ٹائیلٹ (جنوبی افریقی ادب سے منتخب افسانہ)
کسی وقت میں سوچتی مجھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اچھی لڑکی بننا چاہیے جو اپنے بڑوں کی ہر بات دھیان سے سنتی ہے۔ میری ماں کی خواہش تھی کہ میں نرس یا اُستانی بنوں۔ لوگ اِن شعبوں کو اچھا سمجھتے۔ مجھے معلوم نہیں لیکن میں کچھ اور کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اداکاری کے…
سوگوار دن (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
اس کا شوہر قبروں کے کتبے بناتا ہے۔ وہ ایک جوان عورت ہے اور قبرستان میں ہی رہتی ہے۔ وہ زیادہ بات نہیں کرتا لیکن لوگ کہتے ہیں کہ جب سے اس نے اس عورت سے شادی کی ہے، اس کے کاروبار میں بہت تیزی آ گئی ہے۔ جب بھی کسی کا انتقال ہو جائے،…
سرخ موت (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
سارے دیس پر سرخ موت کا سایہ تھا۔۔ سرخ موت، شہر شہر گلی گلی گھوم رہی تھی۔۔ کوئی اس سے محفوظ نہ تھا۔۔ کسی قاتل کی کبھی کوئی ایسی دہشت نہ چھائی ہوگی، نہ کوئی جلاد ایسا سفاک ہوا ہوگا۔۔ سرخ موت آناً فاناً وار کرتی، اچانک اور ناگہانی۔۔ اس کے شکار ہونے والوں کو…
افواہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے کی انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ جارج ولیمز کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے سیم بلنگز کا نام بطور خزانچی پیش کر دیا۔ حیرت کی بات یہ کہ سب لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کی تائید کی اور وہ بلا مقابلہ ہی خزانچی بن گیا۔ یہ ایندروسکوگن…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…
ایک جوتشی کا دن (بھارتی ادب سے منتخب افسانہ)
حسبِ معمول بہت پابندی سے دوپہر کے وقت اس نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا پیشہ ورانہ ساز و سامان پھیلایا، جو کہ ایک درجن کوڑیوں، ایک چوکور کپڑے کے ٹکڑے، جس پر مبہم اور پراسرار زائچے بنے ہوئے تھے، ایک بیاض اور تاڑ کی چھال کی لکھی ہوئی تختیوں کے بنڈل پر مشتمل…
سفاک ماں (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
میں پندرہ سال بعد موسم خزاں میں شکار کھیلنے کے لیے ’ویر لون‘ (فرانس کا ایک قصبہ) واپس آیا۔ اپنے دوست سرول کے ہاں قیام کیا۔ اس نے اپنی گاؤں والی حویلی، جسے پروشیائی تباہ کر گئے تھے، دوبارہ تعمیر کرلی تھی۔ میں اس علاقے کا دلدادہ تھا۔دنیا میں کچھ جگہیں ایسی…
سرکس (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
لکڑی کے ستونوں پر رکھے ہوئے لمبے تختے پہاڑ کی طرح اوپر اٹھتے چلے گئے تھے، اور بیضوی شکل میں چاروں طرف اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ دیکھ کر بندہ چکرا جائے۔ لوگ ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے تھے۔ ڈائسی نے کہا ”یوں قریب قریب بیٹھے ہیں، جیسے کتے کے کان پر جوئیں۔“ اس نے…