سمیولشن: کیا ہماری دنیا محض کسی سپرکمپیوٹر کا کھیل ہے؟ سائنس کی نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟

ویب ڈیسک

کیا کبھی آپ کے ذہن میں یہ خیال آیا ہے کہ اگر یہ ساری دنیا، یعنی ہم، آسمان، زمین، ستارے، وقت سب کچھ کسی بہت بڑے کمپیوٹر کی بنائی ہوئی سِمیولیشن ہو تو؟ جیسے ہم موبائل گیمز یا ورچوئل دنیا بناتے ہیں، ویسے ہی کوئی ترقی یافتہ مخلوق ہمیں چلا رہی ہو؟ یہ سوال کافی عرصے تک صرف فلموں اور ناولوں کا حصہ تھا، لیکن اب طبیعیات دانوں نے اسے سنجیدہ سائنسی تحقیق کا موضوع بنا لیا ہے اور حیران کن نتیجہ اخذ کیا ہے۔

ایک عرصے سے یہ خیال زیرِ بحث تھا کہ شاید ہماری پوری کائنات کسی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب کے سپرکمپیوٹر کی تیار کردہ ایک سِمیولیشن ہو، بالکل ویسے جیسے ہم خود ورچوئل دنیا تخلیق کرتے ہیں۔ یعنی ہم جو کچھ دیکھتے، محسوس کرتے اور جیتے ہیں، وہ محض کوڈ اور ڈیجیٹل ہدایات کا نتیجہ ہو، لیکن حالیہ سائنسی تحقیق نے اس خیال کو محض کمزور نہیں کیا، بلکہ ریاضی کی بنیاد پر اسے ناممکن قرار دے دیا ہے۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ سِمیولیشن Simulation کا مطلب ہے: کسی نظام یا حقیقت کے عمل، قوانین، یا رویوں کو ماڈل یا پروگرام کے ذریعے پیش کرنا تاکہ اس کی نقل کی جا سکے یا اس کا مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ اصلی حقیقت کی سو فیصد نقل نہیں ہوتی، بلکہ نمونہ یا ماڈل کی سطح پر حقیقت کی نمائندگی ہوتی ہے۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اوکناگن سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر میر فیضل نے ایک بین الاقوامی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا، جس میں ڈاکٹر لارنس ایم کراوس، ارشد شبیّر اور فرانچیسکو مارینو شامل ہیں۔ ان سب نے مل کر یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کسی بھی کمپیوٹر یا سِمیولیشن کے ذریعے مکمل طور پر نقل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق حقیقت کی بنیاد ایسی سطح پر ہے جو کسی پروگرام، کسی الگورتھم اور کسی مشینی منطق سے باہر ہے۔

ان کی یہ تحقیق جرنل آف ہولوگرافی ایپلی کیشنز ان فزکس میں شائع ہوئی ہے۔ یہ مطالعہ اس عام خیال سے آگے بڑھتا ہے کہ شاید ہم دی میٹرکس جیسی کسی فرضی دنیا میں رہ رہے ہوں۔ اس کے برعکس، یہ ایک زیادہ گہرا نتیجہ پیش کرتا ہے: خود کائنات کی بنیاد ایسی فہم پر ہے جسے کوئی بھی کمپیوٹر یا پروگرام (الگورتھم) مکمل طور پر قابو یا نقل نہیں کر سکتا۔

الگورتھم دراصل قدم بہ قدم ہدایات کا ایک منظم طریقہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے کسی مسئلے کو حل کیا جاتا ہے یا کسی کام کو مکمل کیا جاتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ہم کھانا بنانے کی ترکیب میں پہلے سامان تیار کرتے ہیں، پھر مرحلہ وار عمل کرتے ہیں؛ اسی طرح کمپیوٹر یا موبائل بھی الگورتھم کے ذریعے یہ طے کرتے ہیں کہ پہلے کیا کرنا ہے، پھر کیا، تاکہ آخر میں درست اور مطلوبہ نتیجہ حاصل ہو سکے۔

یہ تحقیق خود حقیقت کی ایک حیرت انگیز خاصیت پر مبنی ہے۔ اس تحقیق کو سمجھنے کے لیے ہمیں فزکس کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنی پڑتی ہے۔ جدید طبیعیات نیوٹن کے اس سادہ تصور سے بہت آگے نکل چکی ہے جس میں مادی اشیاء خلا میں ٹکراتی تھیں۔ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت نے نیوٹنی میکینکس کی جگہ لی، پھر کوانٹم میکینکس نے ہماری سمجھ کو دوبارہ بدل دیا۔ آج کا جدید ترین نظریہ، کوانٹم گریویٹی یہ تجویز کرتا ہے کہ خلا اور وقت بھی بنیادی نہیں ہیں، بلکہ وہ کسی گہری شے سے ابھرتے ہیں: خالص معلومات (Pure Information) سے۔

