
اگر انسانی سماج کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک زمانہ تھا جب انسان غاروں میں رہتا تھا، جانوروں کا شکار کرتا تھا اور جنگلوں میں بھٹکتا پھرتا تھا۔ اس دور کو Hunting and Gathering Society یا پتھر کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ پھر انسانی ارتقا میں ایک عظیم انقلاب آیا۔ ایک ایسا انقلاب جس میں عورت نے بنیادی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ اسی دور میں انسان نے بیج بویا، زمین کو کاشت کیا، فصل اگائی اور یوں زرعی معاشرہ وجود میں آیا۔
زرعی معاشرے نے انسان کو تہذیب، شعور اور استحکام دیا۔ انسان سبزیاں، غلے اور پھل اگانے لگا، اور یہی وہ نعمتیں تھیں جنہوں نے اسے صحت، توانائی اور پائیدار زندگی عطا کی۔
انسان کے جسم کو ہمیشہ قدرتی خوراک کی ضرورت رہی ہے؛ سبزیاں اور پھل آج بھی انسانی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہیں۔ دنیا کے کئی شہر آباد ہوئے، کچھ مٹ گئے اور کچھ تاریخ کے اوراق میں کھو گئے، مگر زمین سے اگنے والی یہ نعمتیں آج بھی انسان کے زندہ رہنے کی بنیادی ضرورت ہیں۔
لیکن جب انسان نے کرنسی، منڈی اور منافع کا تصور پیدا کیا تو لالچ اور خودغرضی نے جنم لیا۔ پہلے انسان صرف ضرورت کے مطابق چیزیں جمع کرتا تھا، مگر منڈیوں کے پیدا ہونے کے بعد سماج سرمایہ دارانہ دوڑ میں شامل ہو گیا۔
اسی تناظر میں اس تصویر کو دیکھیں سامنے توری/گلکا کی فصل، تازہ سبز بیلیں اور زرد پھول اس زرعی معاشرے کی ہزاروں سالہ تاریخ بیان کر رہے ہیں، مگر پس منظر میں کھڑی بحریہ ٹاؤن کی اونچی عمارتیں اس کہانی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کے درپے دکھائی دیتی ہیں۔
ملیر کی زمین، جو صدیوں سے زراعت کا مرکز رہی ہے جہاں نسلیں آباد رہیں، جہاں انسان نے فصلوں سے غذائیت پائی اور صحت حاصل کی آج اسی زمین کو ترقی کے نام پر لینڈ مافیا، بلڈرز اور سرمایہ دار منصوبوں کی ہوس کے سامنے برباد کیا جا رہا ہے۔
ملیر ندی اور تھدو ندی، جو کھیرتھر کے پہاڑوں سے نکل کر کراچی کے سمندر تک زمینوں کو سیراب کرتی تھیں، آج شدید تباہی کا شکار ہیں۔ ان کے بستر سے مٹی نکال کر انہیں زہرآلود گڑھوں میں بدل دیا گیا ہے۔ ان میں فیکٹریوں کا کیمیکل فضلہ بہایا جا رہا ہے، جو نہ صرف ماحول اور پرندوں کے لیے زہر ہے بلکہ پورے زرعی نظام کو ختم کر رہا ہے اور اس بربادی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
یہ صرف زمین کا قبضہ نہیں۔۔ یہ انسان کی قدرتی خوراک، اس کی صحت، اس کا معاشی حسن، اس کا ماحول اور اس کی تہذیب کو ختم کرنے کا عمل ہے۔




