کیا ہم زندگی کے آخری بلبلے میں سانس لے رہے ہیں؟ ایکو سسٹم کی حیرت انگیز اور لرزہ خیز حقیقت

سنگت ڈیسک

فطرت کے خاموش مناظر اور ہریالی کے سحر میں کھو جانا ہم سب کو ایک انجانے سکون سے بھر دیتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی اس ”حیات کے رقص“ کے پیچھے چھپے پیچیدہ نظام پر غور کیا ہے؟ جسے ہم سائنسی زبان میں ”ایکو سسٹم“ کہتے ہیں۔ یہ محض ایک خشک اصطلاح نہیں بلکہ ”زندگی کا ایک ایسا نازک بلبلہ“ ہے جہاں پودے، جانور، موسم اور زمین کی ساخت مل کر بقا کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔

فطرت کے یہ ان دیکھے تانے بانے اس قدر مربوط ہیں کہ جب ایک پرندہ کسی درخت کا پھل کھا کر اس کے بیج بکھیرتا ہے، تو وہ صرف اپنی بھوک نہیں مٹاتا بلکہ ایک نئے جنگل کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے۔ اس تصور کو سب سے پہلے 1935 میں ماہرِ ماحولیات آرتھر ٹینسل نے پیش کیا، جس نے ہمیں بتایا کہ جاندار اور بے جان اجزاء ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔

55.5 کروڑ سالہ عظیم وراثت

یہ توازن کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ کروڑوں سال کی ریاضت ہے۔ 2015 میں برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا کے سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے انکشاف کیا کہ دنیا کا پہلا پیچیدہ ایکو سسٹم ’ٹرائی بریکیڈیم‘ (Tribrachidium) نامی جانداروں نے تشکیل دیا تھا۔ یہ حیرت انگیز نظام آج سے تقریباً 555 ملین سال (55.5 کروڑ سال) پہلے وجود میں آیا تھا۔ یہ حقیقت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جس توازن کو فطرت نے لاکھوں صدیوں میں سنوارا، ہم اسے کتنی تیزی سے پامال کر رہے ہیں۔

0.5% کا تضاد: آبی بقا اور نیلا سیارہ

یہ ایک لرزہ خیز حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے ’نیلے سیارے‘ پر رہتے ہیں جس کا 75 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے، لیکن باوجود اس کے ہم پیاس سے مر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کل پانی کا 97 فیصد حصہ نمکین ہے اور بقیہ میٹھے پانی کا بڑا حصہ گلیشیئرز میں قید ہے۔ انسانیت اور دیگر جانداروں کی ’آبی بقا‘ کا دارومدار محض 0.5 فیصد پانی پر ہے جو ندیوں، جھیلوں اور زیرِ زمین میسر ہے۔

ایسے میں ’بہتا ہوا پانی‘ (Lotic) ’ٹھہرا ہوا پانی‘ (Lentic) جیسے ایکو سسٹمز کا تحفظ محض ماحولیاتی نعرہ نہیں، بلکہ ہماری نسلوں کی زندگی کا سوال ہے۔

اندھیروں میں آباد جہان: ’ایفوٹک زون‘

سمندر کی 1000 میٹر سے زائد گہرائی میں ایک ایسی دنیا ہے جہاں سورج کی کرن کبھی نہیں پہنچی۔ اسے ’ایفوٹک زون‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں ‘ویمپائر سکویڈ‘، ’ڈمبو آکٹوپس‘ اور ’اینگلر فش‘ جیسے ہیبت ناک مگر حیرت انگیز جاندار بستے ہیں۔ یہاں زندگی سورج کے بغیر کیسے پنپتی ہے؟ یہ جاندار یا تو اوپر سے گرنے والے غذائی اجزاء پر گزارا کرتے ہیں یا سمندری تہہ میں موجود ’حرارتی سوراخوں‘ (Hydrothermal Vents) سے نکلنے والے کیمیکلز کے ذریعے ’کیمو سنتھیسس‘ کا عمل اپنا کر توانائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ زندگی کی آخری حدوں تک لڑنے کی بہترین مثال ہے۔

بدصورتی میں چھپی زندگی: فطرت کے صفائی کرنے والے

ہم اکثر پھپھوندی (Fungi) اور بیکٹیریا کو دیکھ کر گھن محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ ایکو سسٹم کے وہ گمنام ہیرو ہیں جن کے بغیر زندگی کا پہیہ رک جائے۔ یہ ڈی کمپوزرز یا ’کلین اپ کرو‘ مردہ مادے کو دوبارہ زندگی میں تبدیل کرتے ہیں۔

”ڈی کمپوزرز مردہ اجسام کا تجزیہ کر کے نیوٹرینٹ سائیکل (Nutrient Cycle) کو مکمل کرتے ہیں۔ ان کے بغیر زمین گندگی کا ڈھیر بن جائے اور مٹی اپنی زرخیزی کھو بیٹھے۔“

یہ ‘غیر مرئی ہیرو‘ ثابت کرتے ہیں کہ جسے ہم بدصورتی سمجھتے ہیں، وہ دراصل نئے جیون کی بنیاد ہے۔

ریڈ لسٹ: تباہی کے دہانے پر کھڑی دنیا

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے اعداد و شمار ایک سنگین وارننگ ہیں۔ اس وقت 1,571 سے زائد اقسام کے جاندار ‘انتہائی تشویشناک‘ کے زمرے میں ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 44,000 سے زائد انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 41 فیصد جل تھلیے (Amphibians) اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور 36 فیصد مونگے کی چٹانیں (Coral Reefs)، جو سمندری حیات کا گہوارہ ہیں، تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔

ڈوبتے شہر: جب ’حفاظتی ڈھال‘ ہی ختم ہو جائے

انسانی مداخلت اور بڑھتی ہوئی آبادی نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کی سطح کو 300 PPM سے بڑھا کر 400 PPM سے اوپر پہنچا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی گلوبل وارمنگ سے ممبئی اور کولکتہ جیسے بڑے شہروں کے ڈوبنے کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان شہروں کے گرد موجود ’ویٹ لینڈز‘ (Wetlands) کی تباہی ہے، جو کبھی ان کے لیے ’حفاظتی ڈھال‘ کا کام کرتے تھے اور سیلابی پانی کو جذب کرتے تھے۔

توازن کی واپسی کا سفر

آج بے لگام آبادی اور ترقی کی ہوس نے اس کروڑوں سال پرانے توازن کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ہم نے زمین، پانی اور فضا کو کچرے سے بھر دیا ہے، لیکن یاد رہے کہ ایکو سسٹم کی تباہی کا مطلب انسانیت کی اپنی تباہی ہے۔

توازن کا یہ بگاڑ برسوں پر محیط ہے، لہٰذا اس کی بحالی بھی کوئی ایک دو دن کا کام نہیں بلکہ ایک طویل سفر ہے۔

یہ سارے حقائق جان کر کیا آپ آج اپنی زندگی میں کوئی ایسی چھوٹی سی تبدیلی لا سکتے ہیں، چاہے وہ پانی کی بچت ہو یا پلاسٹک کا کم استعمال، جو اس ’زندگی کے بلبلے‘ کو ٹوٹنے سے بچانے میں اپنا حصہ ڈال سکے؟ آپ کی ایک چھوٹی سی کوشش اس عظیم توازن کی بحالی کا آغاز ہو سکتی ہے۔

____________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button