دبئی میں بھی رہا۔ واپس آنے کے بعد میں نے یہاں رکشہ چلانا شروع کیا۔ میں ہر ماہ بیس سے پچیس ہزار روپے کماتا تھا لیکن تین مہینے پہلے میں نے کام چھوڑ دیا تھا۔‘
رکشہ چلانے کی نوکری چھوڑنے کے بعد، انوپ نے اپنے تجربے کی بنیاد پر بطور شیف نوکری کی تلاش شروع کی اور اسے ملائیشیا میں پچاس ہزار روپے ماہانہ کی نوکری بھی مل گئی
ملائیشیا جانے کے لیے اس نے مقامی بینک میں تین لاکھ روپے قرض کے لیے بھی درخواست دی تھی۔ انوپ کے مطابق ’انعام نکلنے سے ایک دن قبل ہی بینک نے میری قرض کی درخواست منظور کی لیکن میں ابھی تک بینک نہیں گیا‘
انوپ سات برس سے لگاتار لاٹری ٹکٹ خرید رہا ہے، لیکن اس سے پہلے اسے کبھی بھی دو ہزار روپے سے زیادہ جیتنے کا موقع نہیں ملا
اس نے کہا، ’پہلے میں لاٹری کے ٹکٹ کبھی کبھار ہی خریدتا تھا لیکن کچھ برسوں سے میں نے باقاعدگی سے ٹکٹ خریدنا شروع کیے۔‘
اس کا کہنا ہے ’سب سے پہلے میں قرض واپس کروں گا، پانچ سے چھ لاکھ روپے کا قرض ہے‘
ٹیکس اور لاٹری ایجنٹ کے کمیشن کی ادائیگی کے بعد، انوپ کو 25 کروڑ کی انعامی رقم سے کل 15 کروڑ 75 لاکھ روپے ملیں گے
اس سوال پر کہ وہ اس رقم کا کیا کریں گے، انوپ نے کہا، ’ابھی تک کچھ نہیں سوچا ہے۔ میں ابھی تک خوفزدہ ہوں۔ میں گھر ضرور بناؤں گا، ضرورت مندوں کی مدد بھی کروں گا۔ اس کے علاوہ ایک ہوٹل بھی کھولوں گا‘
اس کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ایک کام وہ ضرور کرے گا اور وہ یہ کہ ’جیک پاٹ‘ جیتنے کے بعد بھی وہ لاٹری کا ٹکٹ خریدتا رہے گا
خیال رہے کہ کیرالہ حکومت کو لاٹری ٹکٹوں کی فروخت سے بہت آمدن ہوتی ہے
گذشتہ ہفتے تک حکومت نے لاٹری ٹکٹس کی فروخت سے تقریباً 270 کروڑ روپے اکٹھے کیے تھے اور یہ آمدن انعام کی رقم اور جنرل سیلز ٹیکس کی ادائیگیوں کو منہا کرنے کے بعد کی ہے۔