کیا ہم زندگی کے آخری بلبلے میں سانس لے رہے ہیں؟ ایکو سسٹم کی حیرت انگیز اور لرزہ خیز حقیقت
فطرت کے خاموش مناظر اور ہریالی کے سحر میں کھو جانا ہم سب کو ایک انجانے سکون سے بھر دیتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی اس ”حیات کے رقص“ کے پیچھے چھپے پیچیدہ نظام پر غور کیا ہے؟ جسے ہم سائنسی زبان میں ”ایکو سسٹم“ کہتے ہیں۔ یہ محض ایک خشک اصطلاح نہیں بلکہ…
قانون سازی نہیں، ریتی بجری کی چوری ہی رکوا دو!
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔ فطری…
منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی
منچھر جھیل صرف ایک آبی ذخیرہ نہیں، بلکہ سندھ کی تاریخ میں رچی بسی ایک زندہ تہذیب تھی، مگر آج یہ جھیل ایک ایسا کھلا زخم بن چکی ہے جس پر برسوں سے سرد مہری اور خاموشی کی پٹی باندھی جا رہی ہے۔ کبھی تقریباً اڑھائی سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ میٹھے پانی کی…
کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریتی بجری مائننگ: حرص و لالچ کا کھیل
کھیرتھر نیشنل پارک، ملیر اور جامشورو کے علاقوں میں ریتی بجری مائننگ نے ماحولیاتی تباہی کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر بھی سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف غیر قانونی مائننگ کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، دوسری طرف یہ پانی مزید کھارا اور…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی
ملیر کی زمین پر سندھ حکومت کی جانب سے جو منصوبہ “ایجوکیشن سٹی” کے نام سے شروع کیا گیا ہے وہ ملیر کی زمینوں پر قبضے کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ منصوبہ ریاستی و حکومتی اداروں اور کارپوریٹ مفادات کو ترقی اور علم جیسے خوبصورت الفاظ کے پردے میں ملیر کی زمینوں،…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین، ماحول اور مقامی ذریعہ معاش کا محاصرہ
سندھ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈپارٹمنٹ نے ملیر میں کراچی ایجوکیشن سٹی کے لیے مزید 2,817 ایکڑ زمین مختص کرنے کی پیش رفت کی ہے۔ اس توسیع میں وسیع زرعی رقبہ شامل ہے جس سے کراچی کی سب سے بڑی سبز پٹی کے ختم ہونے اور شہری خوراکی رسد کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔…
ملیر کی کالونائزیشن
ملیر میں آج جس قسم کی صورتحال ہے، جس طرح مقامی لوگوں سے ان کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں، ان کی تہذیب ،ثقافت، زبان اور وقار کو جس انداز میں ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے، اسے اگر ’ڈاکٹرائن آف ڈسکوری‘ اور ’ڈاکٹرائن آف ٹیرا نالیس‘ کے تناظر میں ملیر کی…