افغانستان میں آخر ایسا کیا ہے، جو اسے حملہ آوروں کا قبرستان بناتا ہے؟
کراچی – یہ 15 فروری 1989ع کی بات ہے، جب سوویت افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہوا تھا، آج اس واقعے کو تینتیس برس مکمل ہو چکے ہیں افغانستان میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ اسے پوری دنیا ”حملہ آوروں کا قبرستان“ کیوں کہتی ہے؟ کچھ تو ہوگا، کہ برطانیہ،…
کراچی: تالپوروں سے تین حملوں میں فتح نہ ہونے والا شہر جسے انگریزوں نے تین گھنٹے میں فتح کر لیا
کراچی پر قبضہ کرنے کے لیے سندھ کے تالپور حکمرانوں نے تین حملے کیے، جس کے دوران تین ماہ تک محاصرہ کیا گیا لیکن انھیں ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن 183 برس قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے صرف تین گھنٹوں کی بمباری اور بغیر کسی جانی نقصان کے اس شہر…
برطانوی راج کے وہ سپاہی، جن کی پینشن آج بھی پاکستان میں آتی ہے!
لاہور – پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے احمد پارک، موہنی روڈ کی اس نسبتاً کھلی گلی میں غلام فاطمہ کا گھر ہے۔ ضعیف العمری کی وجہ سے ان کا زیادہ تر وقت بستر پر ہی گزرتا ہے غلام فاطمہ نے جنوری کی پانچ تاریخ کو اپنے شوہر کی 14 ہزار روپے کی پینشن…
ایک تصویر، ایک کہانی – 25
کراچی میں بنی پتھر کی منفرد چمنیاں آج کہانی ہے کراچی شہر میں بنی ہوئے پتھر کی چمنیوں کی، اس کہانی کے ساتھ بہت سی تصویریں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر یہ چمنیاں انگریز دور میں مختلف ورکشاپس اور فیکٹریوں میں بنائی گئی تھیں، تاکہ ورکشاپس یا…
گریٹ گیم‘: جب انگریزوں نے دریائے سندھ کو دریائے ٹیمز میں بدلنے اور مٹھن کوٹ میں بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بنایا
یہ انیسویں صدی کے پہلے نصف کی بات ہے۔ نوجوان برطانوی افسروں پر مشتمل ایک خفیہ مشن دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ، اس کی گہرائی اور اس میں جہاز رانی کے امکانات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہا تھا اور اُن کی پوری کوشش تھی کہ سندھ کے اُمرا اور پنجاب میں…
1857 کی جنگ آزادی میں کراچی کا کردار (تیسری اور آخری قسط)
چوتھے، جنہیں توپ سے اُڑانا تھا، وہ انقلابیوں کے لیڈر رام دین پانڈے تھے۔ انہیں ۲۳ ستمبر ۱۸۵۷ کو اسی جگہ توپ کے سامنے باندھ کر اُڑایا گیا۔ اس طرح باقی ماندہ گرفتار ہونے والے ۲۵ سپاہیوں کو کورٹ مارشل کرکے فوج سے نکالا گیا۔ انہیں انڈیمان جزیرے کی طرف کالے…
عبیدﷲ سندھی، تاجِ برطانیہ اور مزاحمت (دوسری قسط)
عبیداللہ سندھی علم کی تلاش میں کتنے ہی اساتذہ کی چوکھٹ تک گئے تھے۔ کیسے کیسے کُتب خانوں کی خاک چھانی تھی اور آخر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ سوچ کی راہوں پر اندھی تقلید کا پہرہ نہیں ہونا چاہیے۔ مطالعہ اور غوروفکر ہی علم کے خزانوں تک رسائی کا طریقہ ہے۔ لیکن…
ایک تصویر ایک کہانی – 16
اس تصویر میں بڑی سی بدصورت عمارت نظر آ رہی ہے ، یہ لارنس روڈ (عبدالرب نشتر روڈ) اور بارنیس اسٹریٹ کے سنگم پر رنچھوڑ لائین میں مدیحہ اسکوائر ہے. جہاں یہ اسکوائر تعمیر کیا گیا ، اس جگہ کی ایک اپنی تاریخ ہے. اس تاریخ کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا، وہ بھی ایک…