ورلڈ انوائرمنٹ ڈے: ملیر دریا سے سندھ ڈیلٹا تک ـ ترقی، تباہی اور ماحولیاتی انصاف کی جدوجہد
5 جون کو دنیا بھر میں ورلڈ انوائرمنٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارے موسمیاتی تبدیلی، کاربن کے اخراج، حیاتیاتی تنوع اور ماحول کے تحفظ پر بات کرتے ہیں، لیکن سندھ کے تناظر میں ماحولیات کا سوال محض درخت لگانے یا آلودگی کم کرنے تک محدود نہیں۔ یہاں ماحولیات…
سپر ایل نینو: ایک گرم ہوتی دنیا اور پاکستان کا غیر یقینی مستقبل
رات کے دو بج رہے ہیں۔ کراچی کی فضا میں نمی اتنی زیادہ ہے کہ سانس لینا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں بجلی بند ہے۔ کہیں دور سمندر کی سمت سے آنے والی ہوا بھی گرم ہے، جیسے کسی بھٹی کے دہانے سے نکل رہی ہو۔ اسی لمحے ہزاروں کلومیٹر دور…
ملیر دریا پر مسلط ایک شاہراہ
سندھ حکومت نے کل جس منصوبے کا افتتاح ’بھٹو ایکسپریس وے‘ کے نام سے کیا، وہ دراصل وہی متنازع ’ملیر ایکسپریس وے‘ ہے جس کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے ملیر کے مقامی لوگوں، کسانوں، ماہی گیروں، ماحولیاتی کارکنوں، وکلاء، شہری تنظیموں اور سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس…
اراولی مزاحمت، کارونجھر جدوجہد اور کھیرتھر پر مسلط خاموشی
جب کسی خطے میں پہاڑ خطرے میں پڑ جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف قدرت نہیں، انسان بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ آج ہندوستان کے گجرات و راجستھان میں اراولی، سندھ کے تھر میں کارونجھر اور کراچی کے کنارے کھیرتھر اسی انجام کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ…
بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی تصویر بنا ایشیا امیروں کا نیا کھیل کا میدان بن گیا
دنیا کے نقشے پر ایشیا آج صرف آبادی یا معیشت کا استعارہ نہیں بلکہ تضاد کی ایک زندہ تصویر ہے، جہاں فلک بوس عمارتوں کے سائے میں جھونپڑیاں سکڑتی جا رہی ہیں اور ڈیجیٹل اسکرینوں کی چمک میں لاکھوں چہرے اندھیرے میں گم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو بظاہر ترقی کے…
درخت، لڑکی اور 738 دن: ایک انوکھا احتجاج جو تاریخ بن گیا
کہانی کبھی کبھار اپنے کرداروں سے آگے نکل کر استعارہ بن جاتی ہے، کسی نظریے، کسی خواب، کسی مزاحمت کی علامت۔ جولیا ہل کی کہانی بھی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ انسان کی لالچ اور فطرت سے محبت کے متضاد رویوں کے درمیان ایک ایسی جنگ کی روداد ہے، جس میں ایک لڑکی نے…
دی کلائمیٹ بُک: ’موسمیاتی تبدیلی سے مکمل بحالی میں لاکھوں سال لگ سکتے ہیں‘
دنیا اب ایک نئے موسمیاتی دور میں داخل ہوچکی ہے۔ ہماری دنیا میں اب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم نے فیکٹریاں لگائیں، موٹر گاڑیاں چلائیں اور بہت زیادہ کوئلہ، گیس اور تیل جلا کر درجہ حرارت خوب بڑھا دیا اور بدستور بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اس سے…
دی کلائمیٹ بُک: ’ہم نے اب تک دنیا کو بچانے کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا؟‘ (7)
سوال یہ ہے کہ ابتدا میں جب چند لوگ جانتے تھے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے تو انہوں نے یہ بات سب کو بتائی کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ اور حیران کُن ہے۔ درحقیقت کچھ بڑی کمپنیز نہیں چاہتی تھیں کہ یہ مسئلہ حل ہو کیونکہ یہ کمپنیز فوسل…