جنوبی کوریا: ’دنیا کے امیر ترین دارالحکومت‘ کے نوجوان شہر چھوڑ کر گاؤں واپس کیوں جا رہے ہیں؟

ویب ڈیسک

کئی عشروں سے جنوبی کوریا کا دارالحکومت سیول دنیا کے دیگر ممالک کے لیے ترقی کی ایک مثال بنا رہا ہے، کیونکہ امیر ہونے کے لحاظ سے یہ شہر دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں پہلے نمبر پر ہے اور ایسی صنعتوں کا مرکز ہے، جنہوں نے دنیا پر اپنا غلبہ قائم کیا ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف سیول میٹروپولیٹن علاقہ، جس میں تقریباً ڈھائی کروڑ باشندے رہتے ہیں، جنوبی کوریا کی نصف آبادی کا گھر ہے

تاہم، جنوبی کوریائی باشندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اب ایک نئے ایڈونچر میں شامل ہو رہی ہے۔ اور وہ ہے ’کویچون‘

بی بی سی کی کورین سروس کے ایڈیٹر سو من ہوانگ بتاتے ہیں ”کویچون کا لفظی مطلب ہے ’شہروں سے دیہی علاقوں میں واپس لوٹنا“

اس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں، جنوبی کوریا کی حکومت نے دیہی علاقوں میں آبادی کی کمی اور دارالحکومت اور اس کے میٹروپولیٹن علاقے میں بڑھتی آبادی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کو گاؤں اور کھیتوں کی جانب واپس آنے کی ترغیب دینے کے لیے مختلف حکمت عملیوں کا آغاز کیا گیا ہے

بالآخر اب ایسا لگ رہا ہے کہ اس حوالے سے کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور جنوبی کوریا کے نوجوان دیہی زندگی کی جانب لوٹ رہے ہیں

اس مہم کے اثرات اپنی جگہ لیکن وبائی بیماری بھی گاؤں واپس لوٹنے کی ایک وجہ بنی ہے۔ سنہ2021ع میں بی بی سی کی کورین سروس کی صحافی جولی یونینگ لی نے جنوبی جیولا صوبے کے چھوٹے سے قصبے سنچیون کا دورہ کیا تھا

وہاں ان کی ملاقات گیارہ سالہ یون سیہو اور ان کی والدہ اوہ سوجونگ سے ہوئی۔ گھر کے دروازے کے سامنے بہت سی سبزیاں لگی تھیں، جن میں آلو، مکئی، بینگن، کالی مرچ اور سلاد کے پتے شامل تھے

لی کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی پہلے سے زیادہ مختلف ہے

سیول میں سیہو اور اس کا خاندان ایک انیس منزلہ عمارت کی نویں منزل پر رہتے تھے، جو ایک زیادہ ٹریفک والے علاقے میں واقع تھا۔ کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن سے بھی پہلے سیہو اور ان کا بھائی گھر سے باہر جگہ کی کمی کے باعث اپارٹمنٹ کے اندر بیس بال کھیلتے تھے

اب سنچیون میں منتقل ہونے کے بعد ان کے فلک بوس عمارتوں والے نظارے کی جگہ پہاڑوں نے لے لی ہے، ٹریفک کے شور کی جگہ وہ مرغیوں کی آواز سُنتے ہیں، اور ان کے خاندان کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ کی جگہ لکڑی کے روایتی مکان نے لے لی ہے، جس کی چھت ترچھی اور خوبصورت ہے

سیہو نے بتایا ”اب میں باہر قدم رکھتا ہوں اور سب کھیل کا میدان ہے۔ میں ہر روز کالی مرچ، بینگن اور سلاد کو پانی دیتا ہوں“

ملک کی نصف سے زیادہ آبادی سیئول میں رہنے کے باعث، بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ شہر کے گنجان اپارٹمنٹ بلاکس میں کووِڈ تیزی سے پھیل جائے گا

جب وائرس آیا تو سب سے پہلے اسکول بند ہوئے۔ سیہو کے لیے تنہائی بہت مشکل تھی۔ آن لائن اسکول اور اپنے دوستوں سے نہ ملنے کی وجہ سے اس کی ذہنی صحت خراب ہو گئی تھی

سیہو کی حالت ان کی والدہ سے دیکھی نہیں گئی۔ اس لیے انہوں نے وہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بارے میں وہ سالوں سے خواب دیکھتی آئی تھیں: شہر چھوڑ کر گاؤں میں نئی زندگی کی تلاش۔۔

لاکھوں جنوبی کوریائی خاندان بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔

نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد میں اب دیہی علاقوں اور زراعت کی طرف واپسی ایک ایسا رجحان ہے، جسے حالیہ برسوں میں وبائی مرض کے بعد اور متبادل طرز زندگی تلاش کی وجہ سے فروغ حاصل ہوا ہے

قومی شماریات کے بیورو اور زراعت، خوراک اور دیہی امور کی وزارت کے 2021 کے سروے کے مطابق، اس سال کل 515,434 افراد نے سیئول چھوڑا اور دیہی یا ماہی گیری والے دیہات میں چلے گئے، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 4.2 فیصد زیادہ ہے

خاص طور پر تیس سال سے کم عمر کے 235,904 افراد دیہی علاقوں میں واپس گئے، جو کہ کل تعداد کا 45.8 فیصد ہے

رامون پیچیو پاردو، بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اور کنگز کالج لندن میں کوریائی اور مشرقی ایشیائی امور کے ماہر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ”حال ہی میں ایسا رجحان سامنے آیا ہے کہ جو نوجوان سیول میں اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں، کام اور آگے ترقی کے امکانات سے ناخوش ہو کر وہ واپس گاؤں جا کر اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگ اسے پسند کر رہے ہیں“

کام کے ساتھ عدم اطمینان دنیا کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جیسے مکانات کی بڑھتی قیمتیں، شہری زندگی کا تناؤ، بہت زیادہ مقابلے بازی

جنوبی کوریا میں خودکشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور حکومتی اعدادوشمار کے مطابق یہ نوعمروں اور نوجوانوں میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ماہرین نفسیات نے نوجوانوں پر تعلیمی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ڈالے جانے والے شدید دباؤ کو ڈپریشن اور خودکشی کی وجوہات قرار دیا ہے

کامیابی کی بات کی جائے تو بہت سے نوجوانوں کو لگتا ہے کہ انہیں ان کی محنت کا ثمر توقعات کے مطابق نہیں ملتا لیکن اس دوران شہر انہیں اندر ہی اندر کھا رہا ہے

آ اب لوٹ چلیں۔۔۔

بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں، جنوبی کوریا میں بہت خوشحالی اور اقتصادی ترقی دیکھی گئی۔ کئی سالوں تک اور 1940ع کی دہائی میں کوریا کی شمالی اور جنوبی کوریا میں تقسیم اور اس کے بعد 1950-1953 کے درمیان خانہ جنگی سے پہلے، کوریائی باشندوں کی ایک بڑی اکثریت زراعت کے پیشے سے وابستہ تھی

لیکن 1960ع کی دہائی سے غربت کی وجہ سے دیہی علاقوں سے شہر کی طرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ شہری آبادی میں یہ اضافہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ مواقع پیدا کرنے اور دولت بنانے میں معاون ثابت ہوا

تاہم، پچھلی نسلوں کے مقابلے میں آج بہت سے نوجوانوں کو وہ مواقع نہیں مل رہے

اس تناظر میں یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ سیہو جیسے بچے اور اور دیگر پیشہ ور نوجوان اپنی ملازمتیں چھوڑ کر خاندانوں سمیت ان گھروں کی جانب لوٹ رہے ہیں، جنہیں ماضی میں بہت سے کوریائی چھوڑ کر شہر چلے گئے تھے

یہ سب ایک دم سے نہیں ہوا۔ اس مقصد کے لیے مختلف حکومتوں نے گریٹر سیول اور دیہی علاقوں کے درمیان آبادی اور معاشی عدم توازن کو متوازن کرنے کے طریقے تلاش کیے ہیں

کئی دہائیوں سے زراعت اور ماہی گیری جیسی صنعتوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی کمی نے جنوبی کوریا کے دیہی علاقوں کو معاشی زوال کا شکار بنا دیا ہے

پچیکو کہتے ہیں ”دیہی علاقوں میں آبادی بالکل ختم ہو رہی تھی کیونکہ نوجوان اور خاص طور پر خواتین مواقع کی تلاش میں شہر کا رخ کر رہی تھیں“

جنوبی کوریا بھی دنیا میں سب سے کم شرح پیدائش والے ممالک میں سے ایک ہے، یہ اعداد و شمار دیہی علاقوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں

دیہی علاقوں میں آبادی کی کمی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ خوراک کے مسائل نے جنم لیا۔ بہت سے کسان جن میں سے زیادہ تر بوڑھے لوگ تھے، ریٹائر ہونے لگے یا وفات پا گئے اور ان کی جگہ لینے کو نوجوانوں موجود ہی نہیں تھے

یہی وجہ ہے کہ حکام ان شہریوں کو سہولیات دے رہے ہیں، جو دیہی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں

کنگز کالج کے ماہر کا کہنا ہے ”حکومت دیہی علاقوں میں زندگی سے متعلق تربیتی اور تعلیمی پروگراموں کو فروغ دیتی ہے۔ فصل کاٹنا سیکھنے کے پروگرام ہیں اور کچھ مقامی حکومتیں معاشی امداد اور رہائش تک رسائی کی پیشکش کرتی ہیں“

بالواسطہ امداد، جیسا کہ انفراسٹرکچر میں زیادہ سرمایہ کاری بھی کیچون کے فروغ کا سبب ہے

پچیکو کہتے ہیں ”ایک چھوٹے سے ملک میں لوگ نئے انفراسٹرکچر کی بدولت سستے طریقے سے نقل و حرکت کر سکتے ہیں، یہی چیز زیادہ لوگوں کو زندگی کی اس تبدیلی پر غور کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے“

نئی نسل پر اثرات

کویچون کے بارے میں مثبت رجحان اور اس میں تیزی کو دیکھتے ہوئے، اس کے اثرات کا اندازہ لگانا ابھی بھی قبل از وقت ہے

مثال کے طور پر کووڈ کے وبائی مرض سے پہلے بہت سے دیہی اسکول بند ہونے کے دہانے پر تھے

جب بی بی سی نے 2021ع میں سنچیون کا دورہ کیا تھا، تو انہوں نے سیہو کے اسکول کی ٹیچر شن ینگمی کا انٹرویو کیا تھا

شن ینگمی پہلے سیول میں پڑھاتی تھیں اور دیہی علاقوں میں اپنے تجربے کے بعد ان کا خیال ہے کہ دیہی اسکول کوریائی باشندوں کے لیے نوجوانوں میں پائے جانے والے ڈپریشن اور افسردگی سے نمٹنے کا حقیقی موقع فراہم کر سکتے ہیں

دیہی اسکولوں کی مدد کے لیے حکام نے ان خاندانوں کو بھی سبسڈی کی پیشکش کی جو سیول چھوڑنے کے لیے تیار ہیں

اس سال، سیہو کے اسکول میں سات نئے طالب علم داخل ہوئے اور ٹیچر ینگمی کا کہنا ہے کہ پوری کمیونٹی کو ان نئے آنے والوں سے فائدہ ہوا ہے

تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا دیہی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے والوں کی یہ نوجوان نسل، گاؤں کی زندگی میں خوش رہ سکے گی یا پھر شہر کی ہلچل بھری زندگی انہیں واپس کھینچ کر لے گی؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close