Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-world-is-facing-serious-problems-due-to-increasing-e-waste
ماحولیاتاہم ترینتازہ ترینخبریں

بڑھتے برقی کچرے سے دنیا کو شدید مسائل کا سامنا

By Akhtar Rasool
مارچ 26, 2024 2 Min Read
0

ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہمارے زیرِ استعمال ٹیکنالوجی بے ہنگم برقی کچرے کی وجہ بن رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں دنیا بھر میں 6.2 کروڑ ٹن برقی کچرا پیدا ہوا۔ یہ وزن چھ ہزار ایفل ٹاور کے وزن کے برابر ہے۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس کچرے کی مقدار ہر سال چھبیس لاکھ ٹن کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور 2030 تک یہ مقدار 8.2 کروڑ ٹن تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

کچرے کی صورت اختیار کرنے والی ڈیوائسز میں اربوں ڈالر کا سونا اور نایاب معدنیات استعمال ہونے کے باوجود 25 فی صد سے بھی کم کچرا ری سائیکل کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے سربراہ مصنف کِیس بیلڈے کا کہنا ہے کہ برقی کچرے کو ری سائیکل کرنے کے بعد ایک فی صد سے زیادہ نایاب زمینی عناصر حاصل نہیں ہو پاتے۔ سادہ الفاظ میں اس طرح معاملات نہیں چل سکتے۔

2022 میں جمع ہونے والے 6.2 کروڑ برقی کچرے کا ایک تہائی حصہ چھوٹی ڈیوائسز پر مشتمل تھا، جن میں کھلونوں سے لے کر مائیکرو ویو تک شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق چھیالیس لاکھ ٹن کچرا آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے چھوٹے آلات پر مشتمل تھا۔ ان آلات میں عام طور پر استعمال ہونے والی ڈیوائسز جیسے کہ لیپ ٹاپ، موبائل فونز، جی پی ایس ڈیوائسز اور راؤٹر شامل تھیں۔

محققین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں سولر پینل برقی کچرے میں ایک بڑا حصہ ڈالیں گے

2022 میں چھ لاکھ ٹن سولر پینل برقی کچرے کی نذر ہوئے۔ تاہم، 2030 تک یہ مقدار بڑھ کر چوبیس لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

Tags:

biggest e-waste sitedangers of e-wastee waste managemente waste recyclinge waste recycling businessE-Wastee-waste africae-waste documentarye-waste explainede-waste ghanae-waste golde-waste indiae-waste pick-upe-waste recoverye-waste scrappingelectronic wasteewasteewaste benliving with e-wastemake money e-wasteperth wasterecycle wasterecycling e-wasteWastewaste eletriczero waste
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
School-Teacher-Allah-Rakhiyo-Killed-By-Gang
Previous

سائیں اللہ رکھیو۔۔۔

Global-corporations-are-stealing-water-from-poor-countries-to-increase-profits
Next

عالمی کارپوریشنز منافع بڑھانے کے لئے غریب ملکوں کا پانی ہتھیا رہی ہیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme