ٹرمپ کے پاس صرف 15 دن: کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر ہے؟

سنگت ڈیسک

عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا گیا 15 روزہ الٹی میٹم محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسی جغرافیائی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے جو بین الاقوامی سیاست کے مروجہ ڈھانچے کو زمین بوس کر سکتی ہے۔ یہ پندرہ روزہ ڈیڈ لائن اس تزویراتی گھڑی کی مانند ہے جس کی ٹک ٹک نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ تین براعظموں کو ایک ہولناک جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

15 دن کا الٹی میٹم: عالمی توانائی کی شہ رگ پر دہرا وار

ایرانی عسکری قیادت (پاسدارانِ انقلاب) نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ تزویراتی تجزیہ کار اس صورتحال کو ‘انرجی پنچر’ (Energy Pincer) کا نام دے رہے ہیں۔ اس وقت آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں کی وجہ سے عالمی تیل اور گیس کی 20 فیصد سپلائی پہلے ہی خطرے میں ہے، لیکن اگر ٹرمپ نے ‘بحری ناکہ بندی’ (Naval Blockade) ختم نہ کی تو ایران اپنے اتحادیوں، یمن اور صومالیہ کے ذریعے ‘باب المندب’ اور ‘بحیرہ احمر’ کو مکمل طور پر مفلوج کر دے گا۔

اس اقدام کے نتیجے میں عالمی سپلائی کی بندش کا تناسب 40 فیصد تک پہنچ جائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت کے پہیے جام ہو جائیں گے، ہوائی جہاز زمین پر آ جائیں گے اور ایندھن عام آدمی کی پہنچ سے اس قدر دور ہو جائے گا کہ معاشی بحالی ناممکن ہو گی۔

ایرانی عسکری قیادت کا دوٹوک پیغام: "اگر مسٹر ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی ختم نہ کی تو جنگ ہی واحد راستہ ہے۔”

افریقہ کا "ریئر فرنٹ”: ایک نئی تزویراتی گہرائی

موجودہ تنازعہ اب محض مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ‘ریئر فرنٹ’ (Rear Front) یعنی افریقہ تک پھیل چکا ہے۔ صومالیہ کا اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان اور یمن کے ساتھ کھڑا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے اب افریقہ کا محاذ بھی کھل چکا ہے۔ تزویراتی اعتبار سے امریکہ اور اسرائیل کے لیے افریقہ ایک ‘بیک یارڈ’ کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن ایران، روس اور چین کے تعاون نے صومالیہ، سوڈان اور مالی جیسے ممالک کو ایک نئے بلاک میں متحد کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات (UAE) اور اسرائیل کی جانب سے سوڈان میں ملیشیاؤں کی مالی معاونت اور مالی (Mali) میں شدت پسند گروہوں کو شہ دینے کا مقصد اس خطے کو غیر مستحکم کرنا ہے، تاکہ ایران کے افریقی اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔ تاہم، روس اور چین کی فعال حمایت نے اس ‘Rear Front’ کو امریکہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔

بحری بالادستی کے عہد کا خاتمہ اور زمینی راستوں کا جادو

ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) کی ‘بحری ناکہ بندی’ کی پالیسی اب تکنیکی طور پر ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایران نے سمندر پر انحصار کم کرنے کے لیے جو متبادل تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) حاصل کی ہے، اس نے سمندری طاقت کی عالمی بالادستی کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایران-چین ریل لنک کی فعالیت ایک ایسا انقلاب ہے جس کے ذریعے ایران یومیہ 2 ملین بیرل تیل سمندر کا راستہ اختیار کیے بغیر براہِ راست چین پہنچا سکتا ہے۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات میں آنے والی غیر معمولی بہتری بھی اسی کڑی کا حصہ ہے۔ پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی سرحد پر 30 تجارتی مقامات کھول دیے ہیں، جو ایران کو عالمی پابندیوں کے باوجود وسطی ایشیا اور دیگر عالمی منڈیوں سے منسلک رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی غماز ہے کہ اب سمندروں پر امریکی بحریہ کا قبضہ ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے کافی نہیں رہا۔

امریکی دفاعی بے بسی اور قانونی ڈیڈ لائن

پینٹاگون کی حالیہ رپورٹس اور سینئر حکام کے اعترافات نے امریکی فوجی برتری کے دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ امریکی عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کے پاس ایران، روس اور چین کے جدید ‘ہائپر سونک میزائلوں’ کو روکنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ یہ میزائل امریکی بحری بیڑوں کو چند منٹوں میں نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عسکری کمزوری کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کو ‘وار پاورز ریزولوشن’ (War Powers Resolution) کے تحت سخت قانونی ڈیڈ لائن کا بھی سامنا ہے۔ امریکی صدر کانگریس کی باقاعدہ منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے، اور یہ مدت یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے بعد ٹرمپ کے لیے جنگ کو طول دینا نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ آئینی طور پر بھی ناممکن ہو جائے گا۔

ناقابلِ تقسیم سلامتی: مشرقِ وسطیٰ سے امریکہ کا انخلاء؟

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس اراچی کے پاکستان، عمان اور روس کے حالیہ دوروں کا مقصد ایک نئے علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھنا ہے۔ ایران اب محض عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا مطالبہ کر رہا ہے جسے "ناقابلِ تقسیم سلامتی” (Indivisible Security) کہا جاتا ہے۔ اس تصور کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خطے کی سلامتی تمام ممالک کے لیے یکساں ہو، اور اگر ایران کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو کوئی بھی دوسرا ملک (بشمول خلیجی ممالک) محفوظ نہیں رہے گا۔

اس نئے ڈھانچے کی تجاویز میں مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اڈوں کا مکمل خاتمہ، ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت، اور ایک ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کا قیام شامل ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ایران نے اپنی تجاویز صدر ٹرمپ تک پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ذریعے پہنچائی ہیں، جو اس بحران میں پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کو واضح کرتا ہے۔

خاتمہ: عالمی بساط کی فیصلہ کن گھڑی

برطانوی سفارت کاری کے ‘آخری مہرے’ کے طور پر شاہ چارلس سوم کی ٹرمپ سے حالیہ ملاقات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے، جہاں وہ ممکنہ طور پر امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک بڑی جنگ سے روکنے کی آخری کوشش کر رہے ہیں۔ عالمی بساط پر مہرے بچھ چکے ہیں اور گھڑی کی سوئیاں یکم مئی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنی ‘MAGA’ (Make America Great Again) پالیسی کو بچانے کے لیے ایران سے کوئی بڑی ڈیل کریں گے، یا اپنی انا کی خاطر دنیا کو ایک ایسی تیسری عالمی جنگ میں جھونک دیں گے جس کا ایندھن تین براعظم بنیں گے؟ فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے۔
_______________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button