Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

اسپائڈر مین (افسانہ)

By Akhtar Rasool
نومبر 2, 2022 2 Min Read
0

ایک بار پھر وہ شہر میں کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑ رہا ہے،

زندگی کے قد سے بھی بڑا

پراسرار، سرخ و نیلگوں نقاب میں

اپنے جالے تانتے ہوئے

جالوں کے الجھاوں میں اس طرح سے گزرتے ہوئے

جیسے اس شہر کا آسمان بھی

بس ایک دیوار ہو

جس پر وہ سیدھا چلتا چلا آئے۔

وہ بند گلیوں

کھردری، سنگلاخ دیواروں

کھپریل کی چھتوں پر

چلتا ہوا آتا ہے

ایک زقند میں شہر کی ایک حد سے

دوسری حد تک پہنچ جاتا ہے

اور اَن ہونے واقعات شہر میں سامنے آتے رہتے ہیں

جلتی ہوئی بالکنی سے گر کر ایک بڑھیا دم توڑ گئی

موسلادھار بارش میں اندھی گلی میں چار شرابی

ایک لڑکی کے کپڑے دھجی دھجی کرتے رہے

چیختی چنگھاڑتی چار گاڑیاں

ٹکرانے سے دو بچے کچلے گئے

ایک گاڑی کے ڈرائیور نے

پستول کے جواب میں

چابی نہیں دی

اس کے منھ سے بھل بھل نکلتے گاڑھے خون نے

گاڑی کے رنگین سیٹ کو رز پر دھبے ڈال دیے

بینک کا خزانہ لوٹ لیا گیا

بم کے دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارت سے

دھواں اٹھتا رہا، لوگ بین کرتے رہے۔

وہ شہر کے لیے خطرہ ہے یا مسیحا

اخباری سرخیاں اب بھی اپنے آپ سے پوچھتی ہیں۔

وہ کہیں پس منظر میں ہے،

کسی تصویر کی دھندلی تفصیل میں،

جاگتی رہتی ہیں اس کی ہزاروں آنکھیں،

گھومتی رہتی ہیں،

رینگتی رہتی ہیں اس کی ٹانگیں،

ہاتھوں سے جالے بنتے رہتے ہیں،

شہر کی عمارتوں کے اوپر،

وہ آسمان کی حدوں میں نقاب اوڑھے بیٹھا،

جالا بنتا رہتا ہے،

انتظار کرتا رہتا ہے،

کب آنکھ جھپکے،

وہ اپنا وار کرے،

سارا شہر سانس روکے دیکھ رہا ہے،

خلق خدا نعرے لگا رہی ہے،

’’اسپائڈر مین، اسپائڈر مین! وی وانٹ یو!

تجھے مکھیوں کے شہر کا سلام ہو!

اے صاحبِ عنکبوت، تو ہی ہمارا امام ہو!‘‘

Tags:

FictionLiteratureUrdu
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کراچی کا ایک خاموش رضاکار: غلام رسول کلمتی

Next

لانگ مارچ کے دوران کنٹینر کے قریب فائرنگ، عمران خان زخمی، ایک جاں بحق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme