Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-colors-of-Neptune-and-Uranus-are-not-the-same.-What-we-understand-scientists-
سائنس و ٹیکنالوجیاہم ترینتازہ ترینخبریں

نیپچون اور یورینس کے رنگ وہ نہیں۔۔ جو ہم سمجھتے ہیں: سائنسدان۔

By Akhtar Rasool
جنوری 6, 2024 3 Min Read
0

برطانیہ کے ماہرین فلکیات کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نظام شمسی میں موجود نیپچون اور یورینس نامی سیاروں کے رنگ وہ نہیں جو ہم طویل عرصے سے سمجھتے آئے ہیں۔

عام طور پر یورینس کو تیز گہرے نیلے رنگ کا دکھایا جاتا ہے۔ نیپچون عام طور پر ہلکا سبز یا نیلگوں سبز رنگ کا نظر آتا ہے۔

تاہم حقیقت میں دونوں سیارے ہماری سوچ سے کہیں زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق دونوں سیّاروں میں زرد، سبزی مائل نیلا رنگ جھلکتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات نے بالآخر سیاروں کے رنگ کی تصدیق کی ہے اور ایک نئی تحقیق کے حصے کے طور پر تازہ ترین تصاویر شائع کی ہیں۔

محققین طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ دونوں سیارے جدید تصاویر میں دکھائے جانے والے انداز سے مختلف نظر آتے ہیں۔ نئی تصاویر اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش ہیں۔

یہ غلطی بیسویں صدی کے مشنز سے حاصل ہونے والی تصاویر کی وجہ سے ہوئی، جو سیارے کی تصاویر لینے کے لیے بھیجے گئے۔ ان مشنر نے الگ الگ رنگوں کی تصاویر بھیجیں۔ یہ تصاویر ایک ساتھ رکھ کر سیاروں کی ’حقیقی‘ تصویر حاصل کرنے کے لیے بھیجی گئیں۔

محققین نے تصویر کو مزید واضح کیا تاکہ نیپچون کے بادل، پٹیاں اور فضا میں ہونے والی حرکت بہتر طور پر دیکھی جا سکے۔

لیکن اس عمل نے سیاروں، خاص طور پر نیپچون کو بہت زیادہ نیلے رنگ کا بنا دیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پیٹرک ارون کا کہنا ہے ”اگرچہ خلائی جہاز وائجر ٹو کی طرف سے بھیجی گئی یورینس کی معروف تصاویر کو ’حقیقی‘ رنگ کے قریب شکل میں شائع کیا گیا لیکن نیپچون کی تصاویر درحقیقت تفصیلی اور بہتر تھیں اور اسی وجہ سے مصنوعی انداز میں بہت زیادہ نیلے رنگ کی ہو گئیں۔“

انہوں نے کہا ”اگرچہ مصنوعی طور پر تیز کیا گیا رنگ کا اس وقت اجرام فلکی کے سائنس دانوں کو علم تھا اور تصاویر وضاحتی کیپشن کے ساتھ جاری کی گئیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امتیاز ختم ہو گیا۔“

”اپنے ماڈل کا اطلاق اصل مواد پر کرتے ہوئے ہم نیپچون اور یورینس دونوں کے رنگ کی اب تک کی سب سے درست شکل کو دوبارہ تشکیل دینے میں کامیاب رہے ہیں.“

نئی تصاویر بنانے کے لیے سائنسدانوں نے ہبل خلائی دوربین اور یورپین سدرن آبزرویٹری کی ویری لارج ٹیلی اسکوپ کے ڈیٹا کا استعمال کیا۔ ان تصاویر میں تمام رنگ موجود تھے۔ ان تصاویر کو جوڑ کر سائنسدانوں کو ایسے تصاویر بنانے میں مدد ملی، جو سیاروں کے حقیقی رنگوں کے قریب ترین ہیں

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یورینس اور نیپچون کے رنگ ایک جیسے ہرے مائل نیلے رنگ کے ہیں تاہم نیپچون میں نیلا رنگ تھوڑا گہرا ہے۔

مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یورینس اس وقت سبز نظر آتا ہے جب گرمیوں اور سردیوں میں اس کا ایک قطب سورج کی طرف ہوتا ہے لیکن موسم بہار اور خزاں کے دوران جب سورج equator پر ہوتا ہے، تو اس کا رنگ نیلا ہوتا ہے۔

ان تصاویر کو ’یورینس کے رنگ اور چمک کے موسمی چکر کی ماڈلنگ اور نیپچون کے ساتھ موازنہ‘ کے عنوان سے ایک دستاویز میں رپورٹ کیا گیا اور منتھلی نوٹسز آف دا رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی نے نے انہیں شائع کیا۔

Tags:

different colors of uranus and neptunehow are neptune and uranus differentneptuneneptune and uranus colorneptune and uranus color differenceneptune and uranus comparisonneptune vs uranustemperatures in the solaruranusuranus and neptuneuranus and neptune coloruranus and neptune comparisonuranus planeturanus vs neptunewhat is the amosphere of a planetwhy is uranus colder than neptunewhy uranus and neptune are different colors
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Being-over-optimistic-is-a-sign-of-weak-mindedness-research-shows
Previous

زیادہ پُر امید ہونا، کمزور ذہنیت کی نشانی ہے، تحقیق

How-long-will-it-take-to-develop-the-perfect-artificial-heart
Next

’پرفیکٹ‘ مصنوعی دل کی تیاری کب تک ممکن ہو سکے گی؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme