خوابوں کی لڑکی۔۔ (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔ سچ کہوں تو وہ اتنی حسین دکھنے والی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے الگ نہیں دکھتی۔ اس کے کپڑے بھی کچھ…
چلتن اور گردشِ دوراں (بلوچی ادب سے منتخب افسانہ)
کیا یہ ممکن ہے کہ گزری ہوئی مسرتوں اور شادمانیوں کا دور پھر ایک مرتبہ واپس آ جائے؟ چلتن کا بلند و بالا سلسلہ کوہ کوئٹہ سے تقریباً سولہ میل کے فاصلے پر مغرب کی جانب واقع ہے۔ کوہِ چلتن کے دامن میں ہزارگنجی کی سرسبز و شاداب چراگاہ ہے۔ اس کے دائیں جانب گوند…
ریو (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
بیرونِ ملک سات برس گزارنے کے بعد میں موسمِ گرما میں ریو ڈی جنیرو پہنچی۔ سات طویل برسوں بعد فلیٹ کا دروازہ کھولا تو اندر ہر چیز پر پھپھوندی جمی تھی۔ اگر یہ پھپھوندی نہ ہوتی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں یہاں سے کہیں گئی ہی نہیں۔ بند گھر کی بُو ناقابلِ…
صبح کی سرخی
یہ میرے دوست ایوان ساووف کی کہانی ہے جو بلغاری فوج کی تھرڈ بٹالین میں ایک سینئر ماتحت افسر تھا اور میری نگاہوں کے سامنے سرویائی سلسلۂ کوہ میں ایبار اور موراوا کے درمیان قائم کردہ محاذ پر کام آیا۔ جنگِ عظیم کے دوسرے سال کے اواخرِ خزاں میں میری سالگرہ سے…
اُڑان (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔۔ کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار…
قرض کی پیتے تھے۔۔۔ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالب وہاں سے اکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادار سے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھرا داس مہاجن بیٹھا ہے۔ غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا، ’’اخاہ متھرا…
پو پھٹنے تک (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
راملو کی چھوٹی سی کٹیا میں آٹھ زندگیاں سانس لیتی تھیں۔ اسی کٹیا میں انکیا کا بچپن جوانی سے جا ملا تھا۔ اسی کٹیا میں ملیا کی مسیں بھیگی تھیں۔ اسی کٹیا میں پوچی نے شرمانا سیکھا تھا۔۔ اور پھر اسی کٹیا میں انکیا کی بیوی نے دو بچے بھی جنے تھے۔۔۔ اور اب یہی…
چندرو کی دنیا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کراچی میں بھی اس کا یہی دھندا تھا اور باندرے آ کر بھی یہی دھندا رہا۔ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق تھا، کوئی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ وہ کراچی میں بھی سدّھو حلوائی کے گھر کی سیڑھیوں کے پیچھے ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں سوتا تھا اور باندرے میں وہی سیڑھیوں کے…