کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) آٹھویں قسط

آٹھویں قسط

واشنگٹن سے لوگوں نے مجھے پیغامات بھیجے کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا میرے معاملات کو لٹکانا چاہتے ہیں ، وہاں کیا ہو رہا ہے اور ہم کیا کرنے لگے ہیں؟اور میں انہیں کہتا کہ ہمیں صبر سے کام لینا چاہیئے کیونکہ ہمارے پاس زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔

دسمبر 2010ع میں لیون صدر اوبامہ سے ملے اور انہیں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ میں ہونے کے وسیع امکانات سے آگاہ کیا۔ صدر اوبامہ نے انہیں اسامہ بن لادن کو پکڑنے ، مارنے کے منصوبے پر کام کرنے کا کہا، جس کے بعد انہوں نے ایڈمرل ولیم کے ساتھ سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ۔

فروری 2011ع کے آخر میں جب میں کوٹ لکھپت جیل میں قید تھا، تب اسامہ کے کمپاؤنڈ میں حملہ کے لئے تین ممکنہ حملوں کی آپشنز بنائی گئی تھیں ۔ پہلی آپشن کے مطابق بمبار طیارے کی مدد سے پورے کمپاؤنڈ اور اس کے نیچے ممکنہ سرنگ کو تباہ کرنا تھا ۔ دوسری آپشن کے مطابق ہیلی کاپٹر کے ذریعے براہ راست اسپیشل فورسز کو نیچے اتارنا تھا اور تیسری آپشن کے مطابق پاکستانی حکومت کو اعتماد میں لے کر انہیں آپریشن میں معاونت کا موقع دینا تھا، تاہم تیسری آپشن کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا.

امریکی سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے پہلی تجویز کی حمایت کی۔ ان کے خیال میں امریکی فوج کا دوسرے ملک میں حملے کے لیے اس طرح استعمال اس ملک کی سلامتی اور اصولوں کے خلاف تھا۔ انہوں نے اوبامہ پر زور دیا، جو اسامہ کی موت کا ثبوت دیکھنا چاہتے تھے، یہ تجویز کہ کمپاؤنڈ کو طیارے کے ذریعے بم مار کر تباہ کر دیا جائے، پر عمل ممکن نہیں تھا، کیونکہ اس سے اسامہ کے DNA کی شناخت نہیں ہونی تھی۔

صدر نے فروری میں دوسری تجویز کی منظوری دی کہ اسپیشل فورسز کو پاکستان میں اتارا جائے اور وہ اسامہ کے کمپاؤنڈ پر حملہ کریں۔ مجھے یہ اطلاعات ملیں کہ واشنگٹن میں ایک تشویش یہ تھی کہ اگر میں اس عمارت پر حملہ کرنے سے پہلے آزاد نہیں ہوا تو کوئی بعید نہیں تھی کہ ناراض پاکستانی ہی مجھے مار دیتے۔ میرے ہمدرد لوگ مجھے اس آپریشن سے پہلے چھڑانا چاہتے تھے اور اس کے لیے انہیں اپنی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت تھی۔

◾(3مارچ،36واں دن)

پانچ ہفتے گزرنے کے بعد میں نا اُمید ہونا شروع ہوگیا۔ ہر دن مایوسی لے کر آ تا۔ قونصل خانے کے لوگ جب ملنے آتے تو لگتا زندگی لوٹ آئی ہے۔ ان کے دورے ایک زندگی کی طرح تھے۔ مجھے ان سے بڑی مدد ملی لیکن وہ صرف اتنا ہی کر سکتے تھے۔ایک دن قونصل خانے کے لوگ مجھ سے ملانے کے لیے حرب کو ساتھ لائے۔ حرب ماہرِ نفسیات تھا اور انڈیا میں تعینات تھا۔ وہ ستر یا اسی سال کا بوڑھا آدمی تھا، لیکن نوجوانوں کی طرح لگتا تھا۔ یعنی مجھے وہ اپنی عمر سے آدھی عمر کا لگا۔

اس نے مجھے ملتے ہی جو پہلی بات کہی وہ یہ تھی کہ”تمھارے ہائی سکول کے دوست جے جے نے مجھ سے کہا ہے کہ تمہارا حال احوال پوچھوں۔ کیا تم جے جے کو جانتے ہو؟“

”میں جانتا ہوں کہ آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟‘‘

جے جے اور میں نے اکٹھے ہائی سکول سے گریجویشن کیا تھا اور اس کا اور میرا کیرئیر بھی ایک ہی طرح کا تھا۔ میں نے آرمی جوائن کر لی اور وہ ایئر فورس کا پائلٹ بن گیا۔ وہ ایف16 جٹ طیارہ اڑاتا تھا۔ ہم کئی جگہوں پر ایک دوسرے کے نزدیک رہے۔ وہ اور میں عراق میں ایک ہی وقت میں تعینات تھے۔ اس وقت وہ انڈیا میں تعینات تھا اور میں پاکستان میں تھا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ ہم دنیا گھومتے ہوئے ایک دوسرے کا پیچھا کر رہے تھے۔ حرب میرے پرانے دوست کو جانتا تھا۔ مجھے اس کے ذکر و یاد سے سب کچھ بہت اچھا لگا۔

