
بہت جلد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے فیچرز دنیا کی مقبول ترین سرچ انجن کا حصہ بننے والے ہیں جن سے آن لائن سرچ میں مزید بہتری آئے گی
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گوگل اپنے سرچ انجن میں ’بات چیت کی مصنوعی ذہانت‘ کے فیچرز شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایلفا بیٹ اور گوگل کے چیف ایگزیکٹیو سندر پچائی نے کہا ہے کہ گوگل سرچ انجن میں ’بات چیت کی مصنوعی ذہانت‘ کے فیچرز شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
ان کا کہنا تھا کہ گوگل کا سرچ انجن استعمال کرنے والے اب سوالات بھی پوچھ سکیں گے
سندر پچائی نے بتایا کہ گوگل نئے اے آئی سرچ پروڈکٹس کی ٹیسٹنگ کر رہا ہے، جس میں صارفین ایسے فیچرز سے استفادہ کریں گے، جن میں لوگوں کو سوالات کے جواب کے بعد اس سے متعلق مزید سوالات پوچھنے کی سہولت ہوگی
یاد رہے کہ مائکروسافٹ نے اپنے سرچ انجن بِنگ کا اَپ گریڈِڈ ورژن جاری کیا تھا، جس میں چیٹ جی پی ٹی کی صلاحیت ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ گزشتہ مہینے نئے سرچ انجن نے یومیہ دس کروڑ سے زیادہ فعال صارفین کی مدد کی۔ مائکروسافٹ کے ساتیا نڈیلا چیٹ بوٹ ٹیکنالوجی کو اپنے ایج براؤزر اور دیگر مائیکروسافٹ 365 ایپلیکیشنز اور سروسز میں استعمال کا ارادہ رکھتے ہیں
گوگل طویل عرصے سے سرچ انجن ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم کمپنی ہے، جو آن لائن معلومات تک رسائی کا تیز اور آسان طریقہ پیش کرتی ہے۔ فروری میں گوگل نے اپنا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کے نام سے جاری کیا تھا، جو چیٹ جی پی ٹی جیسا ہے
اگرچہ گوگل نے کہا ہے کہ بارڈ ’تجربہ کار‘ اور ’طاقتور ٹیکنالوجی‘ ہے، اس کو ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کرنا چاہئے
رپورٹس کے مطابق گوگل کو اے آئی سے لیس کرنے کے لیے بہت زیادہ مالی اور سرمایہ کاروں کے دباؤ کا سامنا ہے
گوگل نے مارچ میں کہا تھا کہ جی میل اور ڈاکیومنٹس کے لیے یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس فیچرز کی ٹیسٹنگ پر کام کر رہا ہے۔