سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (پہلی قسط)
یہ دسمبر 1985ء کے آخری ہفتے کی ٹھنڈی رات کے ابتدائی پہر کا ذکر ہے۔ سندھ کے ساحلی گاؤں کے مغرب میں بنی سومرا دور کی درگاہ قرھیو بھنڈاری کے سالانہ میلے کے شب و روز میں، درگاہ کے شمال میں گھاس پھوس سے بنی اُس کے معتقدین کی تین دیواروں والی کئی جھونپڑیاں ہیں…
مانگ (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
سرکاری ہسپتال کھپرو کے مردہ خانے کے سامنے لوگوں کا جمگھٹا، دھول مٹی میں لت پت بال، چوٹی اور مانگ بھی، دھول اور ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اندر خاکروب، ڈاکٹر، مکھیوں کی بھن بھن۔ سندھ جنی، کسی کی لاج سب کا ناموس، کئی اجنبیوں کے سامنے اس کی لاش ننگی پڑی تھی۔ ٹیڑھے…
سوگوار دن (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
اس کا شوہر قبروں کے کتبے بناتا ہے۔ وہ ایک جوان عورت ہے اور قبرستان میں ہی رہتی ہے۔ وہ زیادہ بات نہیں کرتا لیکن لوگ کہتے ہیں کہ جب سے اس نے اس عورت سے شادی کی ہے، اس کے کاروبار میں بہت تیزی آ گئی ہے۔ جب بھی کسی کا انتقال ہو جائے،…
مصنوعی زیورات (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
مسٹر لینٹین اپنے محکمہ کے ایک آفیسر کے گھر استقبالیہ کی دعوت میں مدعو تھا۔ وہیں اس کی ملاقات ایک نوجوان لڑکی سے ہوئی اور اسی وقت وہ اس لڑکی کی محبت میں سر سے پیر تک ڈوب گیا۔ وہ ایک ٹیکس کلکٹر کی بیٹی تھی، جو کئی سال قبل انتقال کر چکا تھا۔ اب…
آخری سفر (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ کوئی غیر معمولی بات تو نہیں کہ کوئی رات کے پچھلے پہر ٹیکسی بلائے اور کہیں جانا چاہے۔ عام طور پر ٹیکسی چلانے والے اپنی گاڑی کے پاس ہی گھر کے آگے اس پتے پر بلانے والوں کے باہر نکلنے کا انتظار کرتے ہیں پر اس نے کبھی ایسی پابندیوں کو مانا نہیں تھا،…
آنسو برائے فروخت (عربی ادب سے منتخب افسانہ)
مجھے نہیں پتہ کہ خزنہ کے لیے کس طرح ممکن تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں مردوں کے لئے نوحہ خواں بھی تھی اور دلہنوں کے لئےآرائش گر بھی – جب مجھے پہلی دفعہ اس کو دیکھنے کا موقع ملا تو میں نے امی اور ان کی سہیلیوں سے اس کے بارے میں بہت…
پُل پر بیٹھا بوڑھا آدمی (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک بوڑھا، جس نے اسٹیل کے کناروں والی عینک پہنی ہوئی تھی اور جس کے کپڑے بہت گرد آلود تھے، سڑک کے کنارے بیٹھا تھا۔۔ یہاں دریا پر کشتیوں والا ایک پل تھا، چھکڑے، ٹرک، مرد عورتیں اور بچے اس پر سے گزر رہے تھے۔ چھکڑوں کو خچر کھینچ رہے تھے، جو پل کی ڈھلوان…
خامشی (قطری ادب سے منتخب افسانہ)
جھگڑے سے پہلے انہوں نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ دونوں انتہائی پست آواز میں بحث کر رہے تھے۔ بلکہ پست آواز کی بجائے سرگوشی کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔۔ ’خامشی‘ جس نے انہیں برسوں سے جوڑ رکھا تھا اور اس وقت اس کی جان لیوا موجودگی اپنا آپ منوا رہی تھی۔…