یعنی بہت سادہ الفاظ میں، کائنات کی جڑ میں مادّہ نہیں بلکہ معلومات ہیں۔

یہ سن کر یوں لگتا ہے کہ اگر سب کچھ معلومات ہی ہے تو شاید یہ کسی کمپیوٹر پر بھی چل سکتا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہاں آتا ہے۔

سائنسدانوں نے ایک پرانا لیکن طاقتور ریاضیاتی اصول استعمال کیا جسے گُوڈل کا نظریہ کہتے ہیں۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ ہر منطقی نظام کی ایک حد ہوتی ہے۔ کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو سچ تو ہوتی ہیں، لیکن انہیں کمپیوٹر یا فارمولوں کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

اس کی ایک سادہ مثال یہ جملہ ہے: ”یہ سچا بیان ثابت نہیں کیا جا سکتا۔“ اگر یہ ثابت کیا جا سکے تو یہ جھوٹ ہو جائے گا اور منطق غیر متوازن ہوگی۔ اگر یہ ثابت نہ ہو سکے تو یہ سچ ہوگا، مگر اس سے ہر ایسا نظام نامکمل ثابت ہو جائے گا جو اسے ثابت کرنا چاہتا ہے۔ دونوں صورتوں میں محض کمپیوٹر ناکام ہی رہتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپیوٹر اور منطق کی ایک دیوار ہوتی ہے جس سے آگے وہ نہیں جا سکتے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ کائنات کی اصل بنیاد اسی ”دیوار“ کے پار ہے۔ یعنی حقیقت کی جڑ میں جو فہم اور اصول ہیں، وہ الگورتھم سے باہر ہیں۔

ڈاکٹر فیصل کہتے ہیں ”ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ جسمانی حقیقت کے تمام پہلوؤں کو کوانٹم گریویٹی کے ایک خالصتاً کمپیوٹیشنل نظریے کے ذریعے بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر چیز کا کوئی بھی جسمانی طور پر مکمل اور متوازن نظریہ صرف کمپیوٹیشن سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے، اس کے لیے غیر الگورتھمی فہم درکار ہے، جو کوانٹم گریویٹی کے کمپیوٹیشنل قوانین سے بھی زیادہ بنیادی اور خود خلا و وقت سے بھی زیادہ بنیادی ہے۔“

اس تناظر میں یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ حقیقت کی بنیادی سطح ایسے اصولوں پر کھڑی ہے جو کمپیوٹر کے دائرے میں قید ہی نہیں ہو سکتے۔

اب یہاں سے بات بہت سادہ ہو جاتی ہے: ہر سِمیولیشن ایک پروگرام ہوتی ہے۔ ہر پروگرام الگورتھم پر قائم ہوتا ہے۔ اور اگر حقیقت خود الگورتھم سے باہر ہے، تو کائنات کسی پروگرام کی بنی ہوئی کیسے ہو سکتی ہے؟

یعنی ہم کسی سپرکمپیوٹر کی اسکرین پر چلنے والے کردار نہیں ہیں۔

ڈاکٹر فیضل کے مطابق ٹیم کا نتیجہ واضح ہے اور ایک اہم سائنسی سنگِ میل ہے: ”ہر سِمیولیشن لازماً الگورتھمی ہوتی ہے، اسے پروگرام شدہ قوانین پر چلنا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ حقیقت کی بنیادی سطح غیر الگورتھمی فہم پر قائم ہے، اس لیے کائنات نہ سِمیولیشن ہے، اور نہ ہی کبھی ہو سکتی ہے۔“

اس تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ پہلے اس سوال کو صرف فلسفیانہ یا تخیلاتی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ بات سائنس کبھی ثابت نہیں کر سکتی، لیکن اب سائنسدانوں نے پہلی دفعہ ریاضی اور طبیعیات کی بنیاد پر کہا ہے کہ ہم سِمیولیشن میں نہیں رہ رہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کائنات کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہے۔ ہم کسی مشین کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کا حصہ ہیں جو خود مشینوں کی پہنچ سے باہر ہے۔

یہ خیال ایک طرح سے تسلی بھی دیتا ہے اور حیرت بھی۔ تسلی اس لیے کہ ہم محض کوڈ نہیں، اور حیرت اس لیے کہ ابھی حقیقت کے راز ہماری سوچ سے کہیں آگے ہیں۔

نوٹ: اس فیچر کی تیاری میں ’جرنل آف ہولوگرافی ایپلی کیشنز ان فزکس‘ میں شائع تحقیق سے مدد لی گئی ہے۔ امر گل

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button