صرف ایک چھوٹا سا پتّھر (نارویجین ادب سے منتخب افسانہ)
اتوار کی سہ پہر کو وہ دونوں اکثر سڑک کے کنارے کنارے چہل قدمی کرتے دیکھے جاتے تھے۔ وہ ابھرے گالوں اور چھوٹی ناک والی، چھوٹے قد کی فربہ جسم لڑکی تھی۔ وہ دبلا پتلا اور محنتی لڑکا تھا۔دونوں خاموشی سے ایک دوسرے پر اعتماد کے جذبہ میں سرشار چلتے جاتے، چلتے چلے…
فلسفہِ عمل (افسانہ)
سر موہن لال نے ریلوے اسٹیشن کی فرسٹ کلاس انتظار گاہ کے آئینہ میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی۔ آئینہ چونکہ ہندوستان میں بنا تھا، لہٰذا اس کے پیچھے لگا سرخ آکسائیڈ (red oxide) جگہ جگہ سے نکل چکا تھا اور آئینے کی بیرونی نیم شفاف سطح پر آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئی…
غیر معمولی یادداشت والا شخص (سوئس ادب سے منتخب افسانہ)
میں ایک شخص کو جانتا تھا، جسے سارا ٹائم ٹیبل زبانی یاد تھا۔ کیونکہ واحد شے جو اس کی خوشی کا سبب تھی، وہ ریل گاڑی تھی۔ وہ اپنا وقت ریلوے اسٹیشن پر گاڑیوں کو آتے اور جاتے ہوئے دیکھنے میں گزارا کرتا تھا۔ وہ حیرت بھری نظروں سے ڈبوں، انجنوں کی طاقت اور پہیوں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (اکیسویں قسط)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی؛ ”راستے میں بہت سی جگہوں کے پرانے لداخی طرز کے نام اب تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ مثلاً ’پرکوٹا‘ اب ’مہدی آباد‘ ہے، ’گڈی کاسڈو‘ اب ’گڈی خاد‘ ہے اسی طرح ’وداشا‘ اب ’چٹانگ‘ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اولڈنگ بھی نیا نام ہے پرانا نام ’اول…
خندہ فروش (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ میں کیا کام کاج کرتا ہوں تو سراسیمگی مجھے جکڑ لیتی ہے۔ میں سرخ لال ہو جاتا ہوں، ہکلاتا ہوں، حالانکہ میں ایک متوازن مزاج آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ میں حسد کرتا ہوں ان لوگوں سے، جو یہ کہہ سکتے ہیں: ’میں معمار ہوں‘ مجھے…
جوئیں (ڈنمارک کے زیر انتظام، نیم خود مختار جزائر فیرو کی ایک کہانی)
لِنگوریہ سے تھوڑی دور شمال میں، ڈھلوان کے سب سے زیادہ مضبوط حصے پر ایک تنہا مکان ہے اور اِس گھر کے آس پاس کھیتیاں ہیں۔ یہاں کلور اور اُس کے والدین رہتے تھے۔ کلور جب بیس سال کا تھا تو اس کی ماں فوت ہو گئی تھی اور اس کا باپ بستر پر جا…
دو دوست (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
پیرس محاصرے میں تھا۔قحط زدہ تھا۔ محسوس ہوتا تھا جیسے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چھتوں پر سے چرند پرند غائب ہو چکے تھے۔۔ اور شہر کے گٹر خشک ہو چکے تھے۔ لوگوں کو جو ملتا، کھا لیتے۔ جنوری کی ایک چمکیلی صبح جناب موریسوٹ، جو پیشے کے لحاظ سے گھڑی ساز تھا، لیکن…
جنگ کی چھاؤں تلے (نائجیرین ادب سے منتخب افسانہ)
اس دن تین فوجی گاؤں آئے۔۔ ان کو دیکھ کر بکریاں اور مرغیاں تتر بتر ہو گئیں۔۔ وہ بار گئے اور کھجور کی شراب کا آرڈر دیا۔۔ وہ اڑتی مکھیوں کے درمیان شراب پیتے رہے۔۔۔ ’اموو‘ کھڑکی میں بیٹھا باپ کے جانے کا منتظر تھا اور انہیں دیکھتا جا رہا تھا۔۔ باپ بیٹے نے…