ماما قدیر اور کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ کے پانچ ہزار دن!
کوئٹہ میں یونائیٹڈ بینک ہزار گنجی برانچ کے بینک مینجر قدیر ریکی کی زندگی کا رخ اس وقت یکسر بدل گیا، جب ان کا نوجوان بیٹا 13 فروری 2009ع کو لاپتہ کر دیا گیا۔ یہ عمر رسیدہ بینک منیجر چند ماہ بعد ریٹائر ہونے والے تھے لیکن ان کے بیٹے، معروف سیاسی کارکن جلیل…
’لاپتا افراد کے معاملے‘ پر بی این پی کا پی ڈی ایم چھوڑنے کا انتباہ
پی ٹی آئی سے اتحاد ختم کر کے پی ڈی ایم حکومت کا حصہ بننے کے کچھ دن بعد اسمبلی میں اپنی تقریر میں ”کبھی ہمیں اِدھر دھکیلا جاتا ہے، کبھی اُدھر“ کی بات کرنے والے اختر مینگل کی جماعت نے دھمکی دی ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاپتا افراد کے معاملے…
کراچی کی مختصر ترین تاریخ
محققین کی رائے کے مطابق کراچی آخری برفانی دور کے خاتمے پر سمندر کے کنارے سے نمودار ہونا شروع ہوا. ویسے تو کراچی کے آثار سکندر اعظم سے بھی پہلے کے ملتے ہیں اور ملیر وادی کی تاریخ قدامت کے اعتبار سے قدیم پتھروں کے وسطی دور سے شروع ہوتی ہے، تاہم 326 قبل…
کوئٹہ کینٹ میں جبری گمشدگی پر سیشن میں کیا باتیں ہوئیں؟
پاکستان فوج کے زیرِ اہتمام کوئٹہ بلوچستان میں جاری سیکیورٹی ورکشاپ کے دوران جبری گمشدگیوں کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں پہلی بار ’وائس فار مسنگ پرسنز‘ کے نمائندے کو بلایا گیا اور اس موضوع پر شرکانے کھل کر اظہارِ خیال کیا کوئٹہ کینٹ میں ہونے والی اس ورکشاپ…
ایران آوارگی (قسط۔ 9)
پہرہ ( ایرانشہر) ہم چھوڑ چکے تھے۔ بس میں اکثریتی مسافر بلوچ تھے جو مشہد جارہے تھے۔ زیادہ ٹر لوگ فیملیز کے ساتھ تھے۔ جب ہم وہاں تھے تو ایران میں چھٹیاں تھیں۔ لوگ فیملی کے ساتھ شمال کی طرف جارہے تھے۔ ہم گیارہ دوست تھے جو سندھی، جدگالی، بلوچی اور اردو میں…
گوادر کی ’دوچ گر‘ خواتین اور ان کا ہنر، روایت سے روزگار تک
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی رہائشی پینتیس سالہ آسیہ بی بی کے شوہر کے بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کام کرنے کے قابل نہیں رہے، تو گھر والوں کی ذمہ داری خود اُن پر پڑی آسیہ بی بی نے بچپن میں سیکھتے ہوئے دوچ نامی بلوچی کشیدہ کاری کے ہنر کو روزگار کا…
ایران آوارگی (قسط-8)
ہم نے لاشار کے دوستوں کو الوداع کہا اور مشہد جانے والی بس میں بیٹھ گئے۔ اب ہمارے دو سالار تھے: ڈاکٹر مبارک اور میر نواب بلوچ۔ ڈاکٹر مبارک ہمارے گائیڈ اور میر نواب پر پورے سفر کی ذمیداریاں تھیں۔ حساب کتاب، سواری اور ہوٹل کا بندوبست کرنا ان کے ذمے تھا۔…
مستونگ اور خاران آپریشنز میں مارے جانے والے چار نوجوان عسکریت پسند تھے یا لاپتہ افراد؟
کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم نے مستونگ اور خاران میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’ان آپریشنز میں مارے گئے دس افراد پہلے سے جبری طور پر لاپتہ تھے، جن میں بلوچی زبان کے شاعر تابش وسیم بلوچ بھی شامل ہیں۔‘…