غزہ! مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا ٹرمپ انداز میں حل!
واشنگٹن کا عظیم ’سفید باپ‘ بول پڑا ہے۔ معمولی اور عام فانی انسان سنیں اور اس کا حکم بلا چوں و چَرا مانیں۔ صدر ٹرمپ نے فرمایا کہ غزہ ایک ”گندگی کا ڈھیر“ ہے اور اسے ”صاف“ کرنا ضروری ہے۔ اکیس لاکھ انسانوں کا ”کچرا“ اس اہم ساحلی علاقے کی خوبصورتی کو خراب کر…
پاکستان آنے والی امریکی خاتون کو لاحق نفسیاتی عارضہ ’بائی پولر ڈس آرڈر‘ کیا ہے؟
امریکہ کی 33 سالہ اونائجا اینڈریو رابنسن اپنے ملک امریکہ میں ایک عام سی زندگی گزار رہی تھیں، مگر شاید ان کے دل میں محبت کی ایک ان کہی تڑپ تھی۔ وہ سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں سے بات کرتی رہتی تھیں، اور ایک دن ان کی مڈبھیڑ پاکستان کے 19 سالہ نوجوان ندال احمد…
ملیر کے اجتماعی حقوق کے لیے ایک منظم تحریک کی ضرورت
سندھ میں برسرِ اقتدار زرداری سرکار، پوری سرکاری مشنری کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے کارندوں اور آلہ کاروں کے ذریعے زرخیز اور شاداب ملیر کو لقمہِ تر سمجھ کر ملیر پر اس طرح ٹوٹ پڑی ہے کہ مستقبل میں ہمارے لیے ایک پارک کے لیے بھی جگہ نہ بچ پائے گی۔۔ پورے…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…
ملیر اور گڈاپ میں ریتی بجری کی چوری اور درختوں کی کٹائی: ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ
کراچی کے علاقے ملیر اور گڈاپ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ یہ علاقے اپنی خوبصورتی، زرخیز زمین اور قدرتی ماحول کے لیے جانے جاتے تھے، مگر بدقسمتی سے آج یہ قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار اور درختوں کی اندھا دھند کٹائی کا شکار ہیں۔ ترقی کے نام پر یہ غیر…
زمین کے سات نہیں، چھ براعظم ہیں! ایک نئی تحقیق کا انکشاف
ذرا تصور کریں، وہ زمین جس پر ہم بستے ہیں، ایک رازوں بھری کتاب کی مانند ہو، جس کے کچھ اوراق ابھی تک انسانی نگاہوں سے اوجھل ہوں۔ ہم صدیوں سے یہ مانتے آئے ہیں کہ ہماری دنیا سات براعظموں میں بٹی ہوئی ہے، لیکن کیا یہ سچ ہے؟ یا سمندر کی گہرائیوں میں، آتش…
بس اسی کی کسر تھی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
معلوم نہیں یہ عمدہ خیال سب سے پہلے کس کے ذہن میں آیا کہ آدمی بغیر ناشتہ کیے دفتر چلا آئے۔ بس اتنا پتا چل سکا کہ دو تین دن میں ہی سب ملازمین نے بغیر ناشتے کے آنا شروع کر دیا اور یوں صبح وقت پر دفتر پہنچنے لگے۔ پہلے چند دن تو سب…
کیا ماضی سے سیکھا جا سکتا ہے؟
کیا تاریخ حکمرانوں کے لیے ہوتی ہے، مورخوں کے لیے یا پھر عام عوام کے لیے؟ اور اس کا فائدہ کیا ہے؟ مورخین نے تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ ہر دور کو اس کی انفرادی خصوصیت کے ساتھ سمجھا جا سکے۔ تاریخی عمل تسلسل کے ساتھ بھی ہے اور اسے…