”تم تو اس وقت ہیڈ لائن میں ہو۔‘‘ حرب نے کہا۔
”ہاں!“
”جسمانی طور پر کیسا محسوس کر رہے ہو؟“
”میں بلکل ٹھیک ہوں، روزانہ پش-اپ لگاتا ہوں اور جو کچھ سوچتا ہوں وہ کرتا ہوں“
”کیا کبھی یوگا کیا ہے؟“ مجھے ایک جھٹکا لگا۔
”مجھے خوشی ہوگی، اگر تم یوگا کرو۔ یہ تمہاری حالت کو بہتر کرے گی۔“
”حرب، میں ٹھیک ہوں..“
”کیا تم نے کسی قسم کی میڈیسن استعمال کی ہیں؟“
”ہاں کبھی کبھار کی ہیں، لیکن یہ تجویز شدہ تھیں۔ یہ مجھے ریلیکس رکھتی ہیں لیکن میں نہیں جانتا کہ میں ان کا عادی ہو چکا ہوں۔“
”ٹھیک ہے۔ میں مسئلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔ میں تمہیں اس بارے میں گائیڈ کروں گا اور آئندہ تمہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی۔“
”ٹھیک ہے۔“
”جب تم اپنے سیل میں جاؤ تو بیڈ یا کرسی پر ریلیکس پوزیشن میں بیٹھو اور وہ سوچو جو تمہارا ذہن سوچنا چاہتا ہے۔ اپنی آنکھیں بند کر لو اور اپنی تصویر ذہن میں لاؤ۔ سیل کا دروازہ کھولو اور ہال میں آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دو۔ یہ مت سوچو کہ تم کہاں جارہے ہو۔ بس یہ سوچو کہ تمہارے لیے کیا چیز اہم ہے کہ تم یہ سیل چھوڑ کر جار ہے ہو۔ ہال کے آخر میں ایک دروازہ ہے۔ اسے کھولو ۔آگے سیڑھیاں ہیں ۔ ان سیڑھیوں سے نیچے اترنا شروع کرو۔ نیچے اترتے ہوئے وقت لگاؤ۔ سیڑھی کے ہر سٹیپ سے اترتے ہوئے تمہیں ریلیکس ہونا چاہیے۔ اس کے بعد تمہیں لگے گا کہ ایک نئے ماحول میں تم اپنے آپ کو بہتر محسوس کر رہے ہو۔ یہاں پہاڑ ہیں، بیچ ہے اور شہر کے درمیان میں ایک پارک بھی ہے۔ اس نئے ماحول کی آوازیں سنو۔ صاف ہوا میں بچے ہنس رہے ہیں۔خوبصورت ماحول ہے۔ اس ماحول میں انجوائے کرو اور جب تک دل چاہتا ہے، اس وقت تک رہو۔“
حرب نے بولنابند کیا۔ ایک دو منٹ تک وہ ایسے ہی خاموش رہا۔
”اس کے بعد آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنے پیچھے کا دروازہ بند کر دو۔ اسی طرح چلتے ہوئے واپس ہال میں آؤ اور دروازہ بند کر کے اپنے سیل میں آجاؤ۔ اس کے بعد اپنی آنکھیں کھولو۔ تم اپنے سیل میں اسی جگہ پر ہو جہاں پہلے تھے۔ اب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ تم جسے چھوڑنا چاہتے ہو، اسے چھوڑ سکتے ہو.. تمہارے ذہن کے لیے یا ایکسرسائز بہت اچھی ہے۔ یہ تمہارے ذہن کو فریش رکھے گی جس کی تمہیں ضرورت ہے۔‘‘
میرے لیے سب کچھ حیران کن تھا۔ حرب واقعی بہت اچھا انسان تھا۔
”میں کوشش کروں گا کہ ایسا ہی کروں۔‘‘
اس کے بعد حرب نے میرے سیل میں آ کر مجھے اس بارے میں مزید گائیڈ کیا۔ اس ایکسرسائز کے نتائج نے مجھے بڑا حیران کیا۔ میں جب چاہتا ،جیل سے باہر چلا جا تا اور انجوائے کرتا۔ میں بہت بہتر محسوس کر رہا تھا۔ میں اپنے سیل میں ورزش کرتا اور اور ذہنی طور پر اپنے گھر میں ہوتا۔ میں اگرچہ جیل کے سیل میں تھا، لیکن کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرا ذہن گھر میں چھٹیاں منا رہا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والے اس واقعے کے بعد میں ذہنی طور پر اور مضبوط ہو گیا تھا۔ اس ایکسرسائز نے میرے اندر بہت تبدیلی پیدا کی۔ میں رلیکس رہتا اور آرام کرتا۔

سٹریسر اور بخاری میں اس کیس کی بابت بہت اچھی ورکنگ پارٹنر شپ ہو گئی تھی۔ میری قانونی ٹیم نے تمام پوائنٹ سیٹ کر لیے اور اس کے بعد بخاری لکھتا اور سٹریسر اس کی ایڈیٹنگ کرتا۔ یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ فیضان حیدر اور محمد فہیم لوگوں سے لوٹ مارکرتے تھے اور وہ اس الزام میں پہلے بھی کئی بار گرفتار ہو چکے تھے۔ان کی لاشوں سے وہ سامان بھی ملا جو انہوں نے پچھلے چند گھنٹوں میں لوٹا تھا۔ عام حالات میں سادہ سا کیس تھا اور کوئی بھی جج اس پہلو کو ضرور مد نظر رکھتا، لیکن میرے چالان میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں تھا، جس کا مطلب تھا کہ پولیس کو کیس کی تفتیش دوبارہ کرنی چاہیے۔

سیشن کورٹ نے جیل کے اندر ہی اس کیس کی سماعت 3 مارچ مقرر کی۔ بخاری میرے وکیل کی حیثیت سے پہلی بار عدالت میں پیش ہوا۔ اس نے دوران ساعت اس نکتے کو اٹھایا کہ میرے سفارتی استثناء کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ دونوں طرف کے وکلا کے دلائل کے بعد جج نے میرے استثناء کے معاملے کو مسترد کر دیا۔

میرے لیے اگر کوئی اچھی خبر تھی، تو وہ یہ تھی کہ میرے خلاف باضابطہ طور پر فرد جرم عائد نہیں ہوئی تھی۔ میں بخاری کا شکر گزار تھا کہ اس کے موقف کہ اسے مقدمے سے متعلقہ تمام دستاویزات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں، جج نے منظور کر لی اور جوڈیشل ریمانڈ 15مارچ تک بڑھاتے ہوئے سماعت 8 مارچ تک ملتوی کر دی، اس دوران میری قانونی ٹیم کو دستاویزات دی جانی تھیں۔ میڈیا میں کئی لوگوں کو یقین تھا کہ اس دن مجھ پر فرد جرم عائد کر دی جائے گی، لیکن دوران ساعت بخاری نے ایک بار پھر اپنا جادو چلایا اور اصرار کیا کہ جب تک مجھے مکمل دستاویزات نہیں مل جاتیں، اس وقت تک ملزم پر فردِ جرم عائد نہیں ہو سکتی، اس سے کچھ وقت مل گیا۔

میرے پاس اس مشکل سے نکلنے کا صرف ایک حقیقی راستہ بچا تھا کہ حکومت پاکستان میرے استثناء کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے، اگر وہ مجھے استثناء دے دیتی ہے، تو مجھے رہا کر دیا جائے گا، تاہم میں جانتا تھا کہ اس کے امکانات بہت کم ہیں، ملک میں کشیدگی ابھی بھی بہت زیادہ تھی ، بڑے شہروں میں مظاہرے ہو رہے تھے اور مذہبی انتہاپسند میرے خلاف خطرناک دھمکیاں جاری کر رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جو بھی مجھے استثناء دیتے ہوئے واپس جانے کی اجازت دے گا، اُسے دن مکمل ہونے سے پہلے قتل کر دیا جائے گا۔

ادھر میڈیا میں میرے بارے میں جھوٹی خبریں مسلسل چھپ رہی تھیں۔ ایک آرٹیکل میں دعویٰ کیا گیا کہ اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ جیل نے میرے لیے کچھ جاسوسی آلات سمگل کئے ہیں۔ان میں فلیش ڈرائیو، ہارڈ ڈرائیو، میموری کارڈ شامل ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ یہ چیزیں کمپیوٹر میں استعمال ہوتی ہیں۔ ایک اور نے دعویٰ کیا کہ میرے چند فیملی ممبران اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور ان کا قیام ایک گیسٹ ہاؤس میں ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ یہ بھی خبر آئی کہ پولیس نے ایسے 45 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن کا مجھ سے تعلق تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ پولیس نے بے گناہوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق پولیس کو بھی تمام معلومات میرے سیل فون کے ڈیٹا سے ملیں۔ یہ فون میرا نہیں تھا اور یہ پرانے کنٹریکٹر سے لے کر نئے کنٹریکٹر کو دے دیا جا تا ہے۔میڈیا میں میرے خلاف ہونے والی اس لڑائی میں تمام پارٹیاں شامل تھیں۔ آئی ایس آئی کے لیے میں ایک مہرہ تھا جسے وہ امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

(جاری ہے)

  1. کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) ساتویں قسط
  2. کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) پہلی قسط

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close