Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Iran retaliation strategy_sangat mag
اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

1.5 ٹریلین ڈالر کا "بزنس ماڈل” یا تیسری عالمی جنگ؟

By Akhtar Rasool
اپریل 30, 2026 4 Min Read
0

ایران پر سرجیکل سٹرائیک کے پیچھے چھپے گھناؤنے حقائق

عالمی منظرنامہ اس وقت شدید بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) مسلسل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دے رہی ہے، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں ایران پر سرجیکل سٹرائیک کی جا سکتی ہے۔

یہ صورتحال محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک خطرناک عالمی کھیل محسوس ہوتی ہے — ایسا کھیل جس کی قیمت پوری انسانیت کو چکانی پڑ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک ایسی تباہ کن جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جس کے پس منظر میں نظریاتی نہیں بلکہ کارپوریٹ مفادات کارفرما ہیں؟

24 گھنٹے کا الٹی میٹم اور سرجیکل سٹرائیک کی بازگشت

Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر "چھوٹے مگر انتہائی مؤثر” حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ اس نوعیت کی کارروائی مذاکرات کے تعطل کو توڑ دے گی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ نیو کون (Neocon) نظریہ — جس کا بنیادی حل بمباری ہے — ہمیشہ پائیدار امن لانے میں ناکام رہا ہے۔

ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی حملے پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ سید محمد مراندی کا بیان واشنگٹن کے پالیسی ساز حلقوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے:

"ایرانی ردعمل فوری اور تباہ کن (Immediate and Devastating) ہوگا۔ امریکی مفادات، خصوصاً خلیجی ممالک میں موجود تنصیبات، ایسی تباہی کا سامنا کریں گی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔”

یہ بیان محض سفارتی زبان نہیں بلکہ ممکنہ خطے گیر تصادم کا پیش خیمہ ہے۔

پیٹ ہیگستھ: وزیر دفاع یا اسلحہ ساز کمپنیوں کے نمائندہ؟

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) اس بحران میں ایک متنازع کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان پر الزامات ہیں کہ ان کے اور ان کے قریبی افراد کے مالی مفادات بڑی دفاعی کمپنیوں سے وابستہ ہیں۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو دفاعی صنعت کے منافع میں اضافہ یقینی ہے — اور یہی تضاد سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔

بھارتی نژاد امریکی کانگریس مین رو کھنہ نے کانگریس میں سوال اٹھایا کہ اگر جنگ کے نتیجے میں عام امریکی شہریوں کے لیے گیس اور خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کیا حکومت نے اس کا کوئی تخمینہ لگایا ہے؟ وزیر دفاع کے پاس کوئی واضح جواب موجود نہیں تھا۔

مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ کویت میں امریکی فوجیوں پر حملے میں چھ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد جب ڈرون دفاعی نظام کے بارے میں پوچھا گیا تو اعتراف کیا گیا کہ وہاں دفاعی صلاحیت "صفر” تھی۔ ایسے حالات میں عالمی امن کے فیصلے کن ہاتھوں میں ہیں یہ سوال خود بخود اٹھتا ہے۔

1.5 ٹریلین ڈالر کا تضاد: امن کا وعدہ یا جنگ کا کاروبار؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کو "لا یعنی جنگوں” سے باہر نکالیں گے اور عوام کا سرمایہ بچائیں گے۔ مگر موجودہ منظرنامہ اس کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہا ہے۔

پینٹاگون اب روایتی "بیوروکریٹک ماڈل” سے نکل کر ایک خالص "بزنس ماڈل” کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے، جہاں جنگ ایک منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔

انتخابی وعدہ:
"میں امریکہ کو غیر ضروری جنگوں سے دور رکھوں گا۔”

موجودہ حقیقت:
جنگی تیاریوں کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے بھاری بجٹ کا مطالبہ۔

یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امن کے دعوے انتخابی حکمت عملی تھے، جبکہ عملی ترجیح دفاعی صنعت کی توسیع ہے۔

جوہری ہتھیاروں کا بیانیہ اور IAEA کی نگرانی

امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام کو بنیاد بنا کر ممکنہ کارروائی کا جواز پیش کر رہے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق:

"ایران کا تمام افزودہ یورینیم IAEA کی مکمل نگرانی میں ہے۔ کسی بھی جوہری مواد کے غلط استعمال یا اس کے ہٹائے جانے کی کوئی رپورٹ موجود نہیں۔”

اگر یہ مؤقف درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جوہری خطرے کا بیانیہ محض سفارتی دباؤ کا ذریعہ ہے؟

سرجیکل سٹرائیک کا ماڈل اور خطے کی حقیقت

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو لبنان میں محدود کارروائیوں کا مشورہ دیا تھا، اور اب اسی ماڈل کو ایران کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے۔ مگر ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی "ریجیم چینج” یا بیرونی دباؤ کے منصوبے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق دشمن نے مختصر مدت میں ایران کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر قومی اتحاد نے اسے ناکام بنا دیا۔

لبنان میں جاری کشیدگی بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ "سرجیکل سٹرائیک” اکثر محدود کارروائی نہیں بلکہ طویل جارحیت کا نقطۂ آغاز بن جاتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ عالمی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ جب 1.5 ٹریلین ڈالر کے بجٹ کو دفاعی "بزنس ماڈل” کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا عالمی طاقتوں کے لیے انسانی جانوں سے زیادہ اہم معاشی مفادات ہو چکے ہیں؟

کیا ہم ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں جنگیں نظریاتی ضرورت نہیں بلکہ کارپوریٹ منافع کا ذریعہ بن چکی ہیں؟

اگلے 24 گھنٹے شاید تاریخ کا رخ بدل دیں — اور یہی لمحہ ہے جب انسانیت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگی کاروبار کے ساتھ کھڑی ہے یا امن کے ساتھ۔

___________________________

  • ٹرمپ کے پاس صرف 15 دن: کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر ہے؟

  • عالمی معیشت کا زلزلہ: کیا ٹرمپ کی ضد دنیا کو بھوک اور ہولناک مہنگائی کی طرف دھکیل رہی ہے؟

Tags:

CENTCOM Iran briefingcorporate war modeldefense contractors profitsdefense industry lobbyingDonald Trump Iran policygeopolitical crisis 2026geopolitics Middle Eastglobal economic impact warglobal recession war impactglobal security threatGulf region US basesIAEA Iran reportinternational security crisisIran enrichment uraniumIran immediate responseIran infrastructure strikeIran missile responseiran nuclear programIran retaliation warningIran strategic responseIran US escalationIran war newsIsrael Iran tensionsLebanon conflict modelMiddle East TensionsMiddle East war scenariomilitary industrial complexmilitary spending surgeNeocon strategynuclear weapons narrativeoil market instabilityoil price surge warPentagon 1.5 trillion budgetPentagon business modelPete Hegseth controversyregime change IranRo Khanna statementStrait of Hormuz riskTrump foreign policy debateUS Congress war debateUS defense budget 2026US foreign policy crisisUS Iran 24 hour ultimatumUS Iran conflictUS military action IranUS surgical strike Iranwar and corporate profitswar economy analysiswar escalation analysisWorld War 3 risk
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
regional war or world war
Previous

ٹرمپ کے پاس صرف 15 دن: کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر ہے؟

Personality Development-sangat mag
Next

رویے کا میگنیفائنگ گلاس

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme