ورلڈ انوائرمنٹ ڈے: ملیر دریا سے سندھ ڈیلٹا تک ـ ترقی، تباہی اور ماحولیاتی انصاف کی جدوجہد

حفیظ بلوچ

5 جون کو دنیا بھر میں ورلڈ انوائرمنٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارے موسمیاتی تبدیلی، کاربن کے اخراج، حیاتیاتی تنوع اور ماحول کے تحفظ پر بات کرتے ہیں، لیکن سندھ کے تناظر میں ماحولیات کا سوال محض درخت لگانے یا آلودگی کم کرنے تک محدود نہیں۔ یہاں ماحولیات زمین، پانی، وسائل، ثقافت، تاریخ اور مقامی لوگوں کے وجود کا سوال ہے۔

اگر کراچی سے مغرب کی طرف کھیرتھر کے پہاڑوں، جنوب میں عرب سمندر، مشرق میں ملیر کے میدانوں، وادیوں، چراگاہوں، ندیوں، ملیر دریا، لیاری ندی، تھدو ندی، حب ندی، کھیرتھر سے جڑے جنگلات اور پھر سندھ دریا کے ڈیلٹا تک پھیلے ہوئے جغرافیے کو ایک نقشے پر دیکھا جائے تو یہ پورا خطہ ایک مربوط ماحولیاتی نظام کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پہاڑ بارشوں کو جذب کرتے ہیں، ندی نالے اور دریا پانی کو میدانوں تک لاتے ہیں، زیرزمین آبی ذخائر بھرے جاتے ہیں، اور آخرکار یہ پانی سندھ ڈیلٹا کے ذریعے سمندر سے ملتا ہے۔

ہزاروں برس تک یہی نظام سندھ کی تہذیب، زراعت، ماہی گیری، چرواہا ثقافت اور مقامی برادریوں کی زندگی کا بنیادی سہارا رہا۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں اس پورے نظام پر ایک ایسی معاشی یلغار ہوئی ہے جس نے فطرت کو منافع کی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔

کراچی: ایک شہر جو اپنے قدرتی وجود سے کاٹا جا رہا ہے

کراچی کو عموماً پاکستان کا معاشی دارالحکومت کہا جاتا ہے، لیکن اس شہر کی اصل طاقت اس کی بندرگاہوں، شاہراہوں یا بلند و بالا عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کے قدرتی جغرافیے میں پنہاں رہی ہے۔ ملیر اور لیاری کے دریا، کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے، عرب سمندر کا ساحل، مینگرووز کے جنگلات، زرخیز زرعی زمینیں، چراگاہیں اور زیرزمین پانی کے وسیع ذخائر صدیوں تک اس خطے کی ماحولیاتی، معاشی اور تہذیبی زندگی کی بنیاد رہے ہیں۔ یہی قدرتی نظام کراچی کے موسم، آبی وسائل، حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادیوں کی بقا کا ضامن تھا۔

تاریخی طور پر کراچی ایک ایسا خطہ تھا جہاں پہاڑ، دریا، میدان اور سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ کھیرتھر کے پہاڑ بارشوں کے پانی کو جذب کرتے، ندی نالوں اور دریائی گزرگاہوں کے ذریعے یہ پانی ملیر، لیاری اور حب کے آبی نظام میں شامل ہوتا اور بالآخر سمندر تک پہنچتا۔ اس قدرتی چکر نے صدیوں تک مقامی سندھی اور بلوچ برادریوں، کلمتی، جوکھیو، پالاری، گبول، لاشاری، برفت، خاصخیلی، بکک، جت اور ماہی گیر آبادیوں کی زراعت، گلہ بانی، ماہی گیری اور روزمرہ زندگی کو سہارا دیا۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی نظام نہیں تھا بلکہ ایک زندہ تہذیب تھی جس میں انسان اور فطرت باہمی انحصار کے رشتے میں بندھے ہوئے تھے۔

مگر گزشتہ چند دہائیوں میں کراچی کی معیشت کا مرکز پیداوار، زراعت یا مقامی وسائل کے پائیدار استعمال کے بجائے تیزی سے رئیل اسٹیٹ اکانومی کی طرف منتقل ہوا ہے۔ زمین کو زندگی کے وسیلے کے بجائے سرمایہ کاری کی سب سے منافع بخش جنس بنا دیا گیا ہے۔ اس عمل میں زرعی زمینیں، چراگاہیں، ندی نالے، برساتی گزرگاہیں اور قدرتی آبی نظام بتدریج ہاؤسنگ اسکیموں، نجی شہروں، ایکسپریس ویز اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کراچی، ڈی ایچ اے سٹی، بھٹو ایکسپریس وے، ایجوکیشن سٹی، صنعتی راہداریاں اور درجنوں بڑے و چھوٹے ہاؤسنگ منصوبے ترقی کے عنوان سے پیش کیے جاتے ہیں، لیکن ان منصوبوں کی اصل قیمت وہ مقامی برادریاں ادا کر رہی ہیں جو نسلوں سے ان زمینوں کی محافظ اور ان ماحولیاتی نظاموں کا حصہ رہی ہیں۔ ہزاروں خاندان اپنی آبائی زمینوں، چراگاہوں اور آبی وسائل سے محروم ہوئے ہیں، جبکہ قدرتی ندی نالوں، برساتی گزرگاہوں اور جنگلی حیات کے مسکنوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نتیجتاً پورے خطے کا ماحولیاتی توازن متاثر ہوا ہے اور کراچی اپنے قدرتی حفاظتی نظام سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔

اس صورتحال کا ایک اہم پہلو تیز رفتار شہری توسیع اور آبادی میں غیر متوازن اضافے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب قدرتی وسائل محدود ہوں اور منصوبہ بندی ماحولیاتی گنجائش کو نظرانداز کر دے تو زمین، پانی اور شناخت کے سوالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں زمین، وسائل اور اختیار سے متعلق سیاسی و سماجی مباحث شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مختلف حلقوں میں سندھ کے جغرافیائی، ثقافتی اور انتظامی مستقبل سے متعلق خدشات اور بحثیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں، جن کی جڑیں محض سیاست میں نہیں بلکہ وسائل، زمین اور ماحولیاتی انصاف کے سوالات میں پیوست ہیں۔

آج کراچی کے ساحلوں سے لے کر کھیرتھر کوہستان، ملیر، لیاری اور حب کے آبی نظاموں اور آگے سندھ ڈیلٹا تک پھیلا ہوا یہ عظیم خطہ کسی لسانی، انتظامی یا سیاسی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے، بلکہ اسے ایک مشترکہ ماحولیاتی، انسانی اور تہذیبی ورثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ اگر یہ پہاڑ، دریا، ساحل، چراگاہیں اور زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں تو نقصان صرف مقامی آبادیوں کا نہیں ہوگا بلکہ پورا سندھ اور کراچی اپنے قدرتی وجود، تاریخی شناخت اور مستقبل کے اہم ترین وسائل سے محروم ہو جائے گا۔

ملیر، گڈاپ، کاٹھور، گھگھر، دھابیجی اور کھیرتھر کے دامن میں واقع علاقے، جو کبھی کراچی کے قدرتی پھیپھڑے سمجھے جاتے تھے، آج رئیل اسٹیٹ کی بے ہنگم یلغار کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہاں زمینوں کی تبدیلی صرف جغرافیے کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک پورے ماحولیاتی اور ثقافتی منظرنامے کی تبدیلی ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ملیر دریا: ایک زندہ دریا سے پراپرٹی کوریڈور تک

