شاہ فیصل کالونی کی مختصر تاریخ
قیام پاکستان سے پہلے کا ڈرگ روڈ یہ علاقہ دراصل کراچی کی ایک مشہور اور معروف سڑک ڈرگ روڈ کے نام سے موسوم تھا۔ یہ سڑک ایک انگریز کرنل ڈرگ کے نام سے منسوب تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اس سڑک کے دونوں جانب فوجیوں کے لیے بیرکس اور اسٹور تعمیر کیے گئے تھے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط44)
جی ٹی روڈ علی الصبح سنسان ہے اور اس کے کنارے وقت کی دھول میں چھپتی ’بہرام کی بارہ دری‘ اشوک اعظم کے دور کے اسٹوپاز، شیر شاہ سوری کی ڈاک چوکی پر بھی ویرانی کا ہی ڈیرہ ہے۔ اس شاہراہ سے گزرنے والے چند ہی لوگ ہوں گے، جن کی توجہ یہ مٹتی گرتی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط36)
”ہندو بنیاد پرست اور برطانوی دائیں بازو کی تحریک اس خیال سے متفق ہے کہ آریائی مغربی سمت سے دریائے گنگا کے ذریعے روانہ ہوئے اور دنیا پر اپنی زبان کے بل بوتے پر ہی قابض ہوئے تھے۔ ان بنیاد پرست ہندوؤں کو جب بیسویں صدی میں بھارت پر حکمرانی کا موقع ملا تو…
کیا حکمرانوں کا لالچ تباہ ہوتے کھیرتھر نیشنل پارک کے بعد اب کارونجھر کے تاریخی پہاڑ بھی کھا جائے گا؟
پہاڑ صرف نظارہ کرنے کے لیے ایک منظر نہیں، بلکہ وہ سیارے کی زمینی سطح کا 22 فیصد احاطہ کرتے ہیں اور پودوں، جانوروں اور تقریباً ایک ارب انسانوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ اہم وسائل جیسے تازہ پانی، خوراک اور یہاں تک کہ قابل تجدید توانائی بھی فراہم…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط35)
سندھو کچھ خاموشی کے بعد داستان آگے بڑھانے لگا ہے، ”ہم پٹن سے تقریباً اڑتیس (38) کلو میٹر دور ’بشام‘ پہنچے ہیں۔ شانگلہ کا ضلعی ہیڈ کوراٹر ایک اہم تعلیمی و تجارتی مرکز ہے۔ آج کے سوات اور رگ وید کا ’اودیانہ‘۔ مقدونیہ کا سکندر بھی یہاں فوج سمیت اترا تھا۔…
کورنگی کی مختصر ترین تاریخ
سب سے پہلے کچھ ذکر کورنگی کے نام کا۔۔ کورنگی کے معنی ہندی زبان میں الائچی کے ہیں۔ اس نام کی مناسبت سے دو مفروضے قائم کیے جاسکتے ہیں. ایک تو یہ کہ کورنگی کی بندرگاہ سے کسی زمانے میں الائچی کا کاروبار ہوتا ہوگا یا پھر یہاں الائچی کی کاشت ہوتی ہوگی۔ مگر یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط34)
اب ہم خوشحال خاں خٹک کی سرزمین پر ہیں۔۔ گل گنٹردہ دتورے، کہ کابک دے کہ کشمیر۔ میٹرنی دی چہ یادیگی، پہ سمندر وہم پہ دلیر۔۔ (خوشحال خاں خٹک) (فتح تلوار کی مرہونِ منت ہے چاہے کابل ہو یا کشمیر۔ فاتح اور بہادری کو لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اپنے گیتوں میں بھی اور…