کراچی کا ماضی
آج میں آپ کو ڈیڑھ سو برس پیچھے لے جانا چاہتا ہوں۔ آپ کو ماضی کی سیر کرانا چاہتا ہوں۔ آپ کو ویزا کی یا پاسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ گزرا ہوا کل دیکھنے کے لیے آپ کو کسی قسم کا ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیتے ہوئے ادوار کی طرف ہوائی جہاز،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط73)
کھانا کھانے کے بعد میں جھیل کے کنارے اکیلا ہی چلا آیا ہوں، گہری اور وسیع جھیل میں ہلکی ہلکی موجیں دھیمے سروں میں گنگناتی محسوس ہو رہی ہیں۔ کشتیاں سطح آب پر بگلوں کی طرح سر اٹھائے محو سفر ہیں، دور مچھلیاں پکڑنے والے مچھیرے اپنے جال تھامے اونچے سروں میں گا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)
۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط65)
سندھو بتاتا ہے ”میرے ذریعہ تجارت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے کنارے سرکش، لڑاکے اور قانون شکن قبائل آباد تھے اور تجارتی نقطہ نگاہ سے سفر کرنے والے قافلے خود کو کبھی محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ یہ قبائل اس قدر سرکش اور لڑاکے تھے کہ سکندر اعظم کے بہت…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط62)
سندھو بتاتا ہے ”معصوم شاہ مینار کے علاوہ میرے کنارے 1934ء میں تعمیر کی گئی کنہیا لال کوٹج (آج کی ملک حویلی) اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے دور سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر قابلِ ذکر مقامات میں ہندو راج کی عمارات کالی دیوی کا آستان، سادھ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط60)
ہم کشمور اور گڈو بیراج کو پیچھے چھوڑتے روہڑی کو رواں ہیں۔بایک سو ساٹھ (160) کلو میٹر کی یہ مسافت انشاءاللہ ہم اڑھائی گھنٹے میں طے کریں گے۔سندھو لمبی خاموشی توڑتے بولا؛ ”سنو سیاحو! کیا تم میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ مجھ پر کُل کتنے بیراجز تعمیر کئے گئے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…