گناہ گار (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک حکومتی اہل کار، جس کا نام میگوف تھا، اپنی شام کی سیر کے دوران ایک تار گھر کے قریب رکا اور ایک گہری آہ بھری۔ ایک ہفتہ قبل جب وہ شام کی سیر سے گھر لوٹ رہا تھا تو بالکل اسی جگہ پر اس کی سابقہ نوکرانی اگنیا نے اسے اچانک آ لیا تھا،…
بے نام (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہ شہر کی مصروف ترین سڑک تھی۔ آدھا کلو میٹر تک سیدھی چلی جاتی تھی۔ اس کے اختتام پر چوراہا تھا، جس پر سگنل لگا ہوا تھا۔ سڑک کے ایک طرف مصروف بازار تھا اور دوسری طرف ایک نجی اسپتال۔ اسپتال سے متصل ایک ویران سا میدان تھا۔ اسپتال کی دیوار کے ساتھ کسی ٹھیلے…
آخری غریب (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
منظر نامہ: 1990 دنیا میں امن، صحت اور خوش حالی کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ دنیا میں امن ہو گیا۔ ہر شہری اپنی کار کا مالک ہے۔ دنیا سے حشرات معدوم ہو چکے تھے، بڑھتی آبادی پر قابو پا لیا گیا تھا، بیماریاں ختم ہو چکی تھیں۔ بیکٹیریا اور وائرس پر قابو پا لیا گیا…
سیاہ کمرے کے مکین (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
نیم تاریک کمرے کے ایک اداس کونے میں پڑی میز پر بیٹھے ہوئے میں نے مایوسی سے کاغذ پر لکھے بے جان لفظوں کو گُھورا۔ اشتعال کی ایک لہر اٹھی اور میں نے کاغذ کو مروڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، جو کاغذی گولوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کر…
اگست کے بھوت (کولمبین ادب سے منتخب افسانہ)
ہم دوپہر سے کچھ دیر پہلے اریزو پہنچے اور وہاں پر قلعہ رینائزئنس کو دیکھتے ہوئے دو گھنٹے گزار دیے۔ وینزویلا کے ادیب میگوئیل اوٹیرو سیلوا ہمیں جوسسین کے گردونواح کے اس سادہ و دلکش کونے میں لائے تھے۔ یہ اگست کے ابتدائی دنوں کی ایک جلتی اور سُلگتی اتوار تھی…
ڈائری میں چُھپا خواب (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ گھڑی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ وقت صفر سے شروع ہوتا اور ہندسوں سے اٹھکیلیاں کرتا دوبارہ صفر پر آ کھڑا ہوتا۔ اس کی بے تاثر نظریں وقت کا تعاقب کرتے کرتے تھک گئیں تو اس نے گھڑی سے نظر ہٹا کر الماری کا ایک خانہ کھولا اور گزرے وقت کی ردی چھانٹنے لگا۔…
مسخرہ (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) پیڈرو لوکس زندگی کی بتیس بہاریں دیکھنے کے بعد سنجیدگی سے کچھ کرنے کی سوچ رہا تھا۔ وہ فطرتاً ایک مسخرہ تھا۔ اب تک وہ اسی خداداد صلاحیت کی بدولت اپنا گزارا کر رہا تھا۔ اس کے پاس رہنے کو ایک آرام دہ گھر، عمدہ لباس غرض ہر سہولت موجود تھی۔ ان سب کی…
جملہ باز (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ اپنے دوستوں میں سب سے تیز طرار مانا جاتا تھا، شرارتوں میں۔۔ جملے کسنے میں۔۔ خاص طور پر جب بات کسی لڑکی کی ہو۔۔ اس کی، کی ہوئی شرارتیں، اس کے کَسے ہوئے جملے اس کے دوستوں میں ضرب المثل بن جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ خود بھی دل ہی دل سوچتا، ”واقعی۔۔۔…