ملیر دریا محض ایک برساتی نالہ نہیں تھا بلکہ کراچی کے آبی نظام کی ریڑھ کی ہڈی تھا۔ کھیرتھر اور اس سے ملحقہ پہاڑی سلسلوں سے آنے والا پانی ملیر کے راستے بہہ کر زیرزمین آبی ذخائر کو ری چارج کرتا تھا۔ اسی وجہ سے ملیر کے اطراف زرعی زمینیں آباد تھیں اور باغات کی ایک وسیع دنیا موجود تھی۔
مگر آج ملیر دریا پر قبضے، غیر قانونی تعمیرات، رئیل اسٹیٹ منصوبوں اور ریتی بجری کی بے تحاشا نکاسی نے اس کے قدرتی وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
دریا کے بستر سے ریت اور بجری نکالنا محض ایک تجارتی سرگرمی نہیں۔ یہ پورے آبی نظام کی تباہی ہے۔ جب دریا کی قدرتی ساخت تبدیل ہوتی ہے تو زیرزمین پانی کے ذخائر متاثر ہوتے ہیں، زمین کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے، سیلابی خطرات بڑھتے ہیں اور پورا ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ ملیر دریا کی تباہی دراصل کراچی کے آبی مستقبل کی تباہی ہے۔

دریاؤں اور ندیوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کا عالمی دن اور ہم ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری

 

بھٹو ایکسپریس وے، ایجوکیشن سٹی اور ترقی کا سوال

گزشتہ برسوں میں بھٹو ایکسپریس وے، ایجوکیشن سٹی اور دیگر بڑے منصوبوں کو ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سڑکیں یا تعلیمی ادارے نہیں بننے چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟
کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگوں کی زمینیں ختم ہو جائیں؟ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ قدرتی آبی راستے مسدود ہو جائیں؟ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں سال پرانے ماحولیاتی نظام کو کنکریٹ میں دفن کر دیا جائے؟

دنیا بھر میں جدید منصوبہ بندی اس اصول پر استوار ہوتی ہے کہ قدرتی آبی گزرگاہوں، چراگاہوں اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھا جائے، لیکن کراچی کے مضافاتی علاقوں میں اکثر اس کے برعکس منظر دکھائی دیتا ہے۔

کھیرتھر: سندھ کا زخمی پہاڑی قلعہ

کھیرتھر صرف پہاڑوں کا ایک سلسلہ نہیں بلکہ سندھ کے سب سے اہم تھذیبی اور ماحولیاتی خطوں میں سے ایک ہے۔

کھیرتھر نیشنل پارک تقریباً 3,000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر محیط ہے اور پاکستان کے بڑے محفوظ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں سندھی آئی بیکس، چنکارا، اڑیال، دھاری دار لگڑبھگے، بھیڑیے، مختلف اقسام کے عقاب، گدھ اور دیگر نایاب انواع پائی جاتی ہیں۔ یہ علاقہ سندھ اور بلوچستان کے درمیان ایک اہم حیاتیاتی راہداری کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

لیکن آج کھیرتھر غیر قانونی کان کنی، معدنیات کے بے تحاشا استخراج، شکار، زمینوں پر قبضوں اور پانی کی قلت جیسے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں پتھر، چونا پتھر اور دیگر معدنیات کے حصول کے لیے پہاڑوں کو مسلسل کاٹا جا رہا ہے۔

یہ عمل صرف پہاڑوں کو زخمی نہیں کرتا بلکہ ان سے وابستہ نباتات، جنگلی حیات، زیرزمین پانی اور مقامی چرواہا معیشت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

سمندر کوہستان اور کراچی کا ساحل

کراچی کا ساحل اور سمندر کوہستان بھی اسی بحران کا شکار ہیں۔ ساحلی پٹی پر صنعتی آلودگی، بندرگاہی سرگرمیوں، بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی ساحلی نظام میں مداخلت نے ماہی گیر برادریوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مگر شاید سب سے بڑا خطرہ سندھ ڈیلٹا کو لاحق ہے، جہاں دریا اور سمندر کے درمیان ہزاروں سال سے قائم توازن ٹوٹ رہا ہے۔

سندھ دریا اور ڈیلٹا کی خاموش موت

سندھ دریا صرف ایک دریا نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی بنیاد ہے۔

تاریخی طور پر سندھ دریا کا وسیع بہاؤ ڈیلٹا تک پہنچتا تھا اور سمندر کے مقابلے میں ایک قدرتی رکاوٹ کا کردار ادا کرتا تھا۔ لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے دریا کے پانی میں مسلسل کمی نے ڈیلٹا کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

