خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی

حفیظ بلوچ

کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔

یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا کرتی تھی۔ امرود، آم، چیکو، پپیتے، سیتا پھل، اور بےشمار سبزیاں اور پھل، جنہیں ہم بچپن میں کسی خوف، کسی اجازت کے بغیر توڑ کر کھا لیا کرتے تھے۔
قریب ہی وہ پہاڑ تھے جو کھیرتھر رینج سے جڑتے تھے، پہوارو جبل، لَلّھو پِڑ جہاں آج بھیڑیا ٹاؤن کے بدصورت بنگلے اور امیروں کے لیے مخصوص گولف سٹی تعمیر کر دیے گئے ہیں۔ انہی راستوں پر ہم کبھی پیدل، کبھی سائیکل پر گھوما کرتے تھے۔ ایک عجیب سا سکون ہوا میں گھلا رہتا تھا۔

اسی طرف ایک جگہ ہوا کرتی تھی جسے ہم ’نَنّوی کُن‘ کہتے تھے۔ دو پہاڑ آج بھی موجود ہیں، اور ان میں سے ایک کے دامن میں ایک غار ہوا کرتا تھا، جہاں انگریز دور کے سکے بکھرے پڑے ہوتے تھے۔ ہم بچے ان سکوں سے کھیلتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ 1930 کی دہائی سے 1942 تک، برطانوی سامراج کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے سندھ میں جعلی کرنسی پھیلائی جاتی تھی۔

جمع خان گبول اور ان کے ساتھی، جو برطانوی سامراج کے خلاف برسرِپیکار تھے، وہی یہ سکے تیار کرتے تھے۔
جب برطانوی سرکار کو اس کا علم ہوا تو ایک بڑا لشکر نَنّوی کُن کی طرف چھاپہ مارنے نکلا، مگر اس سے پہلے خبر یہاں پہنچ چکی تھی۔ آس پاس کے گاؤں کی عورتیں آئیں، بہت سے سکے سمیٹ کر لے گئیں، پھر بھی بہت سے رہ گئے۔

جب برطانوی سپاہی پہنچے تو بچے ہوئے سکوں کے سوا انہیں کچھ نہ ملا۔ بعد میں گرفتاریاں ضرور ہوئیں، مگر یہ قصہ سرکاری ریکارڈ سے یوں غائب کر دیا گیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔

اسی غار سے کچھ فاصلے پر لنگھیجی ندی بہتی تھی، سارا سال پانی سے لبریز۔ ہم وہیں نہایا کرتے تھے، وہ ہمارا پکنک پوائنٹ تھا، ہماری خوشی کا جغرافیہ ہوا کرتا تھا ـ

آج، بھیڑیا ٹاؤن نے سب کچھ نگل لیا ہے۔ اسی لیے کل شام، فصلوں اور درختوں کے درمیان چلتے ہوئے، ایک انجانا سا خوف دل میں اتر آیا۔ بھیڑیا ٹاؤن نے ہم سے ہمارا بچپن چھین لیا۔ انہی سڑکوں اور عمارتوں کے نیچے ہمارے معصوم قدموں کے نشان دفن ہو گئے۔ اب درمیان میں ایک دیوار حائل ہے، دو دنیاؤں کے بیچ۔ ایک دنیا ہماری، غریبوں کی، اور دوسری سرمایہ داروں کی۔ ایک طرف آج بھی اندھیرا ہے، دوسری طرف روشنیوں کا سیلاب۔ اور جو اندھیرے ہمارے حصے میں آئے ہیں، وہ قدرت کی عطا نہیں، یہ ریاست کے دیے ہوئے ہیں، اس نظام کے تحفے ہیں۔

ہم نے لڑائی لڑی، مگر ہماری لڑائی میں ایک بنیادی کمزوری تھی۔ طاقت ایک طرف تھی، سرکار کی طاقت، سرمایہ دار کی طاقت، اور ہم تھے، نہتے، ناتواں وجود لیئے ـ شکست ہوئی، مگر اتنا ضرور ہوا کہ آج ہمارا وجود اسی بھیڑیا ٹاؤن کے اندر سانس لے رہا ہے۔ وہ گاؤں جو چاروں طرف دیواروں میں قید ہیں، ہمارے ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔
وہ جنگلی جانور، جن کی فریاد سے بھیڑیا ٹاؤن کے مکین سہم جاتے ہیں، اپنے وجود کے ساتھ ہمارے وجود کی بھی شہادت دیتے ہیں۔
کل شام، انہی فصلوں اور درختوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب نظر بھیڑیا ٹاؤن پر پڑی، تو یہ خیال بھی ساتھ چلتا رہا کہ ہم ہیں، اور ہمارا ہونا ضروری ہے۔

یہ خوف، جو دل و دماغ پر چھایا ہے، اس کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ خوف ہوگا تو ہم اس سے لڑیں گے۔ اور لڑنا زندہ ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اب یہ تاریخ طے کرے گی کہ فلسطین کی طرح ہم کون ہیں، ہماری حیثیت کیا ہے، اسرائیل کیا ہے، اور ملک ریاض صاحب کا یہ بھیڑیا ٹاؤن کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button