ریشمی جُرابوں کا ایک جوڑا
ننھی مسز سمرس کو ایک روز غیر متوقع طور پر پندرہ ڈالر کے مالکانہ حقوق حاصل ہو گئے۔ اس کے نزدیک یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کا پھٹا پرانا بٹوہ جس طرح ان پیسوں سے ٹھنسا ہوا تھا، اس نے مسز سمرس کو عجیب سی تسکین دی۔ ایسا لطف، جس سے وہ سالہا سال…
ڈپٹی کلکٹر (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
شکلدیپ بابو قریب ایک گھنٹے بعد واپس لوٹے۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے برآمدے کے کمرے میں جھانکا، کوئی موکل نہیں تھا اور محرر صاحب بھی غائب تھے۔ وہ اندر چلے گئے اور اپنے کمرے کے سامنے برآمدے میں کھڑے ہو کر بندر کی مانند آنکھیں مٹکا مٹکا کے انہوں نے…
چابی (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
سہ پہر تین بجے بیسی پوپکنز نے باہر جانے کے لیے تیاری کا آغاز کیا۔ یہ شدید گرمی کے دنوں میں خصوصاً ایک مشکل مرحلہ تھا۔ سب سے پہلے وہ اپنے موٹے اور بھدے جسم کو (کارسٹ) تنگ شمیض کی مدد سے مطلوبہ شکل میں لائی۔ پھر لباس پہنا۔ اس کے بعد گھر میں رنگے…
سال 2053ء کا ایک راہ گیر (امریکی ادب سے انتخاب)
نومبرکی ایک خنک شام، جب شہر میں ابھی آٹھ بجے تھے، وہ گرم بجری کی بنی ہوئی سڑک پر، جس پر خاموشی چھائی تھی، چہل قدمی کرنے کے لئے روانہ ہوا۔ جیبوں میں ہاتھ ڈالے، اردگرد پھیلے سبزے سے آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہوئے اپنے راستے پر چلتا ہوا یہ مسٹر لیونارڈمیڈ تھا…
ایک ہزار ڈالر (انگریزی ادب سے انتخاب)
”یہ رہی ایک ہزار ڈالر کی رقم!“ وکیل ٹالمین نے سنجیدہ اور بھاری لہجے میں کہا نوجوان جیلین نے نوٹوں کے ہلکے سے لفافے کو چھوا اور قہقہہ لگایا، ”یہ تو بہت ’غیر معمولی‘ رقم ہے۔“ اس نے نرمی اور صراحت سے وکیل کو کہا ”اگر یہ رقم دس ہزار ڈالر ہوتی تو کوئی بھی…
انیتا
فرنشڈ اپارٹمنٹس کے ایک بڑے بلاک کے سب سے سستے کمرے میں میڈیکل کے تیسرے سال کا طالب علم یعنی کہ اسٹیفین کلچکوف ٹہل ٹہل کر جانفشانی سے ایناٹومی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ اس جانفشانی کے مارے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اور پسینہ اس کی پیشانی پر چمک رہا تھا…
اسپائڈر مین (افسانہ)
ایک بار پھر وہ شہر میں کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑ رہا ہے، زندگی کے قد سے بھی بڑا پراسرار، سرخ و نیلگوں نقاب میں اپنے جالے تانتے ہوئے جالوں کے الجھاوں میں اس طرح سے گزرتے ہوئے جیسے اس شہر کا آسمان بھی بس ایک دیوار ہو جس پر وہ سیدھا چلتا چلا آئے۔…
رونے کی آواز (افسانہ)
فلاور انڈر ٹری اِز فری سامنے والی کرسی پر بیٹھا ابھی ابھی وہ گا رہا تھا۔ مگر اب کرسی کی سیٹ پر اس کے جسم کے دباؤ کا نشان ہی باقی ہے۔ کتنا اچھا گاتا ہے وہ۔۔۔ مجھے مغربی موسیقی اور شاعری سے کچھ ایسی دلچسپی تو نہیں ہے، مگر وہ کم بخت گاتا ہی…