Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ماما قدیر اور کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ کے پانچ ہزار دن!

By Akhtar Rasool
اپریل 1, 2023 3 Min Read
0

کوئٹہ میں یونائیٹڈ بینک ہزار گنجی برانچ کے بینک مینجر قدیر ریکی کی زندگی کا رخ اس وقت یکسر بدل گیا، جب ان کا نوجوان بیٹا 13 فروری 2009ع کو لاپتہ کر دیا گیا۔ یہ عمر رسیدہ بینک منیجر چند ماہ بعد ریٹائر ہونے والے تھے لیکن ان کے بیٹے، معروف سیاسی کارکن جلیل ریکی کی جبری گمشدگی نے قدیر ریکی کو بلوچستان کے سب سے معروف انسانی حقوق کے کارکن ماما قدیر میں بدل دیا

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے سنہ 2009 میں احتجاجی کیمپ کا آغاز کیا۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے لگائے گئے اس احتجاجی کیمپ کو پانچ ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں، تاہم جبری گمشدگیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ صوبے میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اب تک نہیں رک سکا ہے

کوئٹہ پریس کلب کے باہر لگائے گئے اس علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کے وائس چیئرمین چوراسی سالہ ماما قدیر بلوچ ہیں، جو روزانہ صبح سے شام تک اس کیمپ میں بیٹھے رہتے ہیں

ماما قدیر بلوچ کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے جلیل ریکی کو سنہ 2009ع میں سیکورٹی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا اور بعد ازاں ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔ بیٹے کی گمشدگی کے ساتھ انہوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا

ماما قدیر بلوچ کہتے ہیں ”اگرچہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ دو ہزار کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا تھا لیکن اس احتجاجی کیمپ کو سنہ 2009 میں شروع کیا گیا۔ اس سے پہلے مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے پلیٹ فارم پر اس مسئلے کے حل کے لیے احتجاج ہوتا رہا لیکن چودہ سال قبل سو سے زائد لاپتہ افراد کے لواحقین نے اکٹھے ہو کر اپنی الگ تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا جسے ’بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز‘ کا نام دیا گیا“

اس تنظیم کی قیادت آج تک لاپتہ افراد کے لواحقین کر رہے ہیں

ماما قدیر بلوچ کے مطابق ہفتے کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ کو پانچ ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں

ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے ”ان چودہ سالوں میں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہم کوئٹہ کے علاوہ اسلام آباد، کراچی اور ملک کے باقی شہروں میں بھی احتجاج کرتے رہے۔ اس دوران سردیوں، گرمیوں، بارش، برفباری اور ہر قسم کے سخت موسم، سختیوں اور دھونس دھمکیوں کا مقابلہ کیا، لیکن ہم نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی“

ماما قدیر کہتے ہیں ”عید اور خوشی کے باقی تہواروں کے موقع پر بھی لاپتہ افراد کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور رشتہ داروں نے اس کیمپ میں بیٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا“

ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ اس دوران ہم نے سینکڑوں مظاہرے اور ریلیاں بھی نکالیں اور پریس کانفرنسز کیں، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے

یاد رہے کہ 27 اکتوبر 2013ع کو ماما قدیر بلوچ نے دوسرے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک لاپتہ افراد کی رہائی کے لئے ایک انتہائی طویل لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ لاپتہ افراد کی تصاویر و کوائف، پلے کارڈز ایک ہاتھ گاڑی پر اٹھائے اس لانگ مارچ نے 2800 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا

انہوں نے کیا ”اس طویل عرصے میں کئی لوگ بازیاب بھی ہوئے اور کئی مزید لاپتہ ہوئے۔ متعدد کی لاشیں ملیں۔ جب تک ہمارا آخری لاپتہ شخص بھی واپس نہیں آتا اس وقت تک ہمارا یہ کیمپ اور احتجاج جاری رہے گا۔ چاہے دس ہزار دن گزریں یا بیس ہزار دن، چاہے ہم زندہ رہیں یا نہ رہیں، ہمارے بچے یہ احتجاج رکھیں گے“

آج ماما قدیر چوراسی سال کے ایک ضیعف العمر شخص ہیں، جو دوائیوں پر انحصار کرتے ہیں اور ہسپتالوں کا چکر ایک معمول بن گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی احتجاجی کیمپ میں موجود ہیں۔

Tags:

BALOCHbaloch missing personBaloch Missing Personsbaloch missing persons campBalochistan Missing Personscamp for baloch missing persons at islamabadcm hous balochistan pc baloch missing personsmaryam nawaz baloch missing personsMissing PersonMissing PersonsMissing Persons Casemissing persons casesmissing persons in baluchistansong for balochistan missing personsthe voice for baloch missing personsvoice of baloch missing persons
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فرد جرم کی کہانی

Next

لیاری، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا نیا مرکز

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme