بلوچستان میں قدرتی ذخائر
بلوچستان کے ضلع چاغی کا شمار ملک کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے۔ چاغی معدنیات کی دولت سے مالامال ہے ، جب وفاقی حکومت نے 1999 میں ایٹمی دھماکہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو چاغی کے پہاڑ کا چناؤ کیا گیا ، مگر چاغی میں صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ چاغی کی…
کراچی: لاپتہ عبدالحمید زہری کے بچوں کی تعلیم تک رک گئی
کراچی – گذشتہ سال 10 اپریل کو کراچی سے لاپتہ ہونے والے عبدالحمید زہری کی بیٹی سعیدہ حمید کا کہنا ہے کہ ان کے والد بلوچستان کے علاقے خضدار سے اپنے بچوں کو بہتر تعلیم کے لیے کراچی لائے، مگر اب بہتر تعلیم تو دور، بچے تعلیم جاری تک نہیں رکھ سکے کالج کی…
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں: ’اللہ نے دو بیٹے دیے، انسانوں نے دونوں چھین لیے‘
کوئٹہ – ’اللہ نے مجھے دو بیٹے دیے، لیکن انسانوں نے دونوں کو چھین لیا۔ اب بڑھاپے میں سہارا بننے کے لیے میری کوئی نرینہ اولاد نہیں رہی۔‘ یہ الفاظ ہیں، پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے مند میں رہنے والے حاجی ناصر کے، جن کے پینتیس سالہ بڑے…
ہوشاب واقعہ: ایف سی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج، شہید بچوں کی تدفین کر دی گئی
کوئٹہ : اکتوبر کی 10 تاریخ کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں مبینہ طور پر ایف سی کے گولہ باری سے گھر کے سامنے کھیلنے والے شہید بچوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد منگل کے روز کوئٹہ کے دامن میں واقع شہدائے بلوچستان قبرستان نیو کاہان میں سپرد خاک کر…
بلوچستان حکومت کی سرکاری افسران کو موبائل پر ’پاکستان زندہ باد‘ کی رنگ ٹون لگانے کی ہدایت
کوئٹہ : بلوچستان حکومت نے صوبے میں تمام سرکاری افسران کو اپنے موبائل فون پر ‘پاکستان زندہ باد’ کی رنگ ٹون لگانے کی ہدایت کردی ہے محکمہ ملازمت اور عمومی نظم و ضبط (ایس اینڈ جی اے ڈی) کے انتظامی شعبے کے سیکشن افسر بہادر خان کے جاری کردہ…
بلوچستان کا مشرقی کنارہ
رکھنی سے جھوم کر آؤ، یا کشمور کے کنارے سے آہستہ آہستہ بھاگو، یا پھر سندھو دریا کو پار کر آؤ، دو بڑے شہر آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔ عرف عام میں ان کو ڈیرہ جات کہا جاتا ہے۔ جو ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں کی %95 آبادی…
گوادر کے ماہی گیروں کی بے بسی
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کا تعلق گوادر سے ہے، وہ جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ انھیں ایک کھلی کچہری میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کچہری میں اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک تھے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے اس محفل میں دل کے پھپھولے خوب پھوڑے۔ انھوں نے کہا…
اے فلاحی اداروں کے رضا کارو! بس تھوڑا سا ٹھہرو!
فلاحی اداروں کی خاموش ایمبولینس آتی ہیں۔ ان میں بندوقوں سے چھید کیے اداس لاشیں ، اپنے وجود سے ٹپکتا لہو لیے موجود ہوتی ہیں۔ گورکن لائین میں دشت کے صحرا میں نئی قبریں کھود لیتا ہے. ان لاشوں کے دفن ہونے سے پہلے دشت کے ریت کے ذرّے شور کرتے، چیختے، ماتم کرتے…