پانی کا عالمی دن اور کراچی میں پانی کا بحران

 

تحقیقی مطالعات کے مطابق میٹھے پانی کی کمی کے باعث سمندری پانی مسلسل اندرونِ سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کئی تحقیقات میں خبردار کیا گیا ہے کہ سمندری پیش قدمی کے نتیجے میں زرعی زمینیں تباہ، مینگرووز متاثر اور مقامی آبادیوں کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے۔
بعض تحقیقی مطالعات کے مطابق ماضی میں سمندری پیش قدمی کی رفتار اتنی شدید رہی کہ روزانہ درجنوں ایکڑ زمین سمندر کے زیر اثر آ رہی تھی جبکہ گزشتہ دہائیوں میں مینگرووز کے بڑے حصے متاثر ہوئے۔

حالیہ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ سندھ ڈیلٹا کے علاقوں سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں کیونکہ کھاری پانی نے زراعت اور ماہی گیری دونوں کو متاثر کیا ہے۔ ”کیٹی بندر سے لیکر کارو چان، شاہ بندر اور چچ جہان خان بدین تک ڈیلٹا کی تباہی زمین کے ساتھ وہاں کے مقامی لوگوں کی زندگیاں آج بھیانک خطرے میں ہیں“

مینگرووز: سمندر اور زمین کے درمیان آخری دفاعی دیوار

سندھ ڈیلٹا کے مینگرووز دنیا کے بڑے خشک خطوں کے مینگرووز جنگلات میں شمار ہوتے ہیں اور تقریباً چھ لاکھ ہیکٹر کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ ہیں۔ یہ جنگلات ساحلی کٹاؤ کو روکتے، مچھلیوں کی افزائش میں مدد دیتے اور سمندری طوفانوں کے خلاف قدرتی دفاع فراہم کرتے ہیں۔
لیکن جب دریا کا پانی کم ہو جاتا ہے تو مینگرووز بھی کمزور پڑ جاتے ہیں، اور پھر سمندر مزید اندر تک پیش قدمی کرتا ہے۔

ماحولیاتی بحران یا ماحولیاتی ناانصافی؟

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سندھ کا بحران موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ یہ بات درست ہے، مگر مکمل سچ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟ کھیرتھر کے چرواہے، ملیر کے کسان، کراچی کے مضافاتی دیہات، ماہی گیر بستیاں اور سندھ ڈیلٹا کے باشندے وہ لوگ ہیں جن کا ماحولیاتی تباہی میں سب سے کم کردار ہے، سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف وہ معاشی ماڈل جو زمین کو محض سرمایہ، دریا کو محض پانی، پہاڑ کو محض معدنیات اور ساحل کو محض رئیل اسٹیٹ سمجھتا ہے، مسلسل طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سندھ میں ماحولیات کا سوال دراصل ماحولیاتی انصاف کا سوال بن چکا ہے۔

زمین کو بچانا، لوگوں کو بچانا ہے

ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کے موقع پر سندھ ہمیں ایک بنیادی سبق دیتا ہے۔ ماحولیات کو انسانوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ملیر دریا کی حفاظت صرف پانی کی حفاظت نہیں، کراچی کے مستقبل کی حفاظت ہے۔ کھیرتھر کا تحفظ صرف جنگلی حیات کا تحفظ نہیں، پورے خطے کے ماحولیاتی توازن کا تحفظ ہے۔ سندھ دریا اور ڈیلٹا کو پانی دینا صرف ایک ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی بقا کا سوال ہے۔

اگر ترقی کے نام پر دریا خشک، پہاڑ زخمی، ساحل تباہ اور مقامی لوگ بےدخل ہوتے رہے تو شاید ہم عمارتیں تو بنا لیں گے، مگر زندگی کو سہارا دینے والا قدرتی نظام کھو بیٹھیں گے۔۔اور جب فطرت ہار جاتی ہے تو آخرکار انسان بھی ہار جاتا ہے۔
___________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button