
جب ہم قبرستان پہنچے تو گرمی اپنے عروج پر تھی۔ ایک بڑی سی چار دیواری کے اندر بے شمار چوکنڈی طرز کی قبریں موجود تھیں، جن کی اونچائی بیس فٹ سے بھی زیادہ تھی۔ وہ قبریں اس قدر بلند تھیں کہ قریب کھڑے بجلی کے کھمبے اور تار بھی ان کے سامنے چھوٹے محسوس ہو رہے تھے۔ منظر نہایت دلکش، مگر ساتھ ہی پراسرار بھی تھا۔
ہم سب دوست ان قبروں کو غور سے دیکھنے لگے۔ کچھ دوست تصویریں بنانے میں مصروف ہو گئے، جبکہ میں خاموشی سے ان عظیم الشان قبروں کو دیکھتے ہوئے سوچوں میں گم ہو گیا۔ دل ہی دل میں سوال اٹھنے لگے کہ اتنے قدیم دور میں یہ پتھر کہاں سے لائے گئے ہوں گے؟ کن راستوں سے گزر کر یہاں تک پہنچائے گئے ہوں گے؟ وہ کون سے سنگ تراش فنکار تھے جنہوں نے اپنی مہارت سے ان بے جان پتھروں میں ایسی خوبصورتی بھر دی؟

میں سوچتا رہا کہ ایک ایک قبر کو بنانے میں کتنا وقت لگا ہوگا؟ کتنی محنت، کتنی لگن اور کتنی محبت اس فن میں شامل رہی ہوگی کہ آج بھی یہ قبریں اپنی شان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ پھر ایک اور خیال دل میں ابھرا — کیا وہ فنکار، وہ مزدور، جنہوں نے یہ شاہکار تخلیق کیے، کیا ان کی اپنی قبریں بھی اسی شان و شوکت سے بنی ہوں گی؟ یا وہ گمنامی کے اندھیروں میں کہیں دفن ہو گئے، اور ان کا ہنر صرف ان قبروں کی صورت میں زندہ رہ گیا؟
تؤنگ شریف اور یہاں کے قبرستان کو جب ہم تاریخی تناظر میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر ماہرینِ تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے محققین نے باقاعدہ تحقیق اور کام کیا ہے، اس لیے اسے ایک اہم تاریخی و آثارِ قدیمہ کے مقام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بدر ابڑو صاحب اپنی کتاب ”کوہستان جو سفر“ میں لکھتے ہیں کہ:
تؤنگ شریف ایک چھوٹا سا شہر ہے جو تھانہ بولا خان سے تقریباً 73 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک کنارے پر واقع ہے۔ تؤنگ کا قبرستان عموماً برفتوں کے بڑوں سے منسوب کیا جاتا ہے، جہاں بڑے نام جیسے جام لوہار اور جام آری دفن ہیں۔ اسی نسبت سے اس شاخ کو لھارانی (سندھی میں لھاراڻي) کہا جاتا ہے۔
آری کو پہلا برفت (بلفت: بُل + فت) مانا جاتا ہے۔ آری کی اولاد میں جام لوہار شامل ہیں، جن کی قبر کی تختی پر ”لوہار علی نمری“ لکھا ہوا ہے۔ یہ ایک شاہی طرز کا مقبرہ ہے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ ”جام آری“ دراصل ”جام علی“ کا بگڑا ہوا نام ہے، اور اس کا مکمل نام ”جام لوہار علی“ تھا۔ تاہم، تؤنگ کے مقامی لوگ جام آری کو ایک الگ شخصیت قرار دیتے ہیں۔ ان کی قبر ایک پہاڑ کے اوپر واقع ہے، جو ایک چاردیواری کے اندر ہے، مگر بدقسمتی سے اس پر کوئی نام درج نہیں۔
پہاڑ کے سامنے موجود دیگر گھاڑی طرز کی قبروں کے مقابلے میں یہ قبر زیادہ قدیم معلوم ہوتی ہے۔ یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا پہاڑ پر موجود یہ قبر واقعی جام لوہار کے والد کی ہے یا نہیں کیونکہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ (آرکیالوجسٹ) بھی اس کی تصدیق یقینی طور پر نہیں کر پائے بقول بدر ابڑو صاحب کے۔
عام روایت کے مطابق، تؤنگ قبرستان میں تقریباً 393 شاندار گھاڑی یا چوکنڈی طرز کی قبریں موجود ہیں۔ اگر ان قبروں کو غور سے دیکھا جائے تو ان کی اونچائی اور چوڑائی ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہے، یعنی ہر گاڑی قبر اپنی جداگانہ شناخت رکھتی ہے۔ کاریگروں نے بڑی مہارت اور نفاست سے ان قبروں کو تراشا اور محفوظ کیا ہے، اگرچہ عام دیکھنے والے کو یہ سب قبریں ایک جیسی محسوس ہوتی ہیں۔
یہ قبریں کراچی کی چوکنڈی قبروں کی فنکاری اور قدامت سے مشابہت رکھتی ہیں، مگر تؤنگ کی گھاڑی قبریں اونچائی کے لحاظ سے زیادہ بلند ہیں، جن کی چوڑائی بعض اوقات 20 فٹ تک پہنچتی ہے۔ بدر ابڑو صاحب اپنی کتاب کوستان جو سفر میں لکھتے ہیں کہ شمس الدین جوکھیو صاحب کے مطابق، برفتوں کی ایک شاخ لھارانی (سندھی: لُھاراڻي) کہلاتی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، لھارانیوں کا نسب درج ذیل ہے:
ملک اسد خان
ملک سکندر خان
سردار خان
صوبیدار خان
سردار خان
صوبیدار خان
احمد خان
مرید خان
عزت خان
جڑجوک خان
پہاڑ خان
نورالدین خان
کامبو خان
مرید خان
جڑجوک خان
کیو خان
مڑجوک خان
حمل خان
لھار خان
لھار خان کے نام سے ہی لھارانی (لھاراڻي) نسبت قائم ہوئی۔
اسی قبرستان میں ایک ایسی قبر بھی موجود ہے جس پر حجام کے اوزار جیسے کنگھی، برش اور دیگر آلات کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ بقول نور احمد، جو اس سفر میں ہمارے گائیڈ تھے، یہ کسی حجام کی قبر ہے۔ تاہم، جب میں نے اپنے قابلِ احترام استاد ڈاکٹر رحمان گل پالاری صاحب سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ ان کے مطابق یہ کسی حجام کی قبر نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس نوعیت کے قبرستان، خاص طور پر چوکنڈی طرز کی قبریں، عام لوگوں یا مزدور طبقے کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ ان قبروں پر جو پتھروں کی نفیس نقش و نگاری کی گئی ہے، وہ کسی عام یا غریب شخص کے بس کی بات نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی بات بلاشبہ وزن رکھتی ہے، مگر میرے ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ اگر کچھ قبروں پر تلوار، تاج یا دیگر جنگی علامات کندہ ہیں، جو سپہ سالاروں یا جنگجوؤں کی نشاندہی کرتی ہیں، اور بعض قبروں پر زیورات کے نقش ہیں، جو خواتین کی قبروں کی علامت سمجھے جاتے ہیں، تو پھر اس مخصوص قبر پر حجام کے اوزار جیسے نشانات کیوں بنائے گئے ہیں؟ یہ سوال اب بھی تحقیق طلب ہے اور اس کی کوئی حتمی وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔
-
’’ڈملوٹی کے کنوئیں‘‘ کراچی کے قدیم دور کے آبی منصوبے
-
آرمینیا کے قدیم ’ڈریگن اسٹونز‘: چھ ہزار سال پرانے آبی فرقے کی یادگاریں
تؤنگ گاؤں سے تقریباً ایک کلومیٹر جنوب کی جانب تؤنگ واھ کا ایک قدیم چشمہ واقع ہے۔ (واھ سندھی میں کینال کو کہتے ہیں جو دریا یا ندی سے زمینوں کو زرعی مقاصد کے لیے سیراب کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ملیر کراچی میں ”حُدر واھ“ کے نام سے ایک دیھ بھی ہے۔ گل حسن کلمتی صاحب اپنی مشہور کتاب ”ڪراچی سنڌ جي مارئي“ میں لکھتے ہیں کہ حُدر واھ تعلقہ گڈاپ ڈسٹرکٹ ملیر، کراچی میں ہے تھدو ندی سے کاشکاری کے لیے حُدر نامی شخص جس کا تعلق جوکھیو قبیلے کے عیسبانی پاڑے/شاخ سے تھا، اس شخص نے کینال بنایا تھا جو بعد میں حُدر واھ کے نام سے مشہور ہوا۔) کہا جاتا ہے کہ تؤنگ کا یہ چشمہ تاریخ سے بھی پہلے کے زمانے سے موجود ہے اور مختلف ادوار کی تہذیب و ثقافت کا گواہ رہا ہے۔ اس کا پانی شفاف اور میٹھا ہے، جو زمین سے نکلتا ہے اور کچھ دیر بہنے کے بعد پینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس چشمے کے قریب رتن ناتھ ہندو برادری کی مقدس جگہ واقع ہے، جس کے اوپر ایک خوبصورت مقبرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ رتن ناتھ کو سَنت یا ولی کا درجہ حاصل ہے۔ اس حوالے سے ایک روایت مشہور ہے کہ حضرت علیؓ گھوڑے پر سوار ہو کر یہاں سے گزرے۔ اس وقت رتن ناتھ وہاں موجود تھے اور نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ حضرت علیؓ نے ان سے وضو کے لیے پانی طلب کیا، مگر پانی دستیاب نہ تھا۔ رتن ناتھ نے بہت کوشش کی لیکن پانی نہ ملا۔
تب حضرت علیؓ نے زمین پر لوہے کی کوئی چیز ماری، جس سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ اسی پانی سے وضو کر کے نماز ادا کی گئی۔ اس خدمت کے صلے میں حضرت علیؓ نے رتن کو ”رتن ناتھ“ کا خطاب دیا۔ اس واقعے کے بعد یہ چشمہ بھی رتن ناتھ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اگرچہ ایسی روایات مختلف مقامات پر بھی ملتی ہیں، جیسے شاہ نورانی کے مقام پر بھی حضرت علیؓ کے قدموں کے نشانات سے متعلق روایات بیان کی جاتی ہیں، تاہم ان روایات کی تاریخی حیثیت تحقیق طلب ہے۔ تاریخ اسلام میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی، کہ حضرت علی عربستان سے باہر کہیں گئے ہوں۔ بدر ابڑو صاحب نے بھی اپنی کتاب ”کوھستان جو سفر“ میں مقامی لوگوں کی انہی روایات کا ذکر کیا ہے۔
کوہستان کے اس علاقے کی ایک نمایاں خوبی مذہبی رواداری ہے۔ یہاں قریبی فاصلے پر مختلف مذاہب کے مقدس مقامات موجود ہیں۔ تؤنگ میں جام لوہار کا مزار اور اس کے قریب ہی رتن ناتھ کی درگاہ یا مندر واقع ہے۔ اس مقام پر ایک قبر بھی ہے، جس میں میت کو بٹھا کر دفن کیا گیا ہے، جو ہندو روایت کے مطابق ہو سکتا ہے۔ علم بشریات کے ماہر کہتے ہے کہ اس طرح کی قبریں بدھ مت یا بدھ کے مذہبی لوگوں کے ہاں ملتی ہیں۔ اسی کے برابر میں بابا منگھن ناتھ کی قبر بھی موجود ہے۔ میں نے گڈاپ کے ایک دیوان سُریش کمار سے ان دونوں مزاروں کے متعلق پوچھا تو دیوان سُریش کے مطابق ہمارے ہندوں میں روایت ہے کہ ہمارے بزرگ ہستیوں کی سمادھی (قبر) بنائی جاتی ہے۔
یہاں ہندو برادری اس چشمے کو گنگا جیسا مقدس سمجھتی ہے، جبکہ مسلمان اسے رتن شاہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ دونوں مذاہب کے لوگ اس مقام پر آتے ہیں، اور یہ جگہ مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال پیش کرتی ہے۔ یہاں ہر سال جام لوہار اور رتن ناتھ کا میلہ دونوں مقامات پر ایک ہی تاریخ میں لگتا ہیں۔
ہمارے ساتھ جو دوست ہم سفر تھے سارنگ، عبدالباسط، شکور اور طلحہ اسی چشمے میں نہانے گئے، ہم اندر رتن ناتھ کا مقبرہ کو دیکھنے گئے۔ اس چشمے کے پانی کی جگہ راکھ سے کسی جلی ہوئی چیز جیسی بو محسوس ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی کوئی قدرتی یا معدنی وجہ ہو۔ بعض محققین، خصوصاً شاہد موسو صاحب، اپنی کتاب میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ پتھریلا نظام دراصل قدیم دور کے واٹر سپلائی سسٹم کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس علاقے میں پتھروں کے ذریعے پانی کی ترسیل کا ایک باقاعدہ نظام موجود تھا، جو پورے خطے میں پانی پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ پانی نہ صرف پینے کے لیے استعمال ہوتا تھا بلکہ اس کے ذریعے زمین کو بھی آباد کیا جاتا تھا۔ چشمے سے نکلنے والا پانی جب کچھ دیر بہہ جاتا ہے تو اس میں موجود بدبو ختم ہو جاتی ہے اور وہ پینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ قدیم نظام نہ صرف انسانی ضرورت پوری کرتا تھا بلکہ زرعی زندگی کا بھی اہم حصہ تھا۔ مزید یہ کہ بعض محققین کے مطابق یہ چشمہ قدیم واٹر سپلائی سسٹم کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جس کے آثار دھمبار جبل سے تؤنگ کی آبادی تک پائے جاتے ہیں۔
اس درگاہ اور مقام کی دیکھ بھال مقامی مسلمان خاندان کرتے ہیں، جن میں خلیفہ ایوب الیاس فقیر لوہارانی کے خاندان کا کردار اہم ہے۔ یہی خاندان جام لوہار کی درگاہ کی خدمت بھی انجام دیتا ہے۔
(جاری ہے)
حوالہ جات
۱. ابڙو بدر "ڪوھستان جو سفر”
۲. ڪلمتي گل حسن "ڪراچي: سنڌ جي مارئي "
۳. موسو شاھد "کيرٿر جي ھنج ۾”
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (تیسری قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چوتھی